Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
ذَٰلِكُمۡ وَأَنَّ ٱللَّهَ مُوهِنُ كَيۡدِ ٱلۡكَٰفِرِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
یہ معاملہ تو تمہارے ساتھ ہے اور کافروں کے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ اللہ ان کی چالوں کو کمزور کرنے والا ہے
English (Sahih International)
That [is so], and [also] that Allah will weaken the plot of the disbelievers
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 18 ذٰلِکُمْ وَاَنَّ اللّٰہَ مُوْہِنُ کَیْدِ الْکٰفِرِیْنَ ۔یہ گویا اہل ایمان اور کفار دونوں کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے۔ اس کے بعد صرف کفار سے خطاب ہے۔ ابو جہل کو بحیثیت سپہ سالار اپنے لشکر کی تعداد ‘ اسلحہ اور سازو سامان کی فراوانی کے حوالے سے پورا یقین تھا کہ ہم مسلمانوں کو کچل کر رکھ دیں گے۔ چناچہ انہوں نے پہلے ہی پراپیگنڈا شروع کردیا تھا کہ معرکہ کا دن یوم الفرقان ثابت ہوگا اور اس دن یہ واضح ہوجائے گا کہ اللہ کس کے ساتھ ہے۔ اللہ کو تو کفار بھی مانتے تھے۔ چناچہ تاریخ کی کتابوں میں ابو جہل کی اس دعا کے الفاظ بھی منقول ہیں جو بدر کی رات اس نے خصوصی طور پر اللہ تعالیٰ سے مانگی تھی۔ اس رات جب ایک طرف حضور اکرم ﷺ دعا مانگ رہے تھے تو دوسری طرف ابو جہل بھی دعا مانگ رہا تھا۔ اس کی دعا حیرت انگیز حد تک موحدانہ ہے۔ اس دعا میں لات ‘ منات ‘ عزیٰ اور ہبل وغیرہ کا کوئی ذکر نہیں ‘ بلکہ اس دعا میں وہ براہ راست اللہ سے التجاکر رہا ہے : اللّٰھم اقطعنا للرحم فاحنہ الغداۃ کہ اے اللہ جس شخص نے ہمارے رحمی رشتے کاٹ دیے ہیں ‘ کل تو اسے کچل کر رکھ دے۔ اس دعا سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ ابو جہل کا حضور ﷺ پر سب سے بڑا الزام یہ تھا کہ آپ ﷺ کی وجہ سے قریش کے خون کے رشتے کٹ گئے تھے۔ مثلاً ایک بھائی مسلمان ہوگیا ہے اور باقی کافر ہیں ‘ تو نہ صرف یہ کہ ان میں اخوت کا رشتہ باقی نہ رہا ‘ بلکہ وہ ایک دوسرے کے دشمن بن گئے۔ اسی طرح اولاد ماں باپ سے اور بیویاں اپنے شوہروں سے کٹ گئیں۔ چونکہ اس عمل سے قریش کی یک جہتی ‘ طاقت اور ساکھ بری طرح متاثر ہوئی تھی ‘ اس لیے سب سے زیادہ انہیں اسی بات کا قلق تھا۔ بہر حال ابوجہل سمیت تمام قریش کی خواہش تھی اور وہ دعا گو تھے کہ اس چپقلش کا واضح فیصلہ سامنے آجائے۔ ان کی اسی خواہش اور دعا کا جواب یہاں دیا جا رہا ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 18 and 19.
روایات میں آتاہے کہ جب بدر کا معرکہ گرم ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے دعا کرتے ہوئے یہ الفاظ نکلے يَا رَبُّ إِنْ تَهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةُ فَلَنْ تُعْبَدَ فِي الْأَرْضِ أَبَدًا (دلائل النبوۃ للبیہقی، جلد3، صفحہ
79
)۔ یعنی، اے میرے رب، اگر یہ جماعت ہلاک ہوگئی تو کبھی زمین پر تیری پرستش نہ ہوگی۔ پھر آپ نے اپنے ہاتھ میں مٹھی بھر خاک لی اور اس کو مشرکین کی طرف پھینکتے ہوئے کہاشَاهَتِ الْوُجُوهُ (مسند احمد، حدیث نمبر 2762)۔ یعنی،چهرے بگڑ جائیں۔ اس کے بعد کافروں کے لشکر کا یہ حال ہوا جیسے سب کی آنکھوں میں ریت پڑ گئی ہو۔ چنانچہ مسلمانوں نے نہایت آسانی سے جس کو چاہا قتل کیا اور جس کو چاہا گرفتار کرلیا۔
یہ اللہ تعالیٰ کا ذمہ ہے کہ وہ اہلِ ایمان کی مدد کرتا ہے۔ ان کے دشمن خواہ کتنی ہی سازش کریں وہ ان کی سازشوں کو اپنی تدبیروں سے بے اثر کردیتا ہے۔ وہ ان کو مغلوب کرکے اہل ایمان کو ان کے اوپر غالب کردیتاہے۔ مگر ایسا کب ہوتا ہے۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب کہ اہلِ ایمان اپنے ارادہ کو خدا کے ارادہ میں اس طرح ملا دیں کہ خدا کی منشا اور اہلِ ایمان کی منشا دونوں ایک ہو جائے۔ جب بندہ اس طرح اپنے آپ کو خدا کے مطابق کرلیتاہے تو جو کچھ خدا کا ہے وہ اس کا ہو جاتا ہے کیوں کہ جو کچھ اس کا ہے وہ خدا کو دے چکا ہوتاہے۔
بد رکے ليے روانگی سے پہلے مکہ کے سردار بیت اللہ گئے اور کعبہ کے پردہ کو پکڑ کر یہ دعا کی خدایا، اس کی مدد کر جو دونوں لشکروں میں سب سے اعلیٰ ہو، جو دونوں گروہوں میں سب سے معزز ہو، جو دونوں قبیلوں میں سب سے بہتر ہو (اللَّهُمَّ انْصُرْ أَعْلَى الْجُنْدَيْنِ، وَأَكْرَمَ الْفِئَتَيْنِ، وَخَيْرَ الْقَبِيلَتَيْنِ )تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ
33
۔ بد رکی لڑائی میں سرداران مکہ کو کامل شکست اور اہلِ ایمان کو کامل فتح ہوئی۔ اس طرح خود سرداران مکہ کے معیار کے مطابق یہ ثابت ہوگیا کہ خدا کے نزیک اعلیٰ واشرف گروہ وہ نہیں ہیں بلکہ اہلِ اسلام ہیں۔ اس کے باوجود انھوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔ جو لوگ ایسا کریں ان کے ليے آخرت میں سخت ترین عذاب ہے اور اسی کے ساتھ دنیا میں بھی۔
’’دونوں میں جو سب سے اعلیٰ اور سب سے اشرف ہو اس کو فتح دے‘‘— یہ بظاہر دعا تھی مگر حقیقۃً وہ اپنے حق میں پُرفخر اعتماد کا اظہار تھا۔ اس کے پیچھے ان کی یہ نفسیات کام کررہی تھی کہ ہم کعبہ کے پاسبان ہیں۔ ہم ابراہیم واسماعیل سے نسبت رکھنے والے ہیں۔ جب ہمارے ساتھ اتنی بڑی فضیلتیں جمع ہیں توجیت بہر حال ہماری ہونی چاہیے۔ مگر خدا کے یہاں ذاتی عمل کی قیمت ہے، نہ کہ خارجی انتسابات کی۔ خارجی انتساب خواہ وہ کتنا ہی بڑا ہو آدمی کے کچھ کام آنے والا نہیں۔