Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
يَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلۡأَنفَالِۖ قُلِ ٱلۡأَنفَالُ لِلَّهِ وَٱلرَّسُولِۖ فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَصۡلِحُواْ ذَاتَ بَيۡنِكُمۡۖ وَأَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
تم سے انفال کے متعلق پوچھتے ہیں؟ کہو “یہ انفال تو اللہ اور اُس کے رسُولؐ کے ہیں، پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو اور اللہ اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت کرو اگر تم مومن ہو
English (Sahih International)
They ask you, [O Muhammad], about the bounties [of war]. Say, “The [decision concerning] bounties is for Allah and the Messenger.” So fear Allah and amend that which is between you and obey Allah and His Messenger, if you should be believers
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
This commentary covers ayaat 1 and 2.
آیت 1 یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ ط قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَالرَّسُوْلِ ج فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِکُمْص وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗٓ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ یہاں مال غنیمت کے لیے لفظ انفال استعمال کیا گیا ہے۔ انفال جمع ہے نفل کی اور نفل کے معنی ہیں اضافی شے۔ مثلاً نماز نفل ‘ جسے ادا کرلیں تو باعث ثواب ہے اور اگر ادا نہ کریں تو مواخذہ نہیں۔ اسی طرح جنگ میں اصل مطلوب شے تو فتح ہے جب کہ مال غنیمت ایک اضافی انعام ہے۔ جیسا کہ تمہیدی گفتگو میں بتایا جا چکا ہے کہ غزوۂ بدر کے بعد مسلمانوں میں مال غنیمت کی تقسیم کا مسئلہ سنجیدہ صورت اختیار کر گیا تھا۔ یہاں ایک مختصر قطعی اور دو ٹوک حکم کے ذریعے سے اس مسئلہ کی جڑ کاٹ دی گئی ہے اور بہت واضح انداز میں بتادیا گیا ہے کہ انفال کل کے کل اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ملکیت ہیں۔ اس لیے کہ یہ فتح تمہیں اللہ کی خصوصی مدد اور اللہ کے رسول ﷺ کے ذریعے سے نصیب ہوئی ہے۔ لہٰذا انفال کے حق دار بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی ہیں۔ اس قانون کے تحت یہ تمام غنیمتیں اسلامی ریاست کی ملکیت قرار پائیں اور تمام مجاہدین کو حکم دے دیا گیا کہ انفرادی طور جو چیز جس کسی کے پاس ہے وہ اسے لا کر بیت المال میں جمع کرا دے۔ اس طریقے سے سب لوگوں کو zero level پر لا کر کھڑا کردیا گیا اور یوں یہ مسئلہ احسن طور پر حل ہوگیا۔ اس کے بعد جس کو جو دیا گیا اس نے وہ بخوشی قبول کرلیا۔اگلی آیات اس لحاظ سے بہت اہم ہیں کہ ان میں بندۂ مومن کی شخصیت کے کچھ خدوخال بیان ہوئے ہیں۔ مگر ان خدوخال کے بارے میں جاننے سے پہلے یہ نکتہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ مؤمن اور مسلمان دو مترادف الفاظ یا اصطلاحات نہیں ہیں۔ قرآن ان دونوں میں واضح فرق کرتا ہے۔ یہ فرق سورة الحجرات کی آیت 14 میں اس طرح بیان ہوا ہے : قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّاط قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰکِنْ قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا وَلَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ ط اے نبی ﷺ ! یہ بدو لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں ‘ ان سے کہہ دیجیے کہ تم ایمان نہیں لائے ہو ‘ بلکہ یوں کہو کہ ہم مسلمان ہوگئے ہیں جبکہ ایمان ابھی تک تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے۔ اسلام اور ایمان کا یہ فرق اچھی طرح سمجھنے کے لیے ارکان اسلام کی تفصیل ذہن میں تازہ کرلیجئے جو قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا کا مرحلۂ اولیٰ طے کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رض سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ : شَھَادَۃِ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ وَاِقَام الصَّلَاۃِ وَاِیْتَاء الزَّکَاۃِ وَحَجِّ الْبَیْتِ وَصَوْمِ رَمَضَانَ 1 اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ‘ نماز قائم کرنا ‘ زکوٰۃ ادا کرنا ‘ بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔یہ پانچ ارکان اسلام ہیں ‘ جن سے ہر مسلمان واقف ہے۔ مگر جب ایمان کی بات ہوگی تو ان پانچ ارکان کے ساتھ دو مزید ارکان اضافی طور پر شامل ہوجائیں گے ‘ اور وہ ہیں دل کا یقین اور عمل میں جہاد۔ چناچہ ملاحظہ ہو سورة الحجرات کی اگلی آیت میں بندۂ مؤمن کی شخصیت کا یہ نقشہ : اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا باللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَجَاہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِط اُولٰٓءِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوْنَ مؤمن تو بس وہ ہیں جو ایمان لائیں اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر ‘ پھر ان کے دلوں میں شک باقی نہ رہے اور وہ جہاد کریں اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں۔ صرف وہی لوگ اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہیں۔ یعنی کلمہ شہادت پڑھنے کے بعد انسان قانونی طور پر مسلمان ہوگیا اور تمام ارکان اسلام اس کے لیے لازمی قرار پائے۔ مگر حقیقی مؤمن وہ تب بنے گا جب اس کے دل کو گہرے یقین ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا والا ایمان نصیب ہوگا اور عملی طور پر وہ جہاد میں بھی حصہ لے گا۔ بندۂ مؤمن کی اسی تعریف definition کی روشنی میں اہل ایمان کی کیفیت یہاں سورة الانفال میں دو حصوں میں الگ الگ بیان ہوئی ہے۔ وہ اس طرح کہ حقیقی ایمان والے حصے کی کیفیت کو آیت 2 اور 3 میں بیان کیا گیا ہے ‘ جبکہ اس کے دوسرے جہاد والے حصے کی کیفیات کو سورت کی آخری آیت سے پہلے والی آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کی مثال ایسے ہے جیسے ایک پرکار compass کو کھول دیا گیا ہو ‘ جس کی ایک نوک سورت کے آغاز پر ہے پہلی آیت چھوڑ کر جبکہ دوسری نوک سورت کے آخر پر ہے آخری آیت چھوڑ کر۔ اس وضاحت کے بعد اب ملاحظہ ہو بندۂ مؤمن کی تعریف definition کا پہلا حصہ :
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 1 to 4.
سورہ انفال جنگ بدر (2 ہجری) کے بعد اتری۔ اس جنگ میںمسلمانوں کو فتح ہوئی تھی اور اس کے بعد میدانِ جنگ سے کافی مال غنیمت حاصل ہوا تھا۔ مگر یہ اموال عملاً ایک گروہ کے قبضہ میں تھے۔اس بنا پر جنگ کے بعد غنیمت کی تقسیم پر نزاع پیدا ہوگئی۔ جنگ میں کچھ لوگ پچھلی صف میں تھے۔ کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت میں لگے ہوئے تھے۔ کچھ لوگ آخری مرحلہ میں دشمن کا پیچھا کرتے ہوئے آگے نکل گئے۔ اس طرح میدان جنگ سے مالِ غنیمت لوٹنے کا موقع ایک خاص فریق کو ملا۔ دوسرے لوگ جو اس وقت میدانِ جنگ سے دور تھے وہ دشمن کے چھوڑے ہوئے اموال کو حاصل نہ کرسکے۔
اب صورتِ حال یہ تھی کہ اصولی طو رپر تو جنگ کے تمام شرکاء اپنے کو مال غنیمت میں حصہ دارسمجھتے تھے۔ مگر مالِ غنیمت عملاً صرف ایک گروہ کے قبضہ میں تھا۔ ایک فریق کے پاس دلیل تھی اور دوسرے فریق کے پاس مال۔ ایک کے پاس اپنے حق کو ثابت کرنے کے ليے صرف الفاظ تھے، جب کہ دوسرے کا حق کسی دلیل وثبوت کے بغیر خود قبضہ کے زور پر قائم تھا۔
اس قسم کے تمام جھگڑے خدا کے خوف کے منافی ہیں۔ خدا کا خوف آدمی کے اندر ذمہ داری کی نفسیات ابھارتا ہے۔ ایسے آدمی کی توجہ فرائض پر ہوتی ہے، نہ کہ حقوق پر۔ وہ اپنی طرف دیکھنے کے بجائے خدا کی طرف دیکھنے لگتا ہے۔ اس کادل خدا و رسول کی اطاعت کے ليے نرم پڑ جاتاہے۔ وہ خدا کا عبادت گزار بندہ بن جاتا ہے۔ لوگوں کو دے کر اسے تسکین ملتی ہے، نہ کہ لوگوں سے چھین کر۔ یہ اوصاف آدمی کے اندر حقیقت پسندی اور حق کے اعتراف کا مادہ پیدا کرتے ہیں۔حقیقت پسندی اور اعترافِ حق کی فضا کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آپس کے جھگڑے ختم ہوجاتے ہیں۔ اور اگر کبھی اتفاقاً ابھرتے ہیں تو ایک بار کی تنبیہ ان کی اصلاح کے ليے کافی ہوجاتی ہے۔
خدا کی پکڑ کا اندیشہ ہرایک کو اس حد پر پہنچا دیتاہے جس حد پر اس کو فی الواقع ہونا چاہیے تھا۔ اور جہاں ہر آدمی اپنی واقعی حد پر ركنے کے ليے راضی ہوجائے وہاں جھگڑے کا کوئی گزر نہیں۔
Connections
- Previous: (Start of Surah)
- Next: 8_2
- Thematic: (add links here)