Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَذَرۡنِي وَٱلۡمُكَذِّبِينَ أُوْلِي ٱلنَّعۡمَةِ وَمَهِّلۡهُمۡ قَلِيلًا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اِن جھٹلانے والے خوشحال لوگوں سے نمٹنے کا کام تم مجھ پر چھوڑ دو اور اِنہیں ذرا کچھ دیر اِسی حالت پر رہنے دو
English (Sahih International)
And leave Me with [the matter of] the deniers, those of ease [in life], and allow them respite a little
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
This commentary covers ayaat 11 and 12.
آیت 1 1{ وَذَرْنِیْ وَالْمُکَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَۃِ } ”آپ مجھے اور ان جھٹلانے والوں کو چھوڑ دیں ‘ جو بڑی نعمتوں سے نوازے گئے ہیں“ ان کو مال و اولاد ‘ بڑی بڑی جائیدادیں اور طرح طرح کی دوسری نعمتیں بھی میں نے ہی عطا کی ہیں اور اب ان کی سرکشی کا مزہ بھی انہیں میں ہی چکھائوں گا ‘ لہٰذا ان کا معاملہ آپ مجھ پر چھوڑ دیں۔ نوٹ کیجیے ابتدائی دور کی ان سورتوں میں ذَرْنِیْ اور ذَرْھُمْ کے صیغے بار بار آرہے ہیں۔ { وَمَہِّلْہُمْ قَلِیْلًا۔ } ”اور ابھی آپ انہیں تھوڑی سی مہلت دیں۔“ قبل ازیں ہم سورة مریم میں اس سے ملتا جلتا یہ حکم بھی پڑھ چکے ہیں : { فَلَا تَعْجَلْ عَلَیْہِمْط اِنَّمَا نَعُدُّ لَہُمْ عَدًّا۔ } ”تو آپ ﷺ ان کے خلاف فیصلے کے لیے جلدی نہ کیجیے۔ ہم ان کی پوری پوری گنتی کر رہے ہیں“۔ سورة الطارق کی اس آیت میں بھی بالکل یہی مضمون بیان ہوا ہے : { فَمَہِّلِ الْکٰفِرِیْنَ اَمْہِلْہُمْ رُوَیْدًا۔ } ”تو آپ کافروں کو مہلت دیں ‘ بس تھوڑی سی مزید مہلت۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 73:6.