Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَأَنَّا لَمَسۡنَا ٱلسَّمَآءَ فَوَجَدۡنَٰهَا مُلِئَتۡ حَرَسٗا شَدِيدٗا وَشُهُبٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور یہ کہ “ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو دیکھا کہ وہ پہرے داروں سے پٹا پڑا ہے اور شہابوں کی بارش ہو رہی ہے
English (Sahih International)
And we have sought [to reach] the heaven but found it filled with powerful guards and burning flames
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
This commentary covers ayaat 8 and 9.
آیت 8{ وَّاَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآئَ } ”اور یہ کہ ہم نے ٹٹولا آسمان کو“ ہم نے غیب کی خبروں کی ٹوہ میں آسمان کی پہنائیوں میں حسب معمول بھاگ دوڑ کی۔ { فَوَجَدْنٰـہَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّشُہُبًا۔ } ”تو ہم نے دیکھا کہ وہ سخت پہروں اور انگاروں سے بھرا ہوا ہے۔“ ہم نے دیکھا کہ آسمان میں اب جگہ جگہ پہرے مقرر کردیے گئے ہیں اور شہاب ثاقب کی قسم کے میزائل نصب کر کے حفاظتی انتظامات غیر معمولی طور پر سخت کردیے گئے ہیں۔ جیسا کہ قبل ازیں بھی کئی مرتبہ ذکر ہوچکا ہے ‘ آگ اور نور کی کچھ خصوصیات مشترک ہونے کے باعث جنات اور فرشتوں کے مابین تخلیقی اعتبار سے کچھ نہ کچھ قربت پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرشتے جب عالم بالا سے احکام لے کر زمین کی طرف آتے ہیں تو شیاطین ِجن ان سے اللہ تعالیٰ کے فیصلوں اور احکام سے متعلق پیشگی خبریں حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی خبریں وہ اپنے ان انسان ساتھیوں تک پہنچانے کے لیے حاصل کرنا چاہتے ہیں جو دنیا میں کاہنوں اور جادوگروں کے روپ میں شرک و ضلالت کی دکانیں کھولے بیٹھے ہیں۔ عام حالات میں تو اللہ تعالیٰ کی مشیت سے شاید ان جنات کو ایسی خبروں تک کسی نہ کسی حد تک رسائی ہوجاتی ہو مگر نزول وحی کے زمانے میں انہیں حساس حدود کے قریب بھی پھٹکنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ آیات زیر مطالعہ میں اسی حوالے سے جنات کی چہ میگوئیوں کا ذکر ہورہا ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 8 to 23.
موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔