Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
حَتَّىٰٓ إِذَا رَأَوۡاْ مَا يُوعَدُونَ فَسَيَعۡلَمُونَ مَنۡ أَضۡعَفُ نَاصِرٗا وَأَقَلُّ عَدَدٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
(یہ لوگ اپنی اِس روش سے باز نہ آئیں گے) یہاں تک کہ جب اُس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا اِن سے وعدہ کیا جا رہا ہے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کا جتھا تعداد میں کم ہے
English (Sahih International)
[The disbelievers continue] until, when they see that which they are promised, then they will know who is weaker in helpers and less in number
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 24{ حَتّٰیٓ اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ } ”یہاں تک کہ جب وہ دیکھیں گے وہ چیز جس کی انہیں دھمکی دی جا رہی ہے“ { فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّاَقَلُّ عَدَدًا۔ } ”اس وقت انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون کمزور ہے مددگاروں کے اعتبار سے اور کون اقلیت میں ہے تعداد کے لحاظ سے۔“ سردارانِ قریش کے طعنوں میں سے حضور ﷺ کے لیے ایک طعنہ یہ بھی تھا کہ آپ ﷺ کی محفل کے مقابلے میں ہماری محفلیں زیادہ باوقار اور ُ پررونق ہوتی ہیں۔ آپ ﷺ تو نچلے طبقے کے چند غریب ‘ کمزور اور نادار افراد کو لے کر بیٹھے ہوتے ہیں جبکہ ہماری محفلوں میں بڑے بڑے لوگ شریک ہوتے ہیں۔ اس آیت میں ان کے اس طعنے کا جواب دیا گیا ہے کہ قیامت کے دن انہیں معلوم ہوجائے گا کہ اپنے حمایتیوں کی طاقت اور تعداد کے لحاظ سے کس کی کیا حیثیت ہے۔ سورة مریم میں یہ مضمون زیادہ واضح انداز میں آیا ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 24 to 28.
حق کا داعی بظاہر ایک عام انسان ہوتا ہے اس لیے وہ لوگ اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں جن کے اوپر اس کی دعوت کی زد پڑ رہی ہو۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ داعی حق کے خلاف کارروائی خود خدا کے خلاف کارروائی ہے۔ اور کون ہے جو خدا کے خلاف کارروائی کرکے کامیاب ہو۔