Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
يُبَصَّرُونَهُمۡۚ يَوَدُّ ٱلۡمُجۡرِمُ لَوۡ يَفۡتَدِي مِنۡ عَذَابِ يَوۡمِئِذِۭ بِبَنِيهِ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے مجرم چاہے گا کہ اس دن کے عذاب سے بچنے کے لیے اپنی اولاد کو
English (Sahih International)
They will be shown each other. The criminal will wish that he could be ransomed from the punishment of that Day by his children
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
This commentary covers ayaat 11 to 14.
آیات 1 1 تا 14{ یُّــبَصَّرُوْنَہُمْ ط } ”وہ سب انہیں دکھائے جائیں گے۔“ وہاں مشکل میں پھنسے ہوئے ہر شخص کو اس کے دوست احباب ‘ والدین ‘ بیوی بچے غرض اس کے سب پیارے دکھا بھی دیے جائیں گے تاکہ اس کی حسرت میں مزید اضافہ ہو۔ { یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَـوْ یَـفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍم بِبَنِیْہِ - وَصَاحِبَتِہٖ وَاَخِیْہِ - وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُـئْوِیْہِ - وَمَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًالا ثُمَّ یُنْجِیْہِ۔ } ”اس روز مجرم چاہے گا کہ کاش وہ اس دن کے عذاب سے بچنے کے لیے فدیے میں دے دے اپنے بیٹوں کو ‘ اور اپنی بیوی کو اور اپنے بھائی کو ‘ اور اپنے کنبے کو جو اسے پناہ دیتا تھا ‘ اور روئے زمین پر بسنے والے تمام انسانوں کو ‘ پھر یہ فدیہ اس کو بچا لے !“ یہ اس کیفیت کی ایک جھلک ہے جس کے بارے میں ہمارے ہاں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ اس روز نفسانفسی کا عالم ہوگا۔ ہر شخص کو اپنی فکر ہوگی اور وہ چاہے گا کہ خواہ اس کے بیوی بچوں اور عزیز و اقارب سمیت سب کو عذاب میں جھونک دیا جائے لیکن اسے چھوڑ دیا جائے۔ اس کیفیت کا بالکل ایسا ہی نقشہ سورة عبس کی ان آیات میں بھی دکھایا گیا ہے : { یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْئُ مِنْ اَخِیْہِ رض وَاُمِّہٖ وَاَبِیْہِ - وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہِ - لِکُلِّ امْرِیٍٔ مِّنْہُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِ۔ } ”اس دن بھاگے گا انسان اپنے بھائی سے ‘ اور اپنی ماں سے اور اپنے باپ سے ‘ اور اپنی بیوی سے اور اپنے بیٹوں سے۔ اس دن ان میں سے ہر انسان کی ایسی حالت ہوگی جو اسے دوسروں سے بیخبر کر دے گی“۔ احادیث میں آتا ہے کہ اس روز اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبر - بھی نَفْسِیْ نَفْسِیْ پکار رہے ہوں گے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 70:1.