Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمۡ صَٰلِحٗاۚ قَالَ يَٰقَوۡمِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنۡ إِلَٰهٍ غَيۡرُهُۥۖ قَدۡ جَآءَتۡكُم بَيِّنَةٞ مِّن رَّبِّكُمۡۖ هَٰذِهِۦ نَاقَةُ ٱللَّهِ لَكُمۡ ءَايَةٗۖ فَذَرُوهَا تَأۡكُلۡ فِيٓ أَرۡضِ ٱللَّهِۖ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوٓءٖ فَيَأۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور ثمود کی طرف ہم نے اُن کے بھائی صالحؑ کو بھیجا اس نے کہا “اے برادران قوم، اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے تمہارے پاس تمہارے رب کی کھلی دلیل آ گئی ہے یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی کے طور پر ہے، لہٰذا اسے چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں چرتی پھرے اس کو کسی برے ارادے سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ ایک درد ناک عذاب تمہیں آ لے گا
English (Sahih International)
And to the Thamud [We sent] their brother Salih. He said, “O my people, worship Allah; you have no deity other than Him. There has come to you clear evidence from your Lord. This is the she-camel of Allah [sent] to you as a sign. So leave her to eat within Allah ‘s land and do not touch her with harm, lest there seize you a painful punishment
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 73 وَاِلٰی ثَمُوْدَ اَخَاہُمْ صٰلِحًا 7 حضرت ہود علیہ السلام اور ان کے اہل ایمان ساتھی جزیرہ نمائے عرب کے جنوبی علاقے سے ہجرت کر کے شمال مغربی کونے میں جا آباد ہوئے۔ یہ حجر کا علاقہ کہلاتا ہے۔ یہاں ان کی نسل آگے بڑھی اور پھر غالباً ’ ثمود ‘ نامی کسی بڑی شخصیت کی وجہ سے اس قوم کا یہ نام مشہور ہوا۔ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗط قَدْ جَآءَ تْکُمْ بَیِّنَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ ط۔ حضرت صالح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو وہی دعوت دی جو اس سے پہلے حضرت نوح اور حضرت ہود علیہ السلام اپنی اپنی قوموں کو دے چکے تھے۔ یہاں بَیِّنَۃ سے مراد وہ اونٹنی ہے جو ان کے مطالبے پر معجزانہ طور پر چٹان سے نکلی تھی۔ یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ حضرت نوح اور حضرت ہود علیہ السلام کے بارے میں کسی معجزے کا ذکر قرآن میں نہیں ہے۔ معجزے کا ذکر سب سے پہلے حضرت صالح علیہ السلام کے بارے میں آتا ہے۔ہٰذِہٖ نَاقَۃُ اللّٰہِ لَکُمْ اٰیَۃً فَذَرُوْہَا تَاْکُلْ فِیْٓ اَرْضِ اللّٰہِ وَلاَ تَمَسُّوْہَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَکُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ یہ اونٹنی تمہارے مطالبے پر تمہاری نگاہوں کے سامنے ایک چٹان سے برآمد ہوئی ہے۔ اب اسے کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کرنا ‘ ورنہ اللہ کا عذاب تمہیں آلے گا۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 73 and 74.
قوم عاد کی تباہی کے بعد اس کے صالح افراد عرب کے شمال مغرب میں حجر کے علاقہ میں آباد ہوئے۔ ان کی نسل بڑھی اور انھوںنے زراعت اور تعمیر میں بڑی ترقیاں کیں۔ انھوں نے میدانوں میں محل بنائے اور پہاڑوں کو تراش کر ان کو بڑے بڑے حجري مکانات کی صورت دے دی۔بعد کو ان میں وہ خرابیاں پیدا ہوگئیں جومادی ترقی اور دنیوی خوش حالی کے ساتھ قوموں میں پیدا ہوتی ہیں۔ عیش پرستی، آخرت فراموشی، حدود اللہ سے بے پروائی، اللہ کی بڑائی کو بھول کر اپنی بڑائی قائم کرنا۔اس وقت اللہ نے حضرت صالح کو کھڑا کیا تاکہ وہ ان کو اللہ کی پکڑ سے ڈرائیں۔ مگر انھوں نے نصیحت قبول نہ کی۔ وہ اپنے فساد کو صلاح میں بدلنے پر راضی نہ ہوئے۔ جس کائنات میں تمام چیزیں خدا کی تابع بن کر رہ رہی ہیں وہاں انھوں نے خدا کا سرکش بن کر رہنا چاہا۔ جہاں ہر چیز اپنی حد کے اندر اپنا عمل کرتی ہے وہاں انھوں نے اپنی حد سے تجاوز کرکے زندہ رہنا چاہا۔ یہ ایک اصلاح یافتہ دنیا میں فساد پھیلانا تھا۔ چنانچہ ان کو دنیا میں بسنے کے ليے نااہل قرار دے دیا گیا۔
قوم ثمود کو جانچنے کے ليے خدا نے ایک اونٹنی مقرر کی اور کہا کہ اس کو تکلیف نہ پہنچانا ورنہ ہلاک کرديے جاؤ گے۔ خدا کے لیے یہ بھی ممکن تھا کہ وہ ان کے لیے ایک خوفناک شیر مقرر کردے۔ مگر خدا نے شیر کے بجائے اونٹنی کو مقرر فرمایا۔ اس کا راز یہ ہے که آدمی کی خدا ترسی کا امتحان ہمیشہ ’’اونٹنی‘‘ کی سطح پر لیا جاتا ہے، نہ کہ ’’شیر ‘‘ کی سطح پر۔ سماج میں ہمیشہ کچھ ناقۃ اللہ (خدا کی اونٹنی) جیسے لوگ ہوتے ہیں۔ یہ وہ کم زور افراد ہیں جن کے ساتھ وہ مادی زور نہیں ہوتا جو لوگوں کو ان کے خلاف کارروائی کرنے سے روکے۔ جن کے ساتھ حسن سلوک کا محرک صرف اخلاقی احساس ہوتا ہے، نہ کہ کوئی ڈر۔ مگر یہی وہ لوگ ہیں جن کی سطح پر لوگوں كي خدا پرستی جانچی جارہی ہے۔ یہی وہ افراد ہیں جن کے ذریعہ کسی کو جنت کا سرٹیفکٹ دیا جارہا ہے اور کسی کو جہنم کا۔
ثمود نے فن تعمیر میں کمال پیداکیا۔ متعلقہ علوم مثلاً ریاضی، ہندسہ، انجینئرنگ میں بھي یقیناً انھوں نے ضروری دستگاہ حاصل کی ہوگی ورنہ یہ ترقیات ممکن نہ ہوتیں۔ مگر ان کو جس بات کا مجرم ٹھہرایا گیا وہ ان کی مادی ترقیاں نہیں تھیں بلکہ زمین میں فساد پھیلانا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جائز حدود میں ترقی کرنے سے خدا نہیں روکتا۔ البتہ زندگی کے معاملات میں آدمی کو اس نظام اصلاح کا پابند رہنا چاہیے جو خدا نے پوری کائنات میں قائم کررکھا ہے۔