Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَهُوَ ٱلَّذِي يُرۡسِلُ ٱلرِّيَٰحَ بُشۡرَۢا بَيۡنَ يَدَيۡ رَحۡمَتِهِۦۖ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَقَلَّتۡ سَحَابٗا ثِقَالٗا سُقۡنَٰهُ لِبَلَدٖ مَّيِّتٖ فَأَنزَلۡنَا بِهِ ٱلۡمَآءَ فَأَخۡرَجۡنَا بِهِۦ مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِۚ كَذَٰلِكَ نُخۡرِجُ ٱلۡمَوۡتَىٰ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور وہ اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو اپنی رحمت کے آگے آگے خوشخبری لیے ہوئے بھیجتا ہے، پھر جب وہ پانی سے لدے ہوئے بادل اٹھا لیتی ہیں تو انہیں کسی مردہ سر زمین کی طرف حرکت دیتا ہے، اور وہاں مینہ برسا کر (اُسی مری ہوئی زمین سے) طرح طرح کے پھل نکال لاتا ہے دیکھو، اس طرح ہم مُردوں کو حالت موت سے نکالتے ہیں، شاید کہ تم اس مشاہدے سے سبق لو
English (Sahih International)
And it is He who sends the winds as good tidings before His mercy until, when they have carried heavy rainclouds, We drive them to a dead land and We send down rain therein and bring forth thereby [some] of all the fruits. Thus will We bring forth the dead; perhaps you may be reminded
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 57 وَہُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًام بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِہٖ ط۔ یعنی ابر رحمت سے پہلے ہواؤں کے ٹھنڈے جھونکے گویا بشارت دے رہے ہوتے ہیں کہ بارش آنے والی ہے۔ اس کیفیت کا صحیح ادراک کرنے کے لیے کسی ایسے خطے کا تصور کیجیے جہاں زمین مردہ اور بےآب وگیاہ پڑی ہے ‘ لوگ آسمان کی طرف نظریں لگائے بارش کے منتظر ہیں۔ اگر وقت پر بارش نہ ہوئی تو بیج اور محنت دونوں ضائع ہوجائیں گے۔ ایسے میں ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے جب باران رحمت کی نوید سناتے ہیں تو وہاں کے باسیوں کے لیے اس سے بڑی بشارت اور کیا ہوگی۔حَتّٰیٓ اِذَآ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالاً یہ بادل کس قدر بھاری ہوتے ہوں گے ‘ ان کا وزن انسانی حساب و شمار میں آنا ممکن نہیں۔ اللہ کی قدرت اور اس کی حکمت کے سبب لاکھوں ٹن پانی کو ہوائیں روئی کے گالوں کی طرح اڑائے پھرتی ہیں۔سُقْنٰہُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ تو ہم ہانک دیتے ہیں اس بادل کو ایک مردہ زمین کی طرف ہوائیں ہمارے حکم سے اس بادل کو کسی بےآب وگیاہ وادی کی طرف لے جاتی ہیں اور باران رحمت اس وادی میں ایک نئی زندگی کی نوید ثابت ہوتی ہے۔فَاَنْزَلْنَا بِہِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِہٖ مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ ط بارش کے بعد وہ خشک اور مردہ زمین گھاس ‘ فصلوں اور پھلدار پودوں کی روئیدگی کی شکل میں اپنے خزانے اگل دیتی ہے۔کَذٰلِکَ نُخْرِجُ الْموْتٰی لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ ۔ دراصل بادلوں اور ہواؤں کے مظاہر کی تفصیل بیان کر کے ایک عام ذہن کو تشبیہہ کے ذریعے سے بعث بعد الموت کی حقیقت کی طرف متوجہ کرنا مقصود ہے۔ یعنی مردہ زمین کو دیکھو ! اس کے اندر زندگی کے کچھ بھی آثار باقی نہیں رہے تھے ‘ حشرات الارض اور پرندے تک وہاں نظر نہیں آتے تھے ‘ اس زمین کے باسی بھی مایوس ہوچکے تھے ‘ لیکن اس مردہ زمین پر جب بارش ہوئی تو یکا یک اس میں زندگی پھر سے عود کر آئی اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے ع مگر اب زندگی ہی زندگی ہے موجزن ساقی ! کی مجسم تصویر بن گئی۔ بنجر زمین ہریالی کی سبز پوشاک پہن کر دلہن کی طرح سج گئی۔ حشرات الارض کا اژدہام ! پرندوں کی زمزمہ پردازیاں ! اس کے باسیوں کی رونقیں ! گویا بارش کے طفیل زندگی پوری چہل پہل کے ساتھ وہاں جلوہ گر ہوگئی۔ اس آسان تشبیہہ سے ایک عام ذہنی استعداد رکھنے والے انسان کو حیات بعد الموت کی کیفیت آسانی سے سمجھ میں آ جانی چاہیے کہ زمین کے اندر پڑے ہوئے مردے بھی گویا بیجوں کی مانند ہیں۔ جب اللہ کا حکم آئے گا ‘ یہ بھی نباتات کی مانند پھوٹ کر باہر نکل آئیں گے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 57 and 58.
دنیا کو خدا نے اس طرح بنایا ہے کہ اس کے مادی واقعات اس کے روحانی پہلوؤں کی تمثیل بن گئے ہیں۔
جب کہیں بارش ہوتی ہے تو اس مقام کے ہر حصہ تک اس کا پانی یکساں طورپر پہنچتا ہے۔ مگر فیض اٹھانے کے اعتبار سے مختلف زمینوں کا حال مختلف ہوتا ہے۔ کوئی حصہ وہ ہے کہ پانی اس کو ملا تو اس کے اندر سے ایک لہلہاتا ہوا چمنستان نکل آیا۔ دوسری طرف کسی حصہ کا حال یہ ہوتاہے کہ وہ بارش پاکر بھی بے فیض پڑا رہتا ہے۔ وہاں جھاڑ جھنکاڑ کے سوا کچھ نہیں اگتا۔
یہی حال اس روحانی بارش کا ہے جو خدا کی طرف سے ہدایت کی صورت میں اتری ہے۔ اس ہدایت کا پیغام ہر آدمی کے کانوں تک پہنچتا ہے۔ مگر فائدہ ہر ایک کو اپنی اپنی استعداد کے بقدر ملتاہے۔ جس کے اندر قبول حق کی صلاحیت زندہ ہے وہ اس سے بھر پور فیض حاصل کرتا ہے۔ اس سے اس کو ایک نئی زندگی ملتی ہے۔ اس کی فطرت اچانک جاگ اٹھتی ہے۔ اس کا ربط اپنے مالک اعلیٰ سے قائم ہوجاتاہے۔ اس کی خشک نفسیات میں ربانی كيفیات کا باغ کھل اٹھتا ہے۔
اس کے برعکس حال اس شخص کا ہوتا ہے جس نے اپنی فطری سلامتی کو کھودیا ہو۔ ہدایت کی بارش اپنے تمام بہترین امکانات کے باوجود اس کوکوئی فائدہ نہیں پہنچاتی۔ اس کے بعد بھی وہ ویسا ہی خشک پڑا رہتاہے جیسا کہ وہ اس سے پہلے تھا۔ اور اگر اس کے اندر کوئی فصل نکلتی ہے تو وہ جھاڑ جھنکاڑ کی فصل ہوتی ہے۔ ہدایت کی بارش پاکر اس کے اندر سے حسد، حجت بازی، حق کی مخالفت جیسی چیزیں جاگ اٹھتی ہیں، نہ کہ حق کا اعتراف کرنے اور اس کا ساتھ دینے کی۔
بارش کے پانی کو قبول کرنے کے لیے زمین کا خشک ہونا ضروری ہے۔ جو زمین خشک نہ ہو، پانی اس کے اوپر سے گزر جائے گا، وہ اس کے اندر داخل نہیں ہوگا۔ اسی طرح خدا کی ہدایت صرف اس آدمی کے اندر جڑ پکڑتی ہے جو اس کا طالب ہو جس نے اپنی روح کو غیر خدائی باتوں سے خالی کر رکھا ہو۔ اسکے برعکس جو شخص خدا کی ہدایت سے بے پروا ہو، جس کا دل دوسری دلچسپیوں یا دوسری عظمتوں میں اٹکا ہوا ہو، اس کے پاس خدا کی ہدایت آئے گی مگر وہ اس کے اندرون میں داخل نہیں ہوگی،وہ اس کی روح کی غذا نہیں بنے گی، وہ اس کی فطرت کی زمین کو سیراب کرکے اس کے اندر خدا کا باغ نہیں اگائے گی۔