Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٖ ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰ عَلَى ٱلۡعَرۡشِۖ يُغۡشِي ٱلَّيۡلَ ٱلنَّهَارَ يَطۡلُبُهُۥ حَثِيثٗا وَٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَ وَٱلنُّجُومَ مُسَخَّرَٰتِۭ بِأَمۡرِهِۦٓۗ أَلَا لَهُ ٱلۡخَلۡقُ وَٱلۡأَمۡرُۗ تَبَارَكَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلۡعَٰلَمِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
در حقیقت تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر اپنے تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہوا جو رات کو دن پر ڈھانک دیتا ہے اور پھر دن رات کے پیچھے دوڑا چلا آتا ہے جس نے سورج اور چاند اور تارے پیدا کیے سب اس کے فرمان کے تابع ہیں خبردار رہو! اُسی کی خلق ہے اور اسی کا امر ہے بڑا با برکت ہے اللہ، سارے جہانوں کا مالک و پروردگار
English (Sahih International)
Indeed, your Lord is Allah, who created the heavens and earth in six days and then established Himself above the Throne. He covers the night with the day, [another night] chasing it rapidly; and [He created] the sun, the moon, and the stars, subjected by His command. Unquestionably, His is the creation and the command; blessed is Allah, Lord of the worlds
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 54 اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ قف۔ عرش کی حقیقت اور اللہ تعالیٰ کے عرش پر متمکن ہونے کی کیفیت ہمارے تصور سے بالا تر ہے۔ اس لحاظ سے یہ آیت متشابہات میں سے ہے۔ اس کی اصل حقیقت کو اللہ ہی جانتا ہے۔ ممکن ہے واقعتا یہ کوئی مجسم شے ہو اور کسی خاص جگہ پر موجود ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ محض استعارہ ہو۔ عالم غیب کی خبریں دینے والی اس طرح کی قرآنی آیات مستقل طور پر آیات متشابہات کے زمرے میں آتی ہیں۔ البتہ جن آیات میں بعض سائنسی حقائق بیان ہوئے ہیں ‘ ان میں سے اکثر کی صداقت سائنسی ترقی کے باعث منکشف ہوچکی ہے ‘ اور وہ محکمات کے درجے میں آچکی ہیں۔ اس سلسلے میں آئندہ تدریجاً مزید پیش رفت کی توقع بھی ہے۔ واللہ اعلم ! یُغْشِی الَّیْلَ النَّہَارَ یَطْلُبُہٗ حَثِیْثًالا دن رات کے پیچھے آتا ہے اور رات دن کے پیچھے آتی ہے۔وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍم بِاَمْرِہٖ ط سورج ‘ چاند اور ستاروں کے مسخر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی قاعدہ یا قانون ان کے لیے مقرر کردیا گیا ہے ‘ وہ اس کی اطاعت کر رہے ہیں۔ اَلاَ لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ط۔ ان الفاظ کے دو مفہوم ذہن میں رکھئے۔ ایک تو بہت سادہ اور سطحی مفہوم ہے کہ یہ کائنات اللہ نے تخلیق کی ہے اور اب اس میں اسی کا حکم کارفرما ہے۔ یعنی احکام طبیعیہ بھی اسی کے بنائے ہوئے ہیں جن کے مطابق کائنات کا نظام چل رہا ہے ‘ اور احکام تشریعیہ بھی اسی نے اتارے ہیں کہ یہ اوامر اور یہ نواہی ہیں ‘ انسان ان کے مطابق اپنی زندگی گزارے۔ مگر اس کا دوسرا اور گہرا مفہوم یہ ہے کہ کائنات میں تخلیق دو سطح پر ہوئی ہے۔ اس لحاظ سے یہ دو الگ الگ عالم ہیں ‘ ایک عالم خلق ہے اور دوسرا عالم امر۔ عالم امر میں عدم محض سے تخلیق creation ex nihilio ہوتی ہے اور اس میں تخلیق کے لیے بس کُن کہا جاتا ہے تو چیز وجود میں آجاتی ہے فَیَکُون۔ اس کے لیے نہ وقت درکار ہے اور نہ کسی مادے کی ضرورت ہوتی ہے۔ فرشتوں ‘ انسانی ارواح اور وحی کا تعلق عالم امر سے ہے۔ اسی لیے ان کے سفر کرنے کے لیے بھی کوئی وقت درکار نہیں ہوتا۔ فرشتہ آنکھ جھپکنے میں زمین سے ساتویں آسمان پر پہنچ جاتا ہے۔ دوسری طرف عالم خلق میں ایک شے سے کوئی دوسری شے طبعی قوانین اور ضوابط کے مطابق بنتی ہے۔ اس میں مادہ بھی درکار ہوتا ہے اور وقت بھی لگتا ہے۔ جیسے رحم مادر میں بچے کی تخلیق میں کئی ماہ لگتے ہیں۔ آم کی گٹھلی سے پودا اگنے اور بڑھ کر درخت بننے کے لیے کئی سال کا وقت درکار ہوتا ہے۔ عالم خلق میں جب زمین اور آسمانوں کی تخلیق ہوئی تو قرآن کے مطابق یہ چھ دنوں میں مکمل ہوئی۔ یہ آیت بھی ابھی تک متشابہات میں سے ہے ‘ اگرچہ اس کے بارے میں اب جلد حقیقت منکشف ہونے کے امکانات ہیں۔ اس کی حقیقت کے بارے میں اللہ ہی جانتا ہے کہ ان چھ دنوں سے کتنا زمانہ مراد ہے۔ اس کا دورانیہ کئی لاکھ سال پر بھی محیط ہوسکتا ہے۔ خود قرآن کے مطابق ہمارا ایک دن اللہ کے نزدیک ایک ہزار سال کا بھی ہوسکتا ہے سورۃ السجدۃ ‘ آیت 5 اور پچاس ہزار سال کا بھی سورۃ المعارج ‘ آیت 4۔یہ قرآن مجید کا اعجاز ہے کہ انتہائی پیچیدہ علمی نکتے کو بھی ایسے الفاظ اور ایسے پیرائے میں بیان کردیتا ہے کہ ایک عمومی ذہنی سطح کا آدمی بھی اسے پڑھ کر مطمئن ہوجاتا ہے ‘ جبکہ ایک فلسفی و حکیم انسان کو اسی نکتے کے اندر علم و معرفت کا بحربے کراں موجزن نظر آتا ہے۔ چناچہ پندرہ سو سال پہلے صحرائے عرب کے ایک بدو کو اس آیت کا یہ مفہوم سمجھنے میں کوئی الجھن محسوس نہیں ہوئی ہوگی کہ یہ کائنات اللہ کی تخلیق ہے اور اسی کو حق ہے کہ اس پر اپنا حکم چلائے۔ مگر جب ایک صاحب علم محقق اس لفظ امر پر غور کرتا ہے اور پھر قرآن مجید میں غوطہ زنی کرتا ہے کہ یہ لفظ امر قرآن مجید میں کہاں کہاں ‘ کن کن معانی میں استعمال ہوا ہے ‘ اور پھر ان تمام مطالب و مفاہیم کو آپس میں مربوط کر کے دیکھتا ہے تو اس پر بہت سے علمی حقائق منکشف ہوتے ہیں۔ بہر حال عالم خلق ایک الگ عالم ہے اور عالم امر الگ ‘ اور ان دونوں کے قوانین و ضوابط بھی الگ الگ ہیں۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 54 to 56.
زمین وآسمان اور اس کی تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا خدا ہے۔ اس پیدا کرنے کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ وہ تمام چیزوں کو بنا کر ان کو انتشار کی حالت میں چھوڑ دیتا۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ اس نے تمام چیزوں کو ایک حد درجہ کامل اور حکیمانہ نظام کے تحت جوڑا اور ا ن کو اس طرح چلایا کہ ہر چیز ٹھیک اسی طرح کام کرتی ہے جیسا کہ مجموعی مصلحت کے اعتبار سے اس کو کرنا چاہيے۔
انسان بھی اسی دنیا کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ پھر ایسی اصلاح یافتہ دنیا میں اس کا رویہ کیا ہونا چاہیے۔ اس کا رویہ وہی ہونا چاہیے جو بقیہ تمام چیزوں کا ہے۔ وہ بھی اپنے آپ کو اسی خالق کے منصوبے میں دے دے جس کے منصوبہ میں بقیہ کائنات پوری تابعداری کے ساتھ اپنے آپ کو ديے ہوئے ہے۔
کائنات کی تمام چیزیں احسان (حسن کارکردگی) کی حد تک اپنے آپ کو خدا کے منصوبہ میں شامل كيے ہوئے ہیں۔ اس ليے انسان کو بھی احسان کی حد تک اپنے آپ کو اس کے حوالے کردینا چاہیے۔ یہاں کوئی چیز کبھی اعتداء (اپنی مقررہ حد سے تجاوز) نہیں کرتی۔ اس ليے انسان کے واسطے بھی لازم ہے کہ وہ عدل اور حق کی خدائی حدوں سے تجاوز نہ کرے۔مزید یہ کہ انسان نطق اور شعور کی اضافی خصوصیات رکھتا ہے۔ اس ليے نطق اور شعور کی سطح پر بھی اس کی حوالگیٔ رب کا اظہار ہونا ضروری ہے۔ انسان کے اندر خدا کی معرفت اتنی گہرائی تک اتر جانا چاہیے کہ اس کی زبان سے بار بار اس کا اظہار ہونے لگے۔ وہ خدا کو اس طرح پکارے جس طرح بندہ اپنے خالق ومالک کو پکارتا ہے۔ اس کو خدا کی خدائی کا اتنا ادراک ہونا چاہيے کہ خدا کے سوا اس کی امیدوں اور اس کے اندیشوں کاکوئی مرجع باقی نہ رہے۔ وہ خدا ہی سے ڈرے اور اسی سے اپنی تمام تمنائیں وابستہ کرے۔ خدا کے ساتھ خوف اور اميد کو وابستہ کرنا خدا کی تابعداری کی آخری اور انتہائی صورت ہے۔
بندے کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس کو خدا کی رحمت حاصل ہو، مگر یہ رحمت صرف ان اشخاص کا حصہ ہے جو اللہ کے ساتھ اپنے آپ کو اتنا زیادہ متعلق کرلیں کہ ان کے تمام جذبات کا رخ اللہ کی طرف ہوجائے۔ وہ اسی کو پکاریں اور اسی کے ساتھ عاجزی کریں۔ ان کو پانے کی امید اسی سے ہو اور چھننے کا ڈر بھی اسی سے۔ یہی لوگ ہیں جنھوںنے خداکی قربت چاہی اس ليے خدا نے بھی ان کو اپنے قریب جگہ دے دی۔