Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 7:30 Prev 7:28


Arabic

قُلۡ أَمَرَ رَبِّي بِٱلۡقِسۡطِۖ وَأَقِيمُواْ وُجُوهَكُمۡ عِندَ كُلِّ مَسۡجِدٖ وَٱدۡعُوهُ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَۚ كَمَا بَدَأَكُمۡ تَعُودُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اے محمدؐ، ان سے کہو، میرے رب نے تو راستی و انصاف کا حکم دیا ہے، اور اس کا حکم تو یہ ہے کہ ہر عبادت میں اپنا رخ ٹھیک رکھو اور اُسی کو پکارو اپنے دین کو اس کے لیے خالص رکھ کر جس طرح اُس نے تمہیں اب پیدا کیا ہے اسی طرح تم پھر پیدا کیے جاؤ گے


English (Sahih International)

Say, [O Muhammad], “My Lord has ordered justice and that you maintain yourselves [in worship of Him] at every place [or time] of prostration, and invoke Him, sincere to Him in religion.” Just as He originated you, you will return [to life]


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 29 قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بالْقِسْطِقف وَاَقِیْمُوْا وُجُوْہَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ مسجد اسم ظرف ہے اور یہ ظرف زمان بھی ہے اور ظرف مکان بھی۔ بطور ظرف مکان سجدے کی جگہ مسجد ہے اور بطور ظرف زمان سجدے کا وقت مسجد ہے۔وَّادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ ط یعنی اللہ کو پکارنے ‘ اس سے دعا کرنے کی ایک شرط ہے اور وہ یہ کہ اس کی اطاعت کو اپنے اوپر لازم کیا جائے۔ جیسا کہ سورة البقرۃ آیت 186 میں روزے کے احکام اور حکمتوں کو بیان کرنے کے بعد فرمایا : اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ لا فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ کہ میں تو ہر پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں ‘ اس کی دعا کو قبول کرتا ہوں ‘ لیکن انہیں بھی تو چاہیے کہ میرا کہنا مانیں۔۔ اور یہ کہنا ماننا یا اطاعت جزوی طور پر قابل قبول نہیں ‘ بلکہ اس کے لیے اُدْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃًص البقرۃ : 208 کا معیار سامنے رکھنا ہوگا ‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں پورے پورے داخل ہونا ہوگا۔ لہٰذا اس حوالے سے یہاں فرمایا گیا کہ اپنی اطاعت کو اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے اسے پکارو۔ یعنی اس کی اطاعت کے دائرے کے اندر کلی طور پر داخل ہوتے ہوئے اس سے دعا کرو۔ یہاں یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ انسان کو اپنی زندگی میں بیشمار اطاعتوں سے سابقہ پڑتا ہے ‘ والدین کی اطاعت ‘ اساتذہ کی اطاعت ‘ الوالامر کی اطاعت وغیرہ۔ تو اس میں بنیادی طور پر جو اصول کارفرما ہے وہ یہ ہے کہ لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ۔ یعنی مخلوق میں سے کسی کی ایسی اطاعت نہیں کی جائے گی جس میں خالق حقیقی کی معصیت لازم آتی ہو۔ اللہ کی اطاعت سب سے اوپر اور سب سے برتر ہے۔ اس کی اطاعت کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے باقی سب اطاعتیں ہوسکتی ہیں ‘ مگر جہاں کسی کی اطاعت میں اللہ کے کسی حکم کی خلاف ورزی ہوتی ہو تو ایسی اطاعت ناقابل قبول اور حرام ہوگی۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

The commentary on this ayah is given with ayah 7:28.


Connections

  • Previous: 7_28
  • Next: 7_30
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes