Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 7:204 Prev 7:202


Arabic

وَإِذَا لَمۡ تَأۡتِهِم بِـَٔايَةٖ قَالُواْ لَوۡلَا ٱجۡتَبَيۡتَهَاۚ قُلۡ إِنَّمَآ أَتَّبِعُ مَا يُوحَىٰٓ إِلَيَّ مِن رَّبِّيۚ هَٰذَا بَصَآئِرُ مِن رَّبِّكُمۡ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٞ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اے نبیؐ، جب تم اِن لوگوں کے سامنے کوئی نشانی (یعنی معجزہ) پیش نہیں کرتے تو یہ کہتے ہیں کہ تم نے اپنے لیے کوئی نشانی کیوں نہ انتخاب کر لی؟ ان سے کہو “میں تو صرف اُس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے رب نے میری طرف بھیجی ہے یہ بصیرت کی روشنیاں ہیں تمہارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت ہے اُن لوگوں کے لیے جو اِسے قبول کریں


English (Sahih International)

And when you, [O Muhammad], do not bring them a sign, they say, “Why have you not contrived it?” Say, “I only follow what is revealed to me from my Lord. This [Qur’an] is enlightenment from your Lord and guidance and mercy for a people who believe


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آخر میں ان دونوں سورتوں کے مضامین کے عمود کا خلاصہ بیان کیا جا رہا ہے۔ جس زمانے میں یہ دو سورتیں نازل ہوئیں اس وقت کفار مکہ کی طرف سے یہ مطالبہ تکرار کے ساتھ کیا جارہا تھا کہ کوئی نشانی لاؤ ‘ کوئی معجزہ دکھاؤ۔ جس طرح کے حسی معجزات حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ملے تھے ‘ اسی نوعیت کے معجزات اہل مکہ بھی دیکھنا چاہتے تھے۔ جیسے جیسے ان کی طرف سے مطالبات آتے رہے ‘ ساتھ ساتھ ان کے جوابات بھی دیے جاتے رہے۔ اب اس سلسلے میں آخری بات ہو رہی ہے۔ آیت 203 وَاِذَا لَمْ تَاْتِہِمْ بِاٰیَۃٍ قَالُوْا لَوْلاَ اجْتَبَیْتَہَا ط کفار مکہ کا کہنا تھا کہ جب آپ ﷺ کا دعویٰ ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ‘ اس کے محبوب ہیں تو آپ کے لیے معجزہ دکھانا کون سا مشکل کام ہے ؟ آپ ہمارے اطمینان کے لیے کوئی معجزہ چھانٹ کرلے آئیں ! اس سلسلے میں تفسیر کبیر میں امام رازی رح نے ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا ایک پھوپھی زاد بھائی تھا ‘ جو اگرچہ ایمان تو نہیں لایا تھا مگر اکثر آپ ﷺ کے ساتھ رہتا اور آپ ﷺ سے تعاون بھی کرتا تھا۔ اس کے اس طرح کے رویے سے امید تھی کہ ایک دن وہ ایمان بھی لے آئے گا۔ ایک دفعہ کسی محفل میں سرداران قریش نے معجزات کے بارے میں آپ ﷺ سے بہت بحث و تکرار کی کہ آپ نبی ہیں تو ابھی معجزہ دکھائیں ‘ یہ نہیں تو وہ دکھا دیں ‘ ایسے نہیں تو ویسے کر کے دکھا دیں ! اس کی تفصیل سورة بنی اسرائیل میں بھی آئے گی مگر آپ ﷺ نے ان کی ہر بات پر یہی فرمایا کہ معجزہ دکھانا میرے اختیار میں نہیں ہے ‘ یہ تو اللہ کا فیصلہ ہے ‘ جب اللہ تعالیٰ چاہے گا دکھا دے گا۔ اس پر انہوں نے گویا اپنے زعم میں میدان مار لیا اور آپ ﷺ پر آخری حجت قائم کردی۔ اس کے بعدجب حضور ﷺ وہاں سے اٹھے تو وہاں شور مچ گیا۔ ان لوگوں نے کیا کیا اور کس کس انداز میں باتیں نہیں کی ہوں گی اور اس کے عوام پر کیا اثرات ہوئے ہوں گے۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ ﷺ کے اس پھوپھی زاد بھائی نے کہا کہ آج تو گویا آپ کی قوم نے آپ پر حجت قائم کردی ہے ‘ اب میں آپ کا ساتھ نہیں دے سکتا۔اس واقعہ سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ موضوع اس ماحول میں کس قدر اہمیت اختیار کر گیا تھا اور اس طرح کی صورت حال میں آپ ﷺ کس قدر دل گرفتہ ہوئے ہوں گے۔ اس کا کچھ نقشہ سورة الانعام آیت 35 میں اس طرح کھینچا گیا ہے : وَاِنْ کَانَ کَبُرَ عَلَیْکَ اِعْرَاضُہُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَہُمْ بِاٰیَۃٍ ط اور اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر آپ پر بہت شاق گزر رہا ہے ان کا اعراض تو اگر آپ میں طاقت ہے تو زمین میں کوئی سرنگ بنا لیجیے یا آسمان پر سیڑھی لگا لیجیے اور ان کے لیے کہیں سے کوئی نشانی لے آیئے ! ہم تو نہیں دکھائیں گے ! ۔ یہ پس منظر ہے ان حالات کا جس میں فرمایا جا رہا ہے کہ معجزات کے مطالبات میں آپ ﷺ ان کو بتائیں کہ معجزہ دکھانے یا نہ دکھانے کا فیصلہ اللہ نے کرنا ہے ‘ مجھے اس کا اختیار نہیں ہے۔ قُلْ اِنَّمَآ اَتَّبِعُ مَا یُوْحٰٓی اِلَیَّ مِنْ رَّبِّیْ ج ہٰذَا بَصَآءِرُ مِنْ رَّبِّکُمْ وَہُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ میں آپ لوگوں کے سامنے جو پیش کر رہا ہوں ‘ یہ وہی کچھ ہے جو اللہ نے مجھ پر وحی کیا ہے اور میں خود بھی اسی کی پیروی کر رہا ہوں۔ اس سے بڑھ کر میں نے کبھی کوئی دعویٰ کیا ہی نہیں۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 203 to 206.

مکہ کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے کہ اگر تم خداکے پیغمبر ہو تو خدا کے یہاں سے کوئی معجزہ کیوں نہیں لائے۔ خدا کے ليے انتہائی آسان تھا کہ وہ آپ کو ایک معجزہ دے دیتا۔ مگر اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ اصل مقصد جاتا رہتا۔

مثلاً فرض کیجيے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ليے جدید طرز کی ایک موٹر کار اتاردی جاتی جس میں لاؤڈاسپیکر نصب ہوتا۔ آپ اس میں بیٹھ کر چلتے اور لوگوں کے درمیان تبلیغ کرتے۔ ڈیڑھ ہزار سال پہلے کے حالات میں ایسی ایک کار لوگوں کے ليے انتہائی حیرت ناک معجزہ ہوتی۔ مگر اس کا نقصان یہ ہوتا کہ لوگوں کی توجہ اصل بات سے ہٹ جاتی۔ اصل مقصد تو یہ تھا کہ خدا کا کلام لوگوں کے ليے بصیرت بنے۔ اس سے لوگوں کو سوچنے کا ڈھنگ اور عمل کرنے کا طریقہ معلوم ہو۔ اس سے روحوں کو خدائی ٹھنڈک ملے۔ مگر مذکورہ معجزہ کے بعد یہ سارا منصوبہ دھرا رہ جاتا اور لوگ بس طلسماتی سواری کے عجوبہ میں محو ہو کر رہ جاتے۔

کراماتی چیزوں میں کھونے کا نام دین نہیں۔ دین یہ ہے کہ آدمی خدا کے کلام پر دھیان دے۔ اس کو غور کے ساتھ پڑھے اور توجہ کے ساتھ سنے۔ دین دار ہونے کی پہچان یہ ہے کہ خدا کے ساتھ آدمی کا گہرا تعلق قائم ہوجائے۔ اس کے دل میں گداز پیدا ہو۔ وہ خدا کی یاد کرنے والا بن جائے۔ خدا کی عظمت اس کے دل ودماغ پر اس طرح چھا جائے کہ وہ اس کے اندر تواضع اور خوف کی کیفیت پیداکردے۔ خدا کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کی آواز پست ہوجائے۔ وہ غفلت سے نکل کر بیداری کے عالم میں پہنچ جائے۔

آخر میں فرشتوں کا کردار بیان کیا گیا ہے۔ یہ اس ليے کہ تم بھی ایسا ہی کرو تاکہ تمھیں فرشتوں کی معیت حاصل ہو۔ جب آدمی اپنے آپ کو گھمنڈ سے پاک کرتا ہے۔ اور خدا کے کمالات سے اتنا سرشار ہوتاہے کہ اس کے دل سے ہر وقت اس کی یاد ابلتی رہتی ہے تو وہ فرشتوں کا ہم سطح ہوجاتاہے۔ اس دنیا میں کسی انسان کی ترقی کا اعلیٰ ترین مقام یہ ہے کہ وہ انسان ہوتے ہوئے ملکوتی کردار کا حامل بن جائے۔ وہ دنیا میں رہتے ہوئے فرشتوں کے پڑوس میں زندگی گزارنے لگے۔


Connections

  • Previous: 7_202
  • Next: 7_204
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes