Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
فَوَسۡوَسَ لَهُمَا ٱلشَّيۡطَٰنُ لِيُبۡدِيَ لَهُمَا مَا وُۥرِيَ عَنۡهُمَا مِن سَوۡءَٰتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهَىٰكُمَا رَبُّكُمَا عَنۡ هَٰذِهِ ٱلشَّجَرَةِ إِلَّآ أَن تَكُونَا مَلَكَيۡنِ أَوۡ تَكُونَا مِنَ ٱلۡخَٰلِدِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
پھر شیطان نے اُن کو بہکایا تاکہ ان کی شرمگاہیں جو ایک دوسرے سے چھپائی گئی تھیں ان کے سامنے کھول دے اس نے ان سے کہا، “تمہارے رب نے تمہیں جو اس درخت سے روکا ہے اس کی وجہ اِس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ، یا تمہیں ہمیشگی کی زندگی حاصل نہ ہو جائے
English (Sahih International)
But Satan whispered to them to make apparent to them that which was concealed from them of their private parts. He said, “Your Lord did not forbid you this tree except that you become angels or become of the immortal
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
This commentary covers ayaat 20 and 21.
آیت 20 فَوَسْوَسَ لَہُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَہُمَا مَا وٗرِیَ عَنْہُمَا مِنْ سَوْاٰتِہِمَا قصۂ آدم علیہ السلام و ابلیس کی تفصیل ہم سورة البقرۃ کے چوتھے رکوع میں بھی پڑھ چکے ہیں۔ یہاں یہ قصہ دوسری مرتبہ بیان ہوا ہے۔ پورے قرآن مجید میں یہ واقعہ سات مرتبہ آیا ہے ‘ چھ مرتبہ مکی سورتوں میں اور ایک مرتبہ مدنی سورت البقرۃ میں۔ لیکن ہر جگہ مختلف انداز سے بیان ہوا ہے اور ہر بار کسی نہ کسی نئی بات کا اس میں اضافہ ہوا ہے۔ حضور ﷺ کی دعوتی تحریک جیسے جیسے آگے بڑھ رہی تھی ‘ ہر دور کے مخصوص حالات کے سبب اس واقعے میں ہر دفعہ مزید تفصیلات شامل ہوتی گئیں۔ اس رکوع کے شروع میں جب اس قصے کا ذکر آیا ہے تو وہاں جمع کا صیغہ استعمال کر کے تمام انسانوں کو مخاطب کیا گیا ہے : وَلَقَدْ خَلَقْنٰکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰکُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلآءِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ ق فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِیْسَ ط سورۃ البقرۃ کی متعلقہ آیات کی وضاحت کرتے ہوئے اس ضمن میں بعض اہم نکات زیر بحث آ چکے ہیں۔ یہاں پر مزید کچھ باتیں تشریح طلب ہیں۔ ایک تو شیطان کے حضرت آدم اور حضرت حوا کو ورغلانے اور ان کے دلوں میں وسوسے ڈالنے کا سوال ہے کہ اس کی کیفیت کیا تھی۔ اس سلسلے میں جو باتیں یا مکالمات قرآن میں آئے ہیں ان سے یہ گمان ہرگز نہ کیا جائے کہ وہ اسی طرح ان کے درمیان وقوع پذیر بھی ہوئے تھے اور وہ ایک دوسرے کو دیکھتے اور پہچانتے ہوئے ایک دوسرے سے باتیں کرتے تھے۔ ایسا ہرگز نہیں تھا ‘ بلکہ شیطان جیسے آج ہماری نگاہوں سے پوشیدہ ہے اسی طرح حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہ السلام کی نظروں سے بھی پوشیدہ تھا اور جس طرح آج ہمارے دلوں میں شیطانی وسوسے جنم لیتے ہیں اسی طرح ان کے دلوں میں بھی وسوسے پیدا ہوئے تھے۔ دوسرا اہم نکتہ ایک خاص ممنوعہ پھل کے چکھنے اور اس کی ایک خاص تاثیر کے بارے میں ہے۔ قرآن مجید میں ہمیں اس کی تفصیل اس طرح ملتی ہے کہ اس پھل کے چکھنے پر ان کی شرمگاہیں نمایاں ہوگئیں۔ جہاں تک اس کیفیت کی حقیقت کا تعلق ہے تو اسے معلوم کرنے کے لیے ہمارے پاس حتمی اور قطعی علمی ذرائع نہیں ہیں ‘ اس لیے اسے متشابہات میں ہی شمار کیا جائے گا۔ البتہ اس کے بارے میں مفسرین نے قیاس آرائیاں کی ہیں۔ مثلاً یہ کہ پہلے انہیں اپنے ان اعضاء کے بارے میں شعور نہیں تھا ‘ مگر وہ پھل چکھنے کے بعد یہ شعور ان میں بیدار ہوگیا ‘ یا یہ کہ پہلے انہیں جنت کا لباس دیا گیا تھا جو اس واقعے کے بعد اتر گیا۔ بعض لوگوں کے نزدیک یہ نیکی اور بدی کا درخت تھا جس کا پھل کھاتے ہی ان میں نیکی اور بدی کی تمیز پیدا ہوگئی۔ بعض حضرات کا خیال ہے کہ یہ دراصل آدم علیہ السلام اور حوا علیہ السلام کے درمیان پہلاجنسی اختلاط sexual act تھا ‘ جسے اس انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ مختلف آراء ہیں ‘ لیکن صحیح بات یہی ہے کہ یہ متشابہات میں سے ہے اور ٹھوس علمی معلومات کے بغیر اس کے بارے میں کوئی قطعی اور حقیقی رائے قائم کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے کہ وہ درخت کون سا تھا اور اسے چکھنے کی اصل حقیقت اور کیفیت کیا تھی۔وَقَالَ مَا نَہٰٹکُمَا رَبُّکُمَا عَنْ ہٰذِہِ الشَّجَرَۃِ الآَّ اَنْ تَکُوْنَا مَلَکَیْنِ اَوْ تَکُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَ ۔ یہ تو سیدھی سی بات ہے کہ فرشتوں کو تو آدم علیہ السلام کے سامنے جھکایا گیا تھا تو اس کے بعد آپ علیہ السلام کے لیے فرشتہ بن جانا کون سی بڑی بات تھی ‘ لیکن بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان کو نسیان ہوجاتا ہے اور وہ اپنی اصل حقیقت ‘ اصل مقام کو بھول جاتا ہے۔ چناچہ یہ بات گویا شیطان نے وسوسے کے انداز سے ان کے ذہنوں میں ڈالنے کی کوشش کی کہ اس شجر ممنوعہ کا پھل کھا کر تم فرشتے بن جاؤ گے یا ہمیشہ ہمیشہ زندہ رہو گے اور تم پر موت طاری نہ ہوگی۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
حضرت نوح کی اس تقریر سے واضح ہوتا ہے کہ ان کا اندازِ دعوت بھی عین وہی تھا جو قرآن میں لوگوں کو دعوت دینے کے لیے اختیار کیا گیا ہے۔ حضرت نوح نے کائناتی واقعات سے استدلال کرتے ہوئے اپنی دعوت پیش کی۔ انہوں نے اجتماعی خطاب بھی کیا اور انفرادی گفتگوئیں بھی کیں۔ لوگوں کا اصلاح پر لانے کے لیے انہوں نے اپنی ساری کوشش صرف کر ڈالی۔ مگر قوم آپ کی بات ماننے پر راضی نہ ہوئی۔
مَا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلهِ وَقَارًا کی تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس نے ان الفاظ میں کی ہے لَا تُعَظِّمُونَ اللهَ حَقَّ عَظَمَتِهِ (تفسیر الطبری، جلد
23
، صفحہ
296
)۔ یعنی اللہ کی عظمت اس طرح نہیں مانتے جس طرح اس کی عظمت ماننا چاہیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت نوح کی قوم اللہ کا اقرار کرتی تھی، مگر اس پر اللہ کی عظمت کا احساس اس طرح چھایا ہوا نہ تھا جس طرح کسی انسان پر چھایا ہوا ہونا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی خدا پرستی کا اصل معیار ہے۔ جو شخص خدا کی عظمت میں جی رہا ہو وہ خدا پرست ہے۔ اور جس کا دل خدا کی عظمت کے احساس میں ڈوبا ہوا نہ ہو، وہ خدا پرست نہیں۔