Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 7:188 Prev 7:186


Arabic

يَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلسَّاعَةِ أَيَّانَ مُرۡسَىٰهَاۖ قُلۡ إِنَّمَا عِلۡمُهَا عِندَ رَبِّيۖ لَا يُجَلِّيهَا لِوَقۡتِهَآ إِلَّا هُوَۚ ثَقُلَتۡ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ لَا تَأۡتِيكُمۡ إِلَّا بَغۡتَةٗۗ يَسۡـَٔلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِيٌّ عَنۡهَاۖ قُلۡ إِنَّمَا عِلۡمُهَا عِندَ ٱللَّهِ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ آخر وہ قیامت کی گھڑی کب نازل ہوگی؟ کہو “اس کا علم میرے رب ہی کے پاس ہے اُسے اپنے وقت پر وہی ظاہر کرے گا آسمانوں اور زمین میں وہ بڑا سخت وقت ہوگا وہ تم پر اچانک آ جائے گا” یہ لوگ اس کے متعلق تم سے اس طرح پوچھتے ہیں گویا کہ تم اس کی کھوج میں لگے ہوئے ہو کہو “اس کا علم تو صرف اللہ کو ہے مگر اکثر لوگ اس حقیقت سے نا واقف ہیں


English (Sahih International)

They ask you, [O Muhammad], about the Hour: when is its arrival? Say, “Its knowledge is only with my Lord. None will reveal its time except Him. It lays heavily upon the heavens and the earth. It will not come upon you except unexpectedly.” They ask you as if you are familiar with it. Say, “Its knowledge is only with Allah, but most of the people do not know


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 187 یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ السَّاعَۃِ اَیَّانَ مُرْسٰٹہَاط قُلْ اِنَّمَا عِلْمُہَا عِنْدَ رَبِّیْ ج۔ یہ لوگ آپ ﷺ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ کب لنگر انداز ہوگی ؟ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ اس کے بارے میں سوائے میرے اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔ کسی کے پاس اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ مُرْسٰی جہاز کے لنگر انداز ہونے کو کہا جاتا ہے۔ جیسے بِسْمِ اللّٰہِ مَجْرٖٹھَٰا وَمُرْسٰھَا۔لاَ یُجَلِّیْہَا لِوَقْتِہَآ اِلاَّ ہُوَ ط ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط آسمان و زمین اس سے بوجھل ہیں۔ جیسے ایک مادہ اپنا حمل لیے پھرتی ہے ‘ اسی طرح یہ کائنات بھی قیامت کو یعنی اپنی فنا کو لیے لیے پھرتی ہے۔ ہر شے جو تخلیق کی گئی ہے اس کی ایک اجل مسمیٰ اس کے اندر موجود ہے۔ گویا ہر مخلوق کی موت اس کے وجود کے اندر سمو دی گئی ہے۔ چناچہ ہر انسان اپنی موت کو ساتھ ساتھ لیے پھر رہا ہے اور اسی لحاظ سے پوری کائنات بھی۔ لاَ تَاْتِیْکُمْ الاَّ بَغْتَۃً ط یَسْءَلُوْنَکَ کَاَنَّکَ حَفِیٌّ عَنْہَا ط آپ ﷺ سے تو وہ ایسے پوچھتے ہیں جیسے سمجھتے ہوں کہ آپ کو تو بس قیامت کی تاریخ ہی کے بارے میں فکر دامن گیر ہے اور آپ اس کی تحقیق و جستجو میں لگے ہوئے ہیں۔ حالانکہ آپ کا اس سے کوئی سروکار نہیں ‘ یہ تو ہمارا معاملہ ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

The commentary on this ayah is given with ayah 7:184.


Connections

  • Previous: 7_186
  • Next: 7_188
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes