Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَلَقَدۡ ذَرَأۡنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلۡجِنِّ وَٱلۡإِنسِۖ لَهُمۡ قُلُوبٞ لَّا يَفۡقَهُونَ بِهَا وَلَهُمۡ أَعۡيُنٞ لَّا يُبۡصِرُونَ بِهَا وَلَهُمۡ ءَاذَانٞ لَّا يَسۡمَعُونَ بِهَآۚ أُوْلَـٰٓئِكَ كَٱلۡأَنۡعَٰمِ بَلۡ هُمۡ أَضَلُّۚ أُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡغَٰفِلُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور یہ حقیقت ہے کہ بہت سے جن اور انسان ایسے ہیں جن کو ہم نے جہنم ہی کے لیے پیدا کیا ہے ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے، یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھو ئے گئے ہیں
English (Sahih International)
And We have certainly created for Hell many of the jinn and mankind. They have hearts with which they do not understand, they have eyes with which they do not see, and they have ears with which they do not hear. Those are like livestock; rather, they are more astray. It is they who are the heedless
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
اُولٰٓءِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّط اُولٰٓءِکَ ہُمُ الْغٰفِلُوْنَ یعنی جب انسان ہدایت سے منہ موڑتا ہے اور ہٹ دھرمی پر اتر آتا ہے تو نتیجتاً اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے دلوں پر مہر کردیتا ہے۔ اس کے بعد ان کے دل تفقہ سے یکسر خالی ہوجاتے ہیں ‘ ان کی آنکھیں انسانی آنکھیں نہیں رہتیں اور نہ ان کے کان انسانی کان رہتے ہیں۔ اب ان کا دیکھنا حیوانوں جیسا دیکھنا رہ جاتا ہے اور ان کا سننا حیوانوں جیسا سننا۔ جیسے کتا بھی دیکھ لیتا ہے کہ گاڑی آرہی ہے مجھے اس سے بچنا ہے۔ جبکہ انسانی دیکھنا تو یہ ہے کہ انسان کسی چیز کو دیکھے ‘ اس کی حقیقت کو سمجھے اور پھر درست نتائج اخذ کرے۔ اسی فلسفے کو علامہ اقبال ؔ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے اے اہل نظر ذوق نظر خوب ہے لیکن جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا !چنانچہ علامہ اقبال کہتے ہیں ع دیدن دگر آموز ‘ شنیدن دگر آموز ! یعنی دوسری طرح کا دیکھنا سیکھو ‘ دوسری طرح کا سننا سیکھو ! وہ دیکھنا جو دل کی آنکھ سے دیکھا جاتا ہے اور وہ سننا جو دل سے سنا جاتا ہے۔ لیکن جب ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر ہوگئی اور ان کی آنکھوں پر پردے ڈال دیے گئے تو اب ان کا حال یہ ہے کہ یہ چوپایوں کی مانند ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے۔ ایسے لوگوں کو چوپایوں سے بد تر اس لیے کہا گیا ہے کہ چوپایوں کو تو اللہ تعالیٰ نے پیدا ہی کم تر سطح پر کیا ہے ‘ جبکہ انسان کا تخلیقی مقام بہت اعلیٰ ہے ‘ لیکن جب انسان اس اعلیٰ مقام سے گرتا ہے تو پھر وہ نہ صرف شرف انسانیت کو کھو دیتا ہے بلکہ جانوروں سے بھی بد تر ہوجاتا ہے۔ یہی مضمون ہے جو سورة التین میں اس طرح بیان ہوا ہے : لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ۔ ثُمَّ رَدَدْنٰہُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَ یعنی انسان کو پیدا کیا گیا بہترین اندازے پر ‘ بلند ترین سطح پر ‘ یہاں تک کہ اپنے تخلیقی معیار کے مطابق وہ مسجود ملائک ٹھہرا ‘ لیکن جب وہ اس مقام سے نیچے گراتو کم ترین سطح کی مخلوق سے بھی کم ترین ہوگیا۔ پھر اس کی زندگی محض حیوانی زندگی بن کر رہ گئی ‘ حیوانوں کی طرح کھایا پیا ‘ دنیا کی لذتیں حاصل کیں اور مرگیا۔ نہ زندگی کے مقصد کا ادراک ‘ نہ اپنے خالق ومالک کی پہچان ‘ نہ اللہ کے سامنے حاضری کا ڈر اور نہ آخرت میں احتساب کی فکر۔ یہ وہ انسانی زندگی ہے جو انسان کے لیے باعث شرم ہے۔ بقول سعدی شیرازی ؔ زندگی آمد برائے بندگی زندگی بےبندگی شر مندگی !
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 179 to 183.
سچائی ایک ایسی چیز ہے جس کو ہر آدمی کو خود پانا پڑتاہے۔ خدا نے ہر آدمی کو دل اور آنکھ او رکان ديے ہیں۔ آدمی انھیں صلاحیتوں کو استعمال کرکے سچائی کو پاتا ہے۔ اور جو شخص ان صلاحیتوں کو استعمال نہ کرے وہ یقیناً سچائی کو پانے سے محروم رہے گا،خواہ سچائی اس سے کتنا ہی زیادہ قریب موجود ہو۔
سچائی کو پانا ہر آدمی کا ایک شعوری اور ارادی فعل ہے۔ سچائی کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس نے اپنے دل کے دروازے اس کے ليے کھلے رکھے ہوں۔ اس کو وہی دیکھ سکتا ہے جس نے اپنی آنکھوں پر مصنوعی پردے نہ ڈالے ہوں۔ اس کی آواز اسی کو سنائی دے سکتی ہے جس نے اپنے کان میں کسی قسم کے ڈاٹ نہ لگارکھے ہوں۔ ایسے لوگ سچائی کی آواز کو پہچان کر اس کے آگے اپنے کو ڈال دیں گے۔ اور جس شخص کا معاملہ اس کے برعکس ہو وہ چوپایوں کی طرح نا سمجھ بنا رہے گا۔ پہاڑ جیسے دلائل کا وزن محسوس کرنا بھی اس کے ليے ممکن نہ ہوگا۔ اس کے سامنے خدا کی تجلّیاں ظاہر ہوں گی مگر وہ اس کو دیکھنے سے عاجز ہوگا۔ اس کے پاس خدا کا نغمہ چھیڑا جائے گا مگر وہ اس کو سننے سے محروم رہے گا۔ سچائی ہمیشہ بیدار لوگوں کو ملتی ہے۔ غافلوں کے ليے کوئی سچائی سچائی نہیں۔
خدا کے بارے میںانسان کے بے راہ ہونے کی وجہ اکثر یہ ہوتی ہے كه وه خدا كو مانتے هوئے اپنے ذهن ميں خدا كي غلط تصوير بنا ليتا هے۔ وه خدا كي طرف ايسي باتيں منسوب كرديتا هے جو اس کے شایان شان نہیں ہیں۔ مثلاً انسانوں کے حالات پر قیاس کرکے خدا کے مقربین کا عقیدہ بنالینا۔ بادشاہوں کو دیکھ کر یہ فرض کرلینا کہ جس طرح بادشاہوں کے نائب اور مددگار ہوتے ہیں اسی طرح خدا کے بھی نائب اور مددگار ہیں۔ خدائی فیصلہ کے بارے میں ایسا خیال قائم کرلینا جس میں آدمی کی اپنی خواہشیں تو پوری ہورہی ہوں مگر وہ خداوندی عدل سے مطابقت نہ رکھتاہو۔ یہ خدا کے ناموں میں کجی کرنا ہے کہ خدا کی طرف ایسی باتیں منسوب کی جائیں جو اس کی عظمت کے شایان شان نہ ہوں۔
خدا کسی آدمی کی کج روی پر فوراً اس کو نہیں پکڑتا۔ اس طرح اس کو موقع دیاجاتاہے کہ وہ یا تو خدا کی تنبیہات کو دیکھ کر سنبھل جائے یا مزید ڈھیٹ ہوکر اپنے جرم کو پوری طرح ثابت شدہ بنادے۔