Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 7:176 Prev 7:174


Arabic

وَٱتۡلُ عَلَيۡهِمۡ نَبَأَ ٱلَّذِيٓ ءَاتَيۡنَٰهُ ءَايَٰتِنَا فَٱنسَلَخَ مِنۡهَا فَأَتۡبَعَهُ ٱلشَّيۡطَٰنُ فَكَانَ مِنَ ٱلۡغَاوِينَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اور اے محمدؐ، اِن کے سامنے اُس شخص کا حال بیان کرو جس کو ہم نے اپنی آیات کا علم عطا کیا تھا مگر وہ ان کی پابندی سے نکل بھاگا آخرکار شیطان اس کے پیچھے پڑ گیا یہاں تک کہ وہ بھٹکنے والوں میں شامل ہو کر رہا


English (Sahih International)

And recite to them, [O Muhammad], the news of him to whom we gave [knowledge of] Our signs, but he detached himself from them; so Satan pursued him, and he became of the deviators


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 175 وَاتْلُ عَلَیْہِمْ نَبَاَ الَّذِیْٓ اٰتَیْنٰہُ اٰیٰتِنَا یہاں پر اس واقعے کے لیے لفظ نبأ استعمال ہوا ہے جس کے لغوی معنی خبر کے ہیں۔ اس سے وا ضح ہوتا ہے کہ یہ کوئی تمثیل نہیں بلکہ حقیقی واقعہ ہے۔ دوسرے جو یہ فرمایا گیا کہ اس شخص کو ہم نے اپنی آیات عطا کی تھیں ‘ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ شخصصاحب کرامت بزرگ تھا۔ اس واقعے کی تفصیل ہمیں تورات میں بھی ملتی ہے جس کے مطابق یہ شخص بنی اسرائیل میں سے تھا۔ اس کا نام بلعم بن باعور اء تھا اور یہ ایک بہت بڑا عابد ‘ زاہد اور عالم تھا۔فَانْسَلَخَ مِنْہَا فَاَتْبَعَہُ الشَّیْطٰنُ یہاں پر یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ پہلے انسان خود غلطی کرتا ہے ‘ شیطان اسے کسی برائی پر مجبور نہیں کرسکتا ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے مطابق اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْہِمْ سُلْطٰنٌ الاَّ مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْغٰوِیْنَ الحجر شیطان کو کسی بندے پر کوئی اختیار حاصل نہیں ‘ لیکن جب بندہ اللہ کی نافرمانی کی طرف لپکتا ہے اور برائی کر بیٹھتا ہے تو وہ شیطان کا آسان شکار بن جاتا ہے۔ شیطان ایسے شخص کے پیچھے لگ جاتا ہے اور اگر وہ توبہ کر کے رجوع نہ کرے تو اسے تدریجاً دُور سے دور لے جاتا ہے یہاں تک کہ اسے برائی کی آخری منزل تک پہنچا کر دم لیتا ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 175 to 178.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص امیہ بن ابی الصلت تھا۔ اعلیٰ انسانی اوصاف کے ساتھ وہ حکیمانہ کلام میں بھی ممتاز درجہ رکھتا تھا۔ اس کو جب معلوم ہوا کہ عیسائیوں اور یہودیوں کی کتابوں میں ایک پیغمبر کے آنے کی پیشین گوئیاں موجود ہیں تو اس کو گمان ہوا کہ شاید وہ پیغمبر میں ہی ہوں۔ بعد کو جب اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوائے نبوت کی خبر ملی اور اس نے آپ کا اعلیٰ کلام سنا تو اس کو سخت مایوسی ہوئی۔ وہ پیغمبر اسلام کا سخت مخالف بن گیا۔ امیہ بن ابی الصلت کو خدا نے جو اعلیٰ خصوصیات دی تھیں ان کا صحیح استعمال یہ تھا کہ وہ خدا کے پیغمبر کو پہچانے اور ان کا ساتھی بن جائے۔ مگر خدا کی نوازشوں سے ا س نے اپنے اندر یہ ذہن بنایا کہ اب خدا کو میرے سوا کسی اور پر اپنا فضل نہ کرنا چاہيے۔ پیغمبر خدا کو نہ ماننے میں اسے دنیوی فائدہ نظر آتا تھا اس کے برعکس، آپ کو ماننے میں اخروی فائدہ تھا۔ اس نے آخرت کے مقابلہ میں دنیا کو ترجیح دی۔ وہ اگر اعتراف کے رخ پر چلتا تو وہ فرشتوں کو اپنا ہم سفر بناتا۔ مگر جب وہ حسد اور گھمنڈ کے راستہ پر چل پڑا تو وہاں شیطان کے سوا کوئی اور نہ تھا جو اس کا ساتھ دے۔ یہ مثال ان تمام لوگوں پر صادق آتی ہے جو حسد اور کبر کی بنا پر سچائی کو نظر انداز کریں یا اس کو ماننے سے انکار کریں۔

کسی آدمی کا ایسا بننا اپنے آپ کو انسانیت کے مقام سے گرا کر کتے کے مقام پر پہنچا دینا ہے۔ کتا اچھے سلوک پر بھی ہانپتا ہے اور برے سلوک پر بھی۔ یہی حال ایسے آدمی کا ہے۔خدا نے جب اس کو دیا تب بھی اس نے اس سے سرکشی کی غذا لی اور نہ دیا تب بھی وہ سرکش ہی بنا رہا۔ حالاں کہ چاہیے یہ تھا کہ جب خدا نے اس کو دیا تھا تو وہ اس کا احسان مند ہوتا اور جب خدا نے نہیں دیا تو وہ خدا کی تقسیم پر راضی رہ کر اس کی طرف رجوع کرتا۔

کسی کو راستہ دکھانے کے ليے خدا خود سامنے نہیں آتا بلکہ وہ نشانیوں (دلائل) کی صورت میں اپنا راستہ لوگوں کے اوپر کھولتا ہے۔ جن لوگوں کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ دلائل اور نشانیوں کے روپ میں ظاہر ہونے والے حق کو پہچان لیں اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کرنے پر راضی ہوجائیں وہی اس دنیا میں ہدایت یاب ہوتے ہیں۔ اور جو لوگ دلائل اور نشانیوں کو اہمیت نہ دیں ان کے ليے ابدی بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔


Connections

  • Previous: 7_174
  • Next: 7_176
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes