Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَإِذۡ قِيلَ لَهُمُ ٱسۡكُنُواْ هَٰذِهِ ٱلۡقَرۡيَةَ وَكُلُواْ مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ وَقُولُواْ حِطَّةٞ وَٱدۡخُلُواْ ٱلۡبَابَ سُجَّدٗا نَّغۡفِرۡ لَكُمۡ خَطِيٓـَٰٔتِكُمۡۚ سَنَزِيدُ ٱلۡمُحۡسِنِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
یاد کرو وہ وقت جب ان سے کہا گیا تھا کہ اِس بستی میں جا کر بس جاؤ اور اس کی پیداوار سے حسب منشا روزی حاصل کرو اور حطۃ حطۃ کہتے جاؤ اور شہر کے دروازے میں سجدہ ریز ہوتے ہوئے داخل ہو، ہم تمہاری خطائیں معاف کریں گے اور نیک رویہ رکھنے والوں کو مزید فضل سے نوازیں گے
English (Sahih International)
And [mention, O Muhammad], when it was said to them, “Dwell in this city and eat from it wherever you will and say, ‘Relieve us of our burdens,’ and enter the gate bowing humbly; We will [then] forgive you your sins. We will increase the doers of good [in goodness and reward]
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 161 وَاِذْ قِیْلَ لَہُمُ اسْکُنُوْا ہٰذِہِ الْقَرْیَۃَ وَکُلُوْا مِنْہَا حَیْثُ شِءْتُمْ اس شہر کا نام اریحا تھا ‘ جو آج بھی جریکو Jericho کے نام سے موجود ہے۔ یہ فلسطین کا پہلا شہر تھا جو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ حضرت یوشع بن نون کی سرکردگی میں باقاعدہ جنگ کر کے فتح کیا تھا۔ وَقُوْلُوْا حِطَّۃٌ وَّادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا اور استغفار کرتے رہو ‘ اور شہر کے دروازے میں سر جھکا کر داخل ہونا انہیں حکم دیا گیا تھا کہ جب شہر میں داخل ہوں تو ’ حِطَّۃٌ‘ کا ورد کرتے ہوئے داخل ہوں۔ اس لفظ کے معنی استغفار کرنے کے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے اپنی لغزشوں اور کوتاہیوں کی معافی مانگتے ہوئے شہر میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس ضمن میں دوسرا حکم یہ تھا کہ جب تم فاتح کی حیثیت سے شہر کے دروازے سے داخل ہو تو اس وقت اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی اختیار کرتے ہوئے سجدۂ شکر ادا کرنا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس وقت تکبر سے تمہاری گردنیں اکڑی ہوئی ہوں۔ نَّغْفِرْ لَکُمْ خَطِیْٓءٰتِکُمْط سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ اس طرح سے ہم نہ صرف یہ کہ تمہاری خطائیں لغزشیں اور فروگزاشتیں معاف کردیں گے ‘ بلکہ تم میں سے مخلص اور نیک لوگوں کو مزید نوازیں گے ‘ ان کے درجات بلند کریں گے اور ان کو اونچے اونچے مراتب عطا کریں گے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 7:160.