Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
۞وَٱكۡتُبۡ لَنَا فِي هَٰذِهِ ٱلدُّنۡيَا حَسَنَةٗ وَفِي ٱلۡأٓخِرَةِ إِنَّا هُدۡنَآ إِلَيۡكَۚ قَالَ عَذَابِيٓ أُصِيبُ بِهِۦ مَنۡ أَشَآءُۖ وَرَحۡمَتِي وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٖۚ فَسَأَكۡتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱلَّذِينَ هُم بِـَٔايَٰتِنَا يُؤۡمِنُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور ہمارے لیے اس دنیا کی بھلائی بھی لکھ دیجیے اور آخرت کی بھی، ہم نے آپ کی طرف رجوع کر لیا” جواب میں ارشاد ہوا “سزا تو میں جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں، مگر میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے، اور اُسے میں اُن لوگوں کے حق میں لکھوں گا جو نافرمانی سے پرہیز کریں گے، زکوٰۃ دیں گے اور میری آیات پر ایمان لائیں گے
English (Sahih International)
And decree for us in this world [that which is] good and [also] in the Hereafter; indeed, we have turned back to You.” [Allah] said, “My punishment - I afflict with it whom I will, but My mercy encompasses all things.” So I will decree it [especially] for those who fear Me and give zakah and those who believe in Our verses
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 156 وَاکْتُبْ لَنَا فِیْ ہٰذِہِ الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے لیے جو دعا کی ‘ یہ وہی الفاظ ہیں جو سورة البقرۃ میں مسلمانوں کو سکھائے گئے ہیں : رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَاحَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَاب النَّارِ اِنَّا ہُدْنَآ اِلَیْکَ ط۔ یعنی ہم سے جو خطا ہوگئی ہے اس کا اعتراف کرتے ہوئے ہم معافی چاہتے ہیں۔ قَالَ عَذَابِیْٓ اُصِیْبُ بِہٖ مَنْ اَشَآءُج وَرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْءٍ ط rٰ علیہ السلام ٰ علیہ السلام یعنی میری ایک رحمت تو وہ ہے جو ہر شے کے شامل حال ہے ‘ ہر شے پر محیط ہے۔ ہر شے کا وجود اور بقا میری رحمت ہی سے ممکن ہے۔ یہ پوری کائنات اور اس کا تسلسل میری رحمت ہی کا مرہون منت ہے۔ میری اس رحمت عامہ سے میری تمام مخلوقات حصہ پا رہی ہیں ‘ لیکن جہاں تک میری رحمت خاصہ کا تعلق ہے جس کے لیے تم لوگ ابھی سوال کر رہے ہو :
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 7:154.