Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
كَذَّبَتۡ ثَمُودُ وَعَادُۢ بِٱلۡقَارِعَةِ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
ثمود اور عاد نے اُس اچانک ٹوٹ پڑنے والی آفت کو جھٹلایا
English (Sahih International)
Thamud and ‘Aad denied the Striking Calamity
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 4 { کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَعَادٌم بِالْقَارِعَۃِ۔ } ”جھٹلایا تھا ثمود نے بھی اور عاد نے بھی اس کھڑکھڑا دینے والی کو۔“ القارعۃ سے مراد بھی قیامت ہے۔ قَـرَعَ کا معنی ہے ایک سخت چیز کو دوسری چیز سے ٹکرانا ‘ کو ٹنا ‘ ریزہ ریزہ کردینا ‘ کھڑکھڑا دینا ‘ یا بہت زور سے کھٹکھٹانا۔ الحاقّۃ اور القارعۃ ان دونوں الفاظ کے مابین ایک نسبت یہ بھی ہے کہ یہ دوسورتوں کے نام ہیں اور ان دونوں سورتوں کے آغاز کا انداز بھی ایک جیسا ہے۔ چناچہ سورة القارعۃ کا آغاز بھی بالکل اسی طرح ہو رہا ہے : { اَلْقَارِعَۃُ - مَا الْقَارِعَۃُ - وَمَـآ اَدْرٰٹکَ مَا الْقَارِعَۃُ۔ }
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 69:1.