Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
فَٱصۡبِرۡ لِحُكۡمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُن كَصَاحِبِ ٱلۡحُوتِ إِذۡ نَادَىٰ وَهُوَ مَكۡظُومٞ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
پس اپنے رب کا فیصلہ صادر ہونے تک صبر کرو اور مچھلی والے (یونس علیہ اسلام) کی طرح نہ ہو جاؤ، جب اُس نے پکارا تھا اور وہ غم سے بھرا ہوا تھا
English (Sahih International)
Then be patient for the decision of your Lord, [O Muhammad], and be not like the companion of the fish when he called out while he was distressed
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 48{ فَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ انتظار کیجیے اپنے رب کے حکم کا“ { وَلَا تَکُنْ کَصَاحِبِ الْحُوْتِ 7 } ”اور دیکھئے ‘ آپ ﷺ اس مچھلی والے کی طرح نہ ہوجایئے گا !“ ”مچھلی والے“ سے یہاں حضرت یونس علیہ السلام مراد ہیں۔ آپ علیہ السلام کی قوم پر جب عذاب کا فیصلہ ہوگیا تو آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کیے بغیر ہی اپنی قوم کا علاقہ چھوڑ کر چلے گئے۔ اس کا ذکر سورة الانبیاء کی آیت 87 میں اس طرح آیا ہے : { اِذْ ذَّہَبَ مُغَاضِبًا } ”جب وہ چل دیا غصے میں بھرا ہوا“۔ آپ علیہ السلام کا یہ غصہ حمیت حق میں تھا اور قوم کی طرف سے مسلسل ہٹ دھرمی اور کفر کی وجہ سے تھا۔ لیکن اس میں خطا کا پہلو یہ تھا کہ آپ علیہ السلام نے ہجرت کرنے سے متعلق اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار نہ کیا۔ { اِذْ نَادٰی وَہُوَ مَکْظُوْمٌ۔ } ”جب اس نے پکارا اپنے رب کو اور وہ اپنے غم کو اندر ہی اندرپی رہا تھا۔“ حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں انتہائی رنجیدہ حالت میں اللہ سے فریاد کر رہے تھے : { لآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰنَکَق اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ۔ } الانبیاء ”تیرے سوا کوئی معبود نہیں ‘ تو پاک ہے اور یقینا میں ہی ظالموں میں سے ہوں۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 68:46.