Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 67:6 Prev 67:4


Arabic

وَلَقَدۡ زَيَّنَّا ٱلسَّمَآءَ ٱلدُّنۡيَا بِمَصَٰبِيحَ وَجَعَلۡنَٰهَا رُجُومٗا لِّلشَّيَٰطِينِۖ وَأَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ عَذَابَ ٱلسَّعِيرِ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

ہم نے تمہارے قریب کے آسمان کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور اُنہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنا دیا ہے اِن شیطانوں کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ ہم نے مہیا کر رکھی ہے


English (Sahih International)

And We have certainly beautified the nearest heaven with stars and have made [from] them what is thrown at the devils and have prepared for them the punishment of the Blaze


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 5{ وَلَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآئَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ } ”اور ہم نے سب سے قریبی آسمان کو سجا دیا ہے چراغوں سے“ یعنی زمین سے قریب ترین آسمان کو ستاروں سے مزین کردیا گیا ہے۔ { وَجَعَلْنٰـہَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ } ”اور ان کو بنا دیا ہے ہم نے شیاطین کو نشانہ بنانے کا ذریعہ“ ان ستاروں میں ایسے میزائل نصب کردیے گئے ہیں جو غیب کی خبروں کی ٹوہ میں عالم بالا کی طرف جانے والے شیاطین ِجن کو نشانہ بناتے ہیں۔ { وَاَعْتَدْنَا لَہُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ۔ } ”اور ان کے لیے ہم نے تیار کر رکھا ہے جلا دینے والا عذاب۔“


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 5 to 14.

آخرت کے عذاب کا موجودہ دنیا میں ناقابلِ مشاہدہ ہونا عین خدائی منصوبہ کے مطابق ہے۔ خدا کو ان انسانوں کا انتخاب کرنا ہے جو بن دیکھے اس کی عظمت کو مانیں، جو بن دیکھے اس کے فرمان بردار بن جائیں۔ اور ایسے لوگوں کا اندازہ اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ لوگوں کے اخروی انجام کو ان کی نگاہوں سے اوجھل رکھا جائے، تاکہ آدمی جو کچھ کرے اپنے آزاد ارادہ کے تحت کرے، نہ کہ مجبورانہ حکم کے تحت۔


Connections

  • Previous: 67_4
  • Next: 67_6
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes