Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
تَبَٰرَكَ ٱلَّذِي بِيَدِهِ ٱلۡمُلۡكُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
نہایت بزرگ و برتر ہے وہ جس کے ہاتھ میں کائنات کی سلطنت ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
English (Sahih International)
Blessed is He in whose hand is dominion, and He is over all things competent
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 1{ تَبٰـرَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ } ”بہت ہی بابرکت ہے وہ ہستی جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے“ یہ دین اسلام کے سیاسی منشور کی بنیادی شق ہے۔ یعنی پوری کائنات کا اقتدار اور اختیار کلی طور پر اللہ تعالیٰ کے دست قدرت میں ہے۔ دنیا میں اگر انسانوں کے ہاں اللہ تعالیٰ کے احکام سے کہیں بغاوت دکھائی دیتی ہے تو وہ بھی دراصل اسی کے عطا کردہ اختیار کی وجہ سے ہے۔ اس میں ایمان کے دعوے داروں کا امتحان بھی ہے کہ وہ بھلا اللہ کے اقتدار کو چیلنج کرنے والوں کے مقابلے میں کیا طرزعمل اختیار کرتے ہیں۔ ورنہ سورج ‘ چاند ‘ ستارے ‘ کہکشائیں ‘ ہوائیں اور کائنات کا ذرّہ ذرّہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا پابند اور تابع ہے۔ پوری کائنات پر اللہ تعالیٰ کی حکومت اور قدرت کی کیفیت یہ ہے کہ کہیں کوئی ایک ذرہ بھی اس کی مرضی کے بغیر حرکت نہیں کرسکتا اور حرکت کرتا ہوا کوئی ذرہ اس کی مشیت کے بغیر ساکن نہیں ہوسکتا۔ اپنی تمام مخلوق میں صرف انسان کو اس نے ایک حد تک ارادے اور عمل کا اختیار دیا ہے اور وہ بھی اس لیے کہ اس میں انسان کی آزمائش مقصود ہے۔ لیکن انسان ہے کہ ہلدی کی یہ گانٹھ مل جانے پر پنساری بن بیٹھا ہے۔ اب کہیں وہ فرعون بن کر اللہ کے مقابلے میں ”میری حکومت ‘ میرا ملک اور میرا مثالی نظام“ جیسے دعو وں کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے تو کہیں کسی فرعون کی چاکری اور وفاداری کی دھن میں مقتدر حقیقی کے احکام کو پامال کرتا چلا جاتا ہے۔ جبکہ حقیقت میں انسان کی بےبسی کا عالم یہ ہے کہ خود اپنے جسم پر بھی اسے کوئی اختیار نہیں۔ ظاہر ہے انسان کے جسم کی فزیالوجی اور اناٹومی کا سارا نظام بھی تو اللہ تعالیٰ کے طے کردہ قانون کے تابع ہے۔ اگر کوئی شخص چاہے کہ وہ اپنے دل کو آرام دینے کے لیے تھوڑی دیر کے لیے بند کردے اور پھر اپنی مرضی سے دوبارہ رواں کرلے تو اس کے لیے یہ ممکن نہیں۔ { وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرُ۔ } ”اور وہ ہرچیز پر قادر ہے۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 1 to 4.
جب ایک شخص موجودہ دنیا کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کو یہاں ایک تضاد نظر آتا ہے۔ انسان کے سوا جو بقیہ کائنات ہے وہ انتہائی حد تک منظم اور کامل ہے۔ اس میں کہیں کوئی نقص نظر نہیں آتا۔ اس کے برعکس، انسانی زندگی میں ظلم و فساد نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ انسان کی علیحدہ نوعیت ہے۔ انسان اس دنیا میں حالت امتحان میں ہے۔ امتحان لازمی طور پر عمل کی آزادی چاہتا ہے۔ اسی عمل کی آزادی نے انسان کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ دنیا میں ظلم و فساد کرسکے۔
انسانی دنیا کا ظلم انسانی آزادی کی قیمت ہے۔ اگر یہ حالات نہ ہوں تو ان قیمتی انسانوں کا انتخاب کیسے کیا جائے گا جنہوں نے ظلم کے مواقع پاتے ہوئے ظلم نہیں کیا۔ جنہوں نے سرکشی کی طاقت رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو سرکشی سے بچایا۔
Connections
- Previous: (Start of Surah)
- Next: 67_2
- Thematic: (add links here)