Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 66:2


Arabic

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ أَحَلَّ ٱللَّهُ لَكَۖ تَبۡتَغِي مَرۡضَاتَ أَزۡوَٰجِكَۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اے نبیؐ، تم کیوں اُس چیز کو حرام کرتے ہو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہے؟ (کیا اس لیے کہ) تم اپنی بیویوں کی خوشی چاہتے ہو؟ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے


English (Sahih International)

O Prophet, why do you prohibit [yourself from] what Allah has made lawful for you, seeking the approval of your wives? And Allah is Forgiving and Merciful


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 1{ یٰٓـاَیـُّھَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کیوں حرام ٹھہرا رہے ہیں اپنے اوپر وہ شے جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کی ہے ؟“ { تَـبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِکَ } ”آپ ﷺ چاہتے ہیں اپنی بیویوں کی رضا جوئی !“ { وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ } ”اور اللہ بہت معاف کرنے والا ‘ بہت رحم کرنے والا ہے۔“ یعنی اللہ کو یہ بات پسند نہیں آئی ‘ لیکن اس نے معاف فرما دیا ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 1 and 2.

بیویوں کے پیدا کردہ بعض اندرونی مسائل کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں قسم کھالی کہ میں شہد نہیں کھاؤں گا۔ مگر پیغمبر کا عمل اس کی امت کے لیے نمونہ بن جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالی نے حکم دیا کہ آپ شرعی طریقہ کے مطابق کفارہ ادا کر کے اپنی قسم کو توڑ دیں۔ اور شہد نہ کھانے کے عہد سے اپنے آپ کو آزادکرلیں ۔تا کہ ایسا نہ ہو کہ آئندہ آپ کے امتی اس کو تقوی کا معیار سمجھ کر شہد کھانے سے پرہیز کرنے لگیں۔


Connections

  • Previous: (Start of Surah)
  • Next: 66_2
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes