Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
أَسۡكِنُوهُنَّ مِنۡ حَيۡثُ سَكَنتُم مِّن وُجۡدِكُمۡ وَلَا تُضَآرُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُواْ عَلَيۡهِنَّۚ وَإِن كُنَّ أُوْلَٰتِ حَمۡلٖ فَأَنفِقُواْ عَلَيۡهِنَّ حَتَّىٰ يَضَعۡنَ حَمۡلَهُنَّۚ فَإِنۡ أَرۡضَعۡنَ لَكُمۡ فَـَٔاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ وَأۡتَمِرُواْ بَيۡنَكُم بِمَعۡرُوفٖۖ وَإِن تَعَاسَرۡتُمۡ فَسَتُرۡضِعُ لَهُۥٓ أُخۡرَىٰ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اُن کو (زمانہ عدت میں) اُسی جگہ رکھو جہاں تم رہتے ہو، جیسی کچھ بھی جگہ تمہیں میسر ہو اور انہیں تنگ کرنے کے لیے ان کو نہ ستاؤ اور اگر وہ حاملہ ہوں تو ان پر اُس وقت تک خرچ کرتے رہو جب تک ان کا وضع حمل نہ ہو جائے پھر اگر وہ تمہارے لیے (بچے کو) دودھ پلائیں تو ان کی اجرت انہیں دو، اور بھلے طریقے سے (اجرت کا معاملہ) باہمی گفت و شنید سے طے کر لو لیکن اگر تم نے (اجرت طے کرنے میں) ایک دوسرے کو تنگ کیا تو بچے کو کوئی اور عورت دودھ پلا لے گی
English (Sahih International)
Lodge them [in a section] of where you dwell out of your means and do not harm them in order to oppress them. And if they should be pregnant, then spend on them until they give birth. And if they breastfeed for you, then give them their payment and confer among yourselves in the acceptable way; but if you are in discord, then there may breastfeed for the father another woman
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 6{ اَسْکِنُوْہُنَّ مِنْ حَیْثُ سَکَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِکُمْ } ”اور ان عورتوں کو وہیں رکھو جہاں تم خود رہتے ہو اپنی حیثیت کے مطابق“ پہلی آیت میں واضح حکم آچکا ہے : { لَا تُخْرِجُوْہُنَّ مِنْم بُـیُوْتِہِنَّ وَلَا یَخْرُجْنَ } کہ طلاق کے بعد انہیں فوری طور پر گھر سے مت نکالو اور نہ ہی وہ از خود نکلیں۔ اسی حوالے سے اس آیت میں مزید وضاحت کی جا رہی ہے کہ عدت کے دوران مطلقہ خاتون کو بدستور ویسی ہی رہائش فراہم کی جائے جیسی کہ تمہارے اپنے استعمال میں ہے۔ ایسا نہ ہو کہ اسے گھر سے تو نہ نکالو لیکن کسی ملازمہ کی کو ٹھڑی میں ڈال دو۔ { وَلَا تُضَآرُّوْہُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْہِنَّ } ”اور انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچائو ‘ انہیں تنگ کرنے کے لیے۔“ گھر سے نکالنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حیلے بہانے سے اسے بار بار اس قدر ستایا جائے کہ وہ تنگ آکر خود ہی گھر سے نکل جائے۔ چناچہ بدنیتی پر مبنی یہ طریقہ استعمال کرنے سے بھی منع کردیا گیا۔ { وَاِنْ کُنَّ اُوْلَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْھِنَّ حَتّٰی یَضَعْنَ حَمْلَھُنَّج } ”اور اگر وہ حاملہ ہوں تو ان پر خرچ کرتے رہو یہاں تک کہ وہ حمل سے فارغ ہوجائیں۔“ دین اسلام ‘ ہمدردی اور غم گساری کا دین ہے اور اس کا ایک ثبوت مندرجہ بالا حکم ہے۔ حاملہ عورت کو انتہائی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے ‘ اس لیے یہاں خصوصی طور پر حکم دیا گیا کہ طلاق دینے کے بعد بھی حاملہ عورت کا خیال رکھتے ہوئے اس کی تمام ضرورتوں کو پورا کرتے رہو۔ { فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَـکُمْ فَاٰتُوْہُنَّ اُجُوْرَہُنَّ } ”پھر اگر وہ تمہارے لیے تمہارے بچے کو دودھ پلائیں تو انہیں ان کا معاوضہ ادا کرو۔“ { وَاْتَمِرُوْا بَیْنَـکُمْ بِمَعْرُوْفٍ } ”اور آپس میں مشورہ کرلیا کرو بھلے طریقے سے۔“ یعنی دودھ پلانے کی اجرت اور عدت سے متعلق معاملات مناسب طور سے آپس کے مشورے سے طے کیے جانے چاہئیں۔ اگر طلاق کے بعد وہ دونوں میاں بیوی نہیں رہے تو کیا ہوا ‘ آخر دونوں انسان تو ہیں۔ چناچہ انہیں چاہیے کہ تمام معاملات باہمی گفت و شنید سے طے کریں اور ایک دوسرے سے ایسا رویہ اختیار کریں جیسا کہ ایک شریف انسان کو دوسرے شریف انسان سے اختیار کرنا چاہیے۔ { وَاِنْ تَـعَاسَرْتُمْ } ”اور اگر تم ایک دوسرے سے تنگی محسوس کرو“ مثلاً خاتون ضد میں آکر دودھ پلانے سے انکار کر دے یا اس قدر معاوضہ مانگے جو مرد ادا نہ کرسکے ‘ یا مرد معاوضہ دینے سے انکار کر دے ‘ یا کسی اور طریقے سے ایک فریق دوسرے پر زیادتی کرنے کی ٹھان لے : { فَسَتُرْضِعُ لَــہٗٓ اُخْرٰی۔ } ”تو پھر کوئی اور عورت اس کے لیے دودھ پلائے گی۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 6 and 7.
اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ آدمی معاملات میں فریق ثانی کے ساتھ فراخ دلی کا طریقہ اختیار کرے۔ وہ صبر کے ساتھ خلاف مزاج باتوں کو سہے۔ ناگواریوں کے باوجود دوسرے کا حق ادا کرے۔ جب آدمی ایسا کرتا ہے تو وہ صرف فریق ثانی کے لیے اچھا نہیں کرتا بلکہ خود اپنے لیے بھی اچھا کرتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے اندر حقیقت پسندی کا مزاج پیدا کرتا ہے اور حقیقت پسندی کا مزاج بلاشبہ اس دنیا میں کامیابی کا سب سے بڑا زینہ ہے۔