Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَٱلَّـٰٓـِٔي يَئِسۡنَ مِنَ ٱلۡمَحِيضِ مِن نِّسَآئِكُمۡ إِنِ ٱرۡتَبۡتُمۡ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَٰثَةُ أَشۡهُرٖ وَٱلَّـٰٓـِٔي لَمۡ يَحِضۡنَۚ وَأُوْلَٰتُ ٱلۡأَحۡمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعۡنَ حَمۡلَهُنَّۚ وَمَن يَتَّقِ ٱللَّهَ يَجۡعَل لَّهُۥ مِنۡ أَمۡرِهِۦ يُسۡرٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں ان کے معاملہ میں اگر تم لوگوں کو کوئی شک لاحق ہے تو (تمہیں معلوم ہو کہ) ان کی عدت تین مہینے ہے اور یہی حکم اُن کا ہے جنہیں ابھی حیض نہ آیا ہو اور حاملہ عورتوں کی عدت کی حد یہ ہے کہ اُن کا وضع حمل ہو جائے جو شخص اللہ سے ڈرے اُس کے معاملہ میں وہ سہولت پیدا کر دیتا ہے
English (Sahih International)
And those who no longer expect menstruation among your women - if you doubt, then their period is three months, and [also for] those who have not menstruated. And for those who are pregnant, their term is until they give birth. And whoever fears Allah - He will make for him of his matter ease
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
اب آئندہ آیات میں پھر طلاق سے متعلق مسائل کا ذکر ہے : آیت 4 { وََالّٰٓئِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ } ”اور تمہارے ہاں کی خواتین میں سے جو حیض سے مایوس ہوچکی ہوں“ یعنی ایسی عمر رسیدہ خواتین جن کے حیض کا سلسلہ بند ہوچکا ہو۔ { اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍ } ”اگر تمہیں شک ہو تو ان کی عدت تین ماہ ہوگی“ ایسی خواتین کے معاملے میں چونکہ تین طہر اور تین حیض کا حساب کرنا ممکن نہیں ‘ اس لیے ان کی عدت کا شمار مہینوں میں کیا جائے گا۔ چناچہ ان کی عدت کی مدت تین ماہ ہوگی۔ { وََّالّٰٓئِیْ لَمْ یَحِضْنَط } ”اور ان کی بھی جن کو ابھی حیض آیا ہی نہیں۔“ اگر کسی لڑکی کا کم سنی میں نکاح ہوگیا اور ابھی اسے حیض آنا شروع نہیں ہوا تھا کہ طلاق ہوگئی تو اس کی عدت بھی تین ماہ ہی شمار ہوگی۔ { وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ } ”اور حاملہ خواتین کی عدت یہ ہے کہ ان کا وضع حمل ہوجائے۔“ ایسی صورت میں وضع حمل جب بھی ہوجائے گا عدت ختم ہوجائے گی ‘ چاہے اس میں نو ماہ لگیں یا ایک ماہ بعد ہی وضع حمل ہوجائے۔۔۔۔ اس کے بعد پھر سے تقویٰ کے بارے میں یاد دہانی کرائی جا رہی ہے۔ اس سے قبل پہلی اور دوسری آیت میں بھی تقویٰ کا ذکر آچکا ہے : { وَمَنْ یَّـتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مِنْ اَمْرِہٖ یُسْرًا۔ } ”اور جو کوئی اللہ کا تقویٰ اختیار کرتا ہے وہ اس کے کاموں میں آسانی پیدا کردیتا ہے۔“ جیسا کہ سورة الیل میں فرمایا گیا ہے :{ فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰی۔ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی۔ فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْیُسْرٰی۔ }”تو جس نے اللہ کی راہ میں مال دیا اور اللہ کی نافرمانی سے پرہیز کیا ‘ اور بھلائی کو سچ مانا ‘ اس کو ہم آسان راستے کے لیے سہولت دیں گے۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 4 and 5.
شریعت نے طلاق اور دوسرے معاملات میں انسان کو کچھ ضوابط کا پابند کیا ہے۔ یہ ضوابط بظاہر انسان کی آزادانہ طبیعت کے لیے رکاوٹ ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے یہ نعمت ہیں۔ ان ضوابط کا یہ فائدہ ہے کہ آدمی بہت سے غیر ضروری نقصانات سے بچ جاتا ہے۔ مزید یہ کہ اس دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں ہر نقصان کی تلافی کسی نہ کسی طرح کی جاتی ہے۔ تاہم یہ تلافی صرف اس شخص کے حصہ میں آتی ہے جو فطرت کے دائرہ سے باہر نہ جائے۔