Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 64:8 Prev 64:6


Arabic

زَعَمَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَن لَّن يُبۡعَثُواْۚ قُلۡ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتُبۡعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلۡتُمۡۚ وَذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٞ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

منکرین نے بڑے دعوے سے کہا ہے کہ وہ مرنے کے بعد ہرگز دوبارہ نہ اٹھائے جائیں گے ان سے کہو “نہیں، میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے، پھر ضرور تمہیں بتایا جائے گا کہ تم نے (دنیا میں) کیا کچھ کیا ہے، اور ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان ہے


English (Sahih International)

Those who disbelieve have claimed that they will never be resurrected. Say, “Yes, by my Lord, you will surely be resurrected; then you will surely be informed of what you did. And that, for Allah, is easy


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 7{ زَعَمَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا } ”کافروں کو یہ زعم ہے کہ وہ مرنے کے بعد ہرگز اٹھائے نہیں جائیں گے۔“ { قُلْ بَلٰی وَرَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَـبَّـؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیے : کیوں نہیں ! مجھے میرے رب کی قسم ہے ‘ تم لازماً اٹھائے جائو گے ‘ پھر تمہیں لازماً جتلایا جائے گا ان اعمال کے بارے میں جو تم نے کیے ہیں۔“ اس اسلوب میں جو زور اور تاکید ہے انسانی زبان سے اس کا بیان ناممکن ہے ! اللہ کا فرمان ‘ رسول اللہ ﷺ کی قسم اور انتہائی تاکیدی صیغوں کا استعمال ! اس سے بڑھ کر زوردار عبارت بھلا اور کونسی ہوگی۔ حضور ﷺ نے بنوہاشم کو دعوت کے سلسلے میں جو خطبہ دیا تھا اس کا مضمون اور اسلوب بھی اس جملے سے ملتا جلتا ہے۔ میرے کتابچے ”دعوت الی اللہ“ میں اس خطبے کا پورا متن موجود ہے۔ اس کتابچے کا انگریزی ترجمہ بھی Call to Allah کے عنوان سے ہوچکا ہے۔ اس خطبے کا اسلوب ملاحظہ ہو : وَاللّٰہِ لَتَمُوْتُنَّ کَمَا تَنَامُوْنَ ، ثُمَّ لَتُبْعَثُنَّ کَمَا تَسْتَـیْقِظُوْنَ ، ثُمَّ لَتُحَاسَبُنَّ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ، ثُمَّ لَتُجْزَوُنَّ بِالْاِحْسَانِ اِحْسَانًا وَبالسُّوْئِ سُوْئً ، وَاِنَّھَا لَجَنَّــۃٌ اَبَدًا اَوْ لَـنَارٌ اَبَدًا 1”خدا کی قسم تم سب مر جائو گے جیسے روزانہ سو جاتے ہو ! پھر یقینا تم اٹھائے جائو گے جیسے ہر صبح بیدار ہوجاتے ہو۔ پھر لازماً تمہارے اعمال کا حساب کتاب ہوگا ‘ اور پھر لازماً تمہیں بدلہ ملے گا اچھائی کا اچھائی اور برائی کا برائی ‘ اور وہ جنت ہے ہمیشہ کے لیے یا آگ ہے دائمی۔“ { وَذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ۔ } ”اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔“ یہ ابتدائی سات آیات ایمان کے بیان سے متعلق تھیں۔ ان میں پہلی چار آیات ذات و صفاتِ باری تعالیٰ پر ایمان سے متعلق ہیں۔ پھر دو آیات ایمانِ رسالت کے بارے میں ہیں ‘ جبکہ ساتویں آیت کا تعلق ایمان بالآخرت سے ہے۔ اب اگلی تین آیات میں ایمان کی زوردار دعوت دی جا رہی ہے :


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 7 to 13.

کوئی مصیبت اپنے آپ نہیں آتی، ہر مصیبت خدا کی طرف سے آتی ہے۔ اور اس لیے آتی ہے کہ اس کے ذریعہ سے انسان کو ہدایت عطا کی جائے۔ مصیبت آدمی کے دل کو نرم کرتی ہے۔ اور اس کی سوئی ہوئی نفسیات میں ہلچل پیدا کرتی ہے۔ مصیبت کے جھٹکے آدمی کے ذہن کو جگانے کا کام کرتے ہیں۔ اگر آدمی اپنے آپ کو منفی رد عمل سے بچائے تو مصیبت اس کے لیے بہترین ربانی معلم بن جائے گی۔


Connections

  • Previous: 64_6
  • Next: 64_8
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes