Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ بِٱلۡحَقِّ وَصَوَّرَكُمۡ فَأَحۡسَنَ صُوَرَكُمۡۖ وَإِلَيۡهِ ٱلۡمَصِيرُ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اس نے زمین اور آسمانوں کو برحق پیدا کیا ہے، اور تمہاری صورت بنائی اور بڑی عمدہ بنائی ہے، اور اسی کی طرف آخرکار تمہیں پلٹنا ہے
English (Sahih International)
He created the heavens and earth in truth and formed you and perfected your forms; and to Him is the [final] destination
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 3{ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ } ”اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا حق کے ساتھ“ اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات عبث پیدا نہیں کی ‘ بلکہ یہ ایک بہت ہی بامقصد اور نتیجہ خیز تخلیق ہے اور انسان اس کی تخلیق کی معراج ہے۔ چناچہ کائنات کی تخلیق کے ذکر کے بعد خاص طور پر تخلیق ِانسانی کا ذکر فرمایا : { وَصَوَّرَکُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَکُمْ } ”اور اس نے تمہاری صورت گری کی تو بہت ہی عمدہ صورت گری کی۔“ انسانی ڈھانچے کی ساخت ‘ جسم کی بناوٹ ‘ چہرے کے خدوخال ‘ غرض ایک ایک عضو کی تخلیق ہر پہلو سے کامل ‘ انتہائی متناسب اور دیدہ زیب ہے۔ { وَاِلَـیْہِ الْمَصِیْرُ۔ } ”اور اسی کی طرف سب کو لوٹنا ہے۔“ کیا تم لوگ سمجھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں تخلیق کے بہترین درجے پر فِیْ اَحْسَنِ تَقْوِیْم بنا کر اور بہترین صلاحیتوں سے نواز کر جانوروں اور کیڑوں مکوڑوں کی سی بےمقصد زندگی گزارنے کے لیے چھوڑ دیا ہے ؟ یا کیا تمہاری حیثیت اللہ تعالیٰ کے سامنے ایک کھلونے کی سی ہے جسے اس نے صرف دل بہلانے کے لیے بنایا ہے اور اس کے علاوہ تمہاری تخلیق کا کوئی سنجیدہ مقصد نہیں ہے ؟ نہیں ‘ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اپنی نسل کے اعتبار سے تم اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی معراج ہو۔ تمہاری تخلیق ایک بامقصد تخلیق ہے۔ ابھی تم محض ایک وقفہ امتحان سے گزر رہے ہو ‘ اس کے بعد تمہیں پلٹ کر اللہ تعالیٰ کے پاس جانا ہے اور اپنی دنیوی زندگی کے اعمال و افعال کا حساب دینا ہے۔ اگلی آیت ”ایمان بالعلم“ کے حوالے سے قرآن کی جامع ترین آیت ہے۔ بلکہ یوں سمجھئے کہ اس موضوع پر قرآن مجید کی بہت سی آیات میں جو تفصیلات آئی ہیں ان کا خلاصہ اس ایک آیت میں آگیا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے علم کی تین جہتیں dimensions بیان ہوئی ہیں۔ پہلی جہت کیا ہے ؟
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 64:1.