Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِ ٱلۡمَلِكِ ٱلۡقُدُّوسِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَكِيمِ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اللہ کی تسبیح کر رہی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور ہر وہ چیز جو زمین میں ہے بادشاہ ہے، قدوس ہے، زبردست اور حکیم ہے
English (Sahih International)
Whatever is in the heavens and whatever is on the earth is exalting Allah, the Sovereign, the Pure, the Exalted in Might, the Wise
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 1{ یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ۔ } ”تسبیح کرتی ہے اللہ کی ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے ‘ جو بادشاہ ہے ‘ ہر عیب سے پاک ہے ‘ بہت زبردست ہے ‘ بہت حکمت والا ہے۔“ یہ آیت گویا اس سورة مبارکہ کے لیے ایک نہایت ُ پرشکوہ اور پرجلال تمہید اور آغاز کلام ہے۔ سورة الصف کے آغاز میں تسبیح باری تعالیٰ کا ذکر صیغہ ماضی میں تھا ‘ جبکہ یہاں فعل مضارع آیا ہے۔ اس طرح تسبیح باری تعالیٰ کے ضمن میں گویا زمان و مکان کا احاطہ کرلیا گیا ہے۔ اس آیہ مبارکہ کے آخر میں اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے چار اسماء وارد ہوئے ہیں اور یہ ایک غیر معمولی بات ہے ‘ اس لیے کہ عام طور پر آیات کے اختتام پر اسمائِ باری تعالیٰ دو ‘ دو کے جوڑوں کی صورت میں آتے ہیں۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 1 to 4.
انسان کی ہدایت کے لیے رسول بھیجنا خدا کی انہیں صفات کا انسانی سطح پر ظہور ہے جن صفات کا ظہور مادی اعتبار سے کائنات کی سطح پر ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اور اسی طرح دوسرے پیغمبروں کا کام خاص طور پر دو رہا ہے۔ ایک، خدا کی وحی کو لوگوں تک پہنچانا، دوسرا، لوگوں کے شعور کو بیدار کرنا تاکہ وہ خدائی باتوں کو سمجھیں اور اپنی حقيقی زندگی کے ساتھ ان کو مربوط کرسکیں۔ یہی دو کام آئندہ بھی دعوت و اصلاح کی جدوجہد میں مطلوب رہیں گے، یعنی تعلیم قرآن اور ذہنی تربیت۔
Connections
- Previous: (Start of Surah)
- Next: 62_2
- Thematic: (add links here)