Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 6:100 Prev 6:98


Arabic

وَهُوَ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَخۡرَجۡنَا بِهِۦ نَبَاتَ كُلِّ شَيۡءٖ فَأَخۡرَجۡنَا مِنۡهُ خَضِرٗا نُّخۡرِجُ مِنۡهُ حَبّٗا مُّتَرَاكِبٗا وَمِنَ ٱلنَّخۡلِ مِن طَلۡعِهَا قِنۡوَانٞ دَانِيَةٞ وَجَنَّـٰتٖ مِّنۡ أَعۡنَابٖ وَٱلزَّيۡتُونَ وَٱلرُّمَّانَ مُشۡتَبِهٗا وَغَيۡرَ مُتَشَٰبِهٍۗ ٱنظُرُوٓاْ إِلَىٰ ثَمَرِهِۦٓ إِذَآ أَثۡمَرَ وَيَنۡعِهِۦٓۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكُمۡ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کے ذریعہ سے ہر قسم کی نباتات اگائی، پھر اس سے ہرے ہرے کھیت اور درخت پیدا کیے، پھر ان سے تہ بہ تہ چڑھے ہوئے دانے نکالے اور کھجور کے شگوفوں سے پھلوں کے گچھے کے گچھے پیدا کیے جو بوجھ کے مارے جھکے پڑتے ہیں، اور انگور، زیتون اور انار کے باغ لگائے جن کے پھل ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں اور پھر اُن کے پکنے کی کیفیت ذرا غور کی نظر سے دیکھو، اِن چیزوں میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں


English (Sahih International)

And it is He who sends down rain from the sky, and We produce thereby the growth of all things. We produce from it greenery from which We produce grains arranged in layers. And from the palm trees - of its emerging fruit are clusters hanging low. And [We produce] gardens of grapevines and olives and pomegranates, similar yet varied. Look at [each of] its fruit when it yields and [at] its ripening. Indeed in that are signs for a people who believe


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 99 وَہُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً ج فَاَخْرَجْنَا بِہٖ نَبَاتَ کُلِّ شَیْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْہُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْہُ حَبًّا مُّتَرَاکِبًاج ۔کسی بھی فصل یا اناج کا سٹہ دیکھیں تو اس کے دانے نہایت خوبصورتی اور سلیقے سے باہم جڑے ہوئے اور ایک دوسرے کے اوپر چڑھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اُنْظُرُوْٓا اِلٰی ثَمَرِہٖٓ اِذَآ اَثْمَرَ وَیَنْعِہٖ ط۔یعنی مختلف درختوں کے پھل لانے اور پھر پھل کے پکنے کے عمل کو ذرا غور سے دیکھا کرو۔ یہاں پر وَیَنْعِہٖکے بعد اِذَا اَیْنَعَ جب وہ پک جائے محذوف مانا جائے گا۔ یعنی اس کے پکنے کو دیکھو کہ کس طرح تدریجاً پکتا ہے۔ پہلے پھل آتا ہے ‘ پھر تدریجاً اس کے اندر تبدیلیاں آتی ہیں ‘ جسامت میں بڑھتا ہے ‘ پھر کچی حالت سے آہستہ آہستہ پکنا شروع ہوتا ہے۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ایسی نشانیوں پر غور کرنے سے کمزور ایمان والوں کا ایمان بڑھ جائے گا ‘ دل کے یقین میں اضافہ ہوجائے گا بفحوائے زَادَتْھُمْ اِیْمَانًا اور جن کے دلوں میں طلب ہدایت ہے انہیں ایسے مشاہدے سے ایمان کی دولت نصیب ہوگی۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

The commentary on this ayah is given with ayah 6:98.


Connections

  • Previous: 6_98
  • Next: 6_100
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes