Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
۞إِنَّ ٱللَّهَ فَالِقُ ٱلۡحَبِّ وَٱلنَّوَىٰۖ يُخۡرِجُ ٱلۡحَيَّ مِنَ ٱلۡمَيِّتِ وَمُخۡرِجُ ٱلۡمَيِّتِ مِنَ ٱلۡحَيِّۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُۖ فَأَنَّىٰ تُؤۡفَكُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا اللہ ہے وہی زندہ کو مُردہ سے نکالتا ہے اور وہی مُردہ کو زندہ سے خارج کرتا ہے یہ سارے کام کرنے والا اللہ ہے، پھر تم کدھر بہکے چلے جا رہے ہو؟
English (Sahih International)
Indeed, Allah is the cleaver of grain and date seeds. He brings the living out of the dead and brings the dead out of the living. That is Allah; so how are you deluded
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 95 اِنَّ اللّٰہَ فٰلِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰی ط۔عالم خلق کے اندر جو امور اور معاملات معمول کے مطابق وقوع پذیر ہو رہے ہیں ‘ یہاں ان کی حقیقت بیان کی گئی ہے۔ مثلاً آم کی گٹھلی زمین میں دبائی گئی ‘ کچھ دیر کے بعد وہ گٹھلی پھٹی اور اس میں سے دو پتے نکلے۔ اسی طرح پوری کائنات کا نظام چل رہا ہے۔ بظاہر یہ سب کچھ خود بخود ہوتا نظر آرہا ہے ‘ مگر حقیقت میں یہ سب کچھ ان فطری قوانین کے تحت ہو رہا ہے جو اللہ نے اس دنیا میں فزیکل اور کیمیکل تبدیلیوں کے لیے وضع کردیے ہیں۔ اس لیے اس کائنات میں وقوع پذیر ہونے والے ہر چھوٹے بڑے معاملے کا فاعل حقیقی اللہ تعالیٰ ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کا ذکر شیخ عبدالقادر جیلانی رض نے اپنے وصایا میں کیا ہے۔ وہ اپنے بیٹے کو وصیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اے میرے بچے اس حقیقت کو ہر وقت مستحضر رکھنا کہ لَا فاعلَ فی الحقیقۃ ولا مؤثِّر اِلّا اللّٰہ یعنی حقیقت میں فاعل اور مؤثر اللہ کے سوا کوئی نہیں۔ اشیاء میں جو تاثیر ہے وہ اسی کی عطا کردہ ہے ‘ اسی کے اذن سے ہے۔ تم کسی فعل کا ارادہ تو کرسکتے ہو لیکن فعل کا بالفعل انجام پذیر ہونا تمہارے اختیار میں نہیں ہے ‘ کیونکہ ہر فعل اللہ کے حکم سے انجام پذیرہو تا ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 95 to 97.
انسان کو جب ایک موٹر کار یا اور کوئی چیز بنانا ہوتا ہے تو وہ اس کے ہر جزء کو الگ الگ بناتا ہے۔ اور پھر اس کے اجزاء جوڑ کر مطلوبہ چیز تیار کرتاہے، مگر خدا جب ایک درخت اگاتا ہے یا ایک انسان پیدا کرتاہے تو اس کی نوعیت بالکل دوسری ہوتی ہے۔ وہ کسی چیز کو اس کے پورے مجموعہ کے ساتھ بیک وقت برآمد کردیتا ہے۔ خدائی کارخانہ میں پورا کا پورا درخت یا پورا کا پورا انسان ایک ہی بیج يا ايك ہی بوند سے بتدریج نکل کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ یہ انتہائی انوکھی تکنیک ہے جس پر کسی بھی انسان کو قابو نہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں انسان سے برتر ایک ہستی موجود ہے جس کا منصوبہ تمام منصوبوں سے بلند ہے۔
سورج کی جسامت زمین سے بارہ لاکھ گنا زیادہ ہے۔ اور زمین چاند سے چوگنا زیادہ بڑی ہے۔ یہ سب اجرام مسلسل حركت ميں هيں۔ چاند زمين سے تقریباً ڈھائي لاكھ ميل دور ره كر زمين كے گرد چكر لگا رها هے۔ اور زمين سورج سے تقريباً ساڑھے نو کروڑ میل کے فاصلے پر رہتے ہوئے سورج کے گرد دو طریقہ سے گھوم رہی ہے، ایک اپنے محور پر اور دوسرے سورج کے مدار پر۔ اسی طرح ستاروں کی گردش کا معاملہ ہےجو دہشت ناک حد تک بعید فاصلوں پر حد درجہ باقاعدگی کے ساتھ متحرک ہیں۔ اسی کائناتی تنظیم سے دن اور رات پیداہوتے هيں۔ اسی سے اوقات کا نقشہ مقرر ہوتا ہے۔ اسی سے خشکی اور تری میں انسان کے لیے اپني زندگی کی ترتیب قائم کرنا ممکن ہوتاہے۔ یہ اتنا بڑا نظام اتنی صحت کے ساتھ چل رہا ہے کہ ہزاروں سال میں بھی اس کے اندر کوئی فرق نہیں آتا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں ایک ایسی ہستی ہے جس کی طاقتیں لامحدود حد تک زیادہ ہیں۔
خدا کی یہ نشانیاں بہت بڑے پیمانہ پر بتا رہی ہیں کہ اس کارخانہ کا بنانے والا بہت بڑے علم والا ہے۔ کوئی بے علم ہستی اتنا بڑا ڈھانچہ قائم نہیں کرسکتی۔ وہ بہت غلبہ والا ہے، اس کے بغیر اتنے بڑے کارخانہ کا اس طرح چلنا ممکن نہیں ہوسکتا۔ اس کی منصوبہ بندی انتہائی حد تک کامل ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو اتنی بڑی کائنات میں اس قدر معنویت اور ہم آہنگی کا وجود ناممکن ہوجائے۔
خدا کی دنیا خدا کے دلائل سے بھری ہوئی ہے۔ مگر دلیل ایک نظری معقولیت کا نام ہے، نہ کہ کسی ہتھوڑے کا۔ اس لیے دلیل کو ماننا کسی کے لیے صرف اس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ وہ فی الواقع سنجیدہ ہو، وہ شعوری طورپر اس کے لیے تیار ہو کہ وہ دلیل کو مان لے گا، خواہ وه اس کی موافقت میں جارہی ہو یا اس کے خلاف۔