Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 6:61 Prev 6:59


Arabic

وَهُوَ ٱلَّذِي يَتَوَفَّىٰكُم بِٱلَّيۡلِ وَيَعۡلَمُ مَا جَرَحۡتُم بِٱلنَّهَارِ ثُمَّ يَبۡعَثُكُمۡ فِيهِ لِيُقۡضَىٰٓ أَجَلٞ مُّسَمّٗىۖ ثُمَّ إِلَيۡهِ مَرۡجِعُكُمۡ ثُمَّ يُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

وہی ہے جو رات کو تمہاری روحیں قبض کرتا ہے اور دن کو جو کچھ تم کرتے ہو اسے جانتا ہے، پھر دوسرے روز وہ تمہیں اِسی کاروبار کے عالم میں واپس بھیج دیتا ہے تاکہ زندگی کی مقرر مدت پوری ہو آخر کار اسی کی طرف تمہاری واپسی ہے، پھر و ہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو


English (Sahih International)

And it is He who takes your souls by night and knows what you have committed by day. Then He revives you therein that a specified term may be fulfilled. Then to Him will be your return; then He will inform you about what you used to do


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 60 وَہُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰٹکُمْ بالَّیْلِ سورۂ آل عمران کی آیت 55 کی تشریح کے سلسلے میں یُوَفِّیْ ‘ یَتَوَفّٰی اور مُتَوَفِّیوغیرہ الفاظ کی وضاحت ہوچکی ہے ‘ جس سے قادیانیوں کی ساری خباثت کا توڑ ہوجاتا ہے۔ ذرا غور کیجئے ! یہاں وفات دینے کے کیا معنی ہیں ؟ کیا نیند کے دوران انسان مرجاتا ہے ؟ نہیں ‘ جان تو بدن میں رہتی ہے ‘ البتہ شعور نہیں رہتا۔ اس سلسلے میں تین چیزیں الگ الگ ہیں ‘ جسم ‘ جان اور شعور۔ فارسی کا ایک بڑا خوبصورت شعر ہے ؂جاں نہاں در جسم ‘ اُو در جاں نہاں اے نہاں ‘ اندر نہاں ‘ اے جان جاں !جان جسم کے اندر پنہاں ہے اور جان میں وہ پنہاں ہے۔ اے کہ جو پنہاں شے کے اندر پنہاں ہے ‘ تو ہی تو جان جاں ہے !اس شعر میں او وہ سے مراد کچھ اور ہے ‘ جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔ اس وقت صرف یہ سمجھ لیجیے کہ ان تین چیزوں یعنی جسم ‘ جان اور شعور میں سے نیند میں صرف شعور جاتا ہے جبکہ موت میں شعور بھی جاتا ہے اور جان بھی چلی جاتی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تَوَفِّی مکمل صورت میں وقوع پذیر ہوا تھا ‘ یعنی جسم ‘ جان اور شعور تینوں چیزوں کے ساتھ۔ عام آدمی کی موت کی صورت میں یہ تَوَفِّی ادھورا ہوتا ہے ‘ یعنی جسم یہیں رہ جاتا ہے ‘ جان اور شعور چلے جاتے ہیں ‘ جب کہ نیند کی حالت میں صرف شعور جاتا ہے۔وَیَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّہَارِ ثُمَّ یَبْعَثُکُمْ فِیْہِ لِیُقْضٰٓی اَجَلٌ مُّسَمًّی ج۔یعنی روزانہ ہم ایک طرح سے موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں ‘ کیونکہ نیند آدھی موت ہوتی ہے۔ جیسے صبح کے وقت اٹھنے کی مسنون دعا میں مذکور ہے : اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْیَانِیْ بَعْدَ مَا اَمَاتَنِیْ وَاِلَیْہِ النُّشُوْرِ کل شکر اور کل تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے دوبارہ زندہ کیا ‘ اس کے بعد کہ مجھ پر موت وارد کردی تھی اور اسی کی طرف جی اٹھنا ہے۔ اس دعا سے ایک بڑاعجیب نکتہ ذہن میں آتا ہے۔ وہ یہ کہ ہر روز صبح اٹھتے ہی جس شخص کی زبان پر یہ الفاظ آتے ہوں : اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْیَانِیْ بَعْدَ مَا اَمَاتَنِیْ وَاِلَیْہِ النُّشُوْرِ قیامت کے دن جب وہ قبر سے اٹھے گا تو دنیا میں اپنی عادت کے سبب اس کی زبان پر خود بخود یہی ترانہ جاری ہوجائے گا ‘ جو اس وقت لفظی اعتبار سے صد فی صد درست ہوگا ‘ کیونکہ وہ اٹھنا حقیقی موت کے بعد کا اٹھنا ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ زندگی میں روزانہ اس کی ریہرسل کی جائے تاکہ یہ عادت پختہ ہوجائے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 60 to 62.

خدا نے یہ دنیا اس طرح بنائی ہے کہ وہ ان حقیقتوں کی عملی تصدیق بن گئی ہے جن کی طرف انسان کو دعوت دی جارہی ہے۔ اگر آدمی اپنی آنکھوں کو بند نہ کرے اور اپنی عقل پر مصنوعی پردے نہ ڈالے تو پوری کائنات اس کو قرآن کی فکری دعوت کا عملی مظاہرہ دکھائی دے گی۔

درخت کے تنہ میں شاخ نکلتی ہے اور شاخ میں پتے۔ مگر دونوں کے جوڑوں میں فرق ہوتا ہے۔ گویاکہ بنانے والے کو معلوم ہے کہ شاخ کو اپنے تنے سے جڑا رہنا ہے اور پتہ کو الگ ہو کر گر جانا ہے۔ اگر شاخ کی جَڑ کے مقابلہ میں پتہ کی جَڑ میںیہ انفرادی خصوصیت نہ ہو تو پتہ شاخ سے جدا نہ ہو اور درخت کو ہر سال نئی زندگی دینے کا نظام ابتر ہوجائے۔ اسی طرح جب ایک دانہ زمین میں ڈالا جاتا ہے تو زمین میں پہلے سے اس کے لیے وہ تمام ضروري خوراک موجود ہوتی ہے جس سے رزق پاکر وہ بڑھتا ہے اور بالآخر پورا درخت بنتا ہے۔ اب کیسے ممکن ہے کہ جو خدا پتہ اور دانہ تک کے احوال سے باخبر ہو وہ انسانوں کے احوال سے بے خبر ہوجائے۔

ہماری زمین ساری کائنات میں ایک انوکھا واقعہ ہے۔ یہاں کا نظام استثنائی طورپر انسان جیسی ایک مخلوق کے حسب حال بنایاگیا ہے۔ زمین کے اندر کا ایک بڑا حصہ آگ ہے مگر وہ پھٹ نہیں پڑتا۔ سورج انتہائی صحیح حسابی فاصلہ پر ہے، وہ اس سے نہ دور جاتا ہے اور نہ قریب ہوتا ہے۔ آدمی کو ہر وقت ہوا اور پانی کی ضرورت ہے۔ چنانچہ ہوا کو گیس کی شکل میں ہر جگہ پھیلا دیا گیا ہے اورپانی کو رقیق سیال کی صورت میں زمین کے نیچے رکھ دیا گیا ہے۔ اس قسم کے بے شمار انتظامات ہیں جن کو زمین پر مسلسل برقرار رکھا جاتا ہے۔ اگر ان میں معمولی فرق آجائے تو انسان کے لیے زمین پر زندگی گزارنا ناممکن ہوجائے۔

نیند بڑی عجیب چیز ہے۔ آدمی چلتا پھرتا ہے۔ وہ دیکھتا اور بولتا ہے۔ مگر جب وہ سوتا ہے تو اس کے تمام حواس اس طرح معطل ہوجاتے ہیں جیسے زندگی اس سے نکل گئی ہو۔ اس کے بعد جب وہ نیند پوری کرکے اٹھتا ہے تو وہ پھر ویسا ہی انسان ہوتا ہے جیسا کہ وہ پہلے تھا۔ یہ گویا زندگی اور موت کی تمثیل ہے۔ یہ معاملہ ہمارے لیے اس بات کو قابل فہم بنا دیتا ہے کہ آدمی کس طرح مرے گا اور کس طرح وہ دوبارہ زندہ ہو کر کھڑا کیا جائے گا۔ یہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ سارے انسان خدا کے اختیار میں ہیں اور جلد وہ وقت آنے والا ہے جب کہ خدا اپنے اختیار کے مطابق ان کا فیصلہ کرے۔


Connections

  • Previous: 6_59
  • Next: 6_61
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes