Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَأَنذِرۡ بِهِ ٱلَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحۡشَرُوٓاْ إِلَىٰ رَبِّهِمۡ لَيۡسَ لَهُم مِّن دُونِهِۦ وَلِيّٞ وَلَا شَفِيعٞ لَّعَلَّهُمۡ يَتَّقُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اے محمدؐ! تم اس (علم وحی) کے ذریعہ سے اُن لوگوں کو نصیحت کرو جو اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ اپنے رب کے سامنے کبھی اس حال میں پیش کیے جائیں گے کہ اُس کے سوا وہاں کوئی (ایسا ذی اقتدار) نہ ہوگا جو ان کا حامی و مدد گار ہو، یا ان کی سفارش کرے، شاید کہ (اس نصیحت سے متنبہ ہو کر) وہ خدا ترسی کی روش اختیار کر لیں
English (Sahih International)
And warn by the Qur’an those who fear that they will be gathered before their Lord - for them besides Him will be no protector and no intercessor - that they might become righteous
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
ابھی پچھلے رکوع میں ہم نے پڑھا : وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ الاَّ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ ج آیت 48 کہ تمام رسول تبشیر اور انذار کے لیے آتے رہے اور اسی سورت میں ہم یہ بھی پڑھ چکے ہیں کہ حضور ﷺ کی زبان مبارک سے کہلوایا گیا : وَاُوْحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَکُمْ بِہٖ وَمَنْم بَلَغَ ط آیت 19 یہ قرآن میری طرف وحی کیا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے میں خبردار کروں تم لوگوں کو اور ان تمام لوگوں کو بھی جن تک یہ پہنچے۔ یہاں اب پھر قرآن کے ذریعے سے بِہٖ انذار کا حکم آرہا ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کا کام انذار اور تبشیر ہے جسے آپ اس قرآن کے ذریعے سے سر انجام دیں۔آیت 51 وَاَنْذِرْ بِہِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْٓا اِلٰی رَبِّہِمْ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے ‘ مشرکین مکہ میں بہت کم لوگ تھے جو بعث بعد الموت کے منکر تھے۔ ان میں زیادہ تر لوگوں کا عقیدہ یہی تھا کہ مرنے کے بعد ہم اٹھائے جائیں گے ‘ قیامت آئے گی اور اللہ کے حضور پیشی ہوگی ‘ لیکن اپنے باطل معبودوں کے بارے میں ان کا گمان تھا کہ وہ وہاں ہمارے چھڑانے کے لیے موجود ہوں گے اور ہمیں بچا لیں گے۔لَیْسَ لَہُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ وَلِیٌّ وَّلاَ شَفِیْعٌ لَّعَلَّہُمْ یَتَّقُوْنَ ان کو خبردار کردیں کہ اپنے باطل معبودوں اور ان کی شفاعت کے سہارے کے بارے میں اپنی غلط فہمیوں کو دور کرلیں۔ شاید کہ حقیقت حال کا ادراک ہونے کے بعد ان کے دلوں میں کچھ خوف خدا پیدا ہوجائے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 51 to 53.
نصیحت ہمیشہ ان لوگوں کے لیے کار گر ہوتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات میں جیتے ہوں۔ جس کو کسی چیز کا کھٹکا لگا ہوا ہو اسی کو خطرے سے آگاہ کیا جاسکتاہے۔ اس کے برعکس، جو لوگ بے خوفی کی نفسیات میں جی رہے ہوں وہ کبھی نصیحت کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہوتے، اس لیے وہ نصیحت کو قبول کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔
بے خوفی کی نفسیات پیدا ہونے کا سبب عام طورپر دو چیزیں ہوتی ہیں۔ ایک، دنیا پرستی، دوسري اکابر پرستی۔ جو لوگ دنیا کی چیزوں میں گم ہوں یادنیا کی کوئی کامیابی پاکر اس پر مطمئن ہوگئے ہوں، حتی کہ انھیں یہ بھی یاد نہ رہتا ہو کہ ایک روز ان کو مرکر خالق ومالک کے سامنے حاضر ہونا ہے، ایسے لوگ آخرت کو کوئی قابل لحاظ چیزنہیں سمجھتے۔ اس لیے آخرت کی یاد دہانی ان کے ذہن میںاپنی جگہ حاصل نہیں کرتی۔ ان کامزاج ایسی باتوں کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کردیتا ہے۔
دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو آخرت کے معاملہ کو سفارش کا معاملہ سمجھ لیتے ہیں۔ وہ فرض کرلیتے ہیںکہ جن بڑوں کے ساتھ انھوںنے اپنے کو وابستہ کر رکھا ہے وہ آخرت میں ان کے مدد گار اور سفارشی بن جائیں گے اور کسی بھی ناموافق صورتِ حال میں ان کی طرف سے کافی ثابت ہوں گے۔ ایسے لوگ اس بھروسہ پر جی رہے ہوتے ہیں کہ انھوںنے مقدس ہستیوں کا دامن تھام رکھا ہے، وہ خدا کے محبوب ومقبول گروہ کے ساتھ شامل ہیں اس لیے اب ان کا کوئی معاملہ بگڑنے والا نہیں ہے۔ یہ نفسیات ان کو آخرت کے بارے میں نڈر بنادیتی ہے، وہ کسی ایسی بات پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کہ لیے تیار نہیں ہوتے جو آخرت میں ان کی حیثیت کو مشتبہ کرنے والی هو۔
جو لوگ مصلحتوں کی رعایت کرکے دولت ومقبولیت حاصل کیے ہوئے ہوں وہ کبھی حق کی بے آمیز دعوت کا ساتھ نہیں دیتے۔ کیوں کہ حق کا ساتھ دينا ان کے لیے یہ معنی رکھتا ہے کہ اپنی مصلحتوں کے بنے بنائے ڈھانچہ کو توڑ دیا جائے۔ پھر جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ حق کے گرد معمولی حیثیت کے لوگ جمع ہیں تو یہ صورت حال ان كے لیے اور زیادہ فتنہ بن جاتی ہے۔ ان کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کا ساتھ دے کر وہ اپنی حیثیت کو گرالیں گے۔ وہ حق کو حق کی کسوٹی پر نہ دیکھ کر اپنی کسوٹی پر دیکھتے ہیں اور جب حق ان کی اپنی کسوٹی پرپورا نہیں اترتا تو وہ اس کو نظر انداز کردیتے ہیں۔