Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
قُلۡ أَرَءَيۡتَكُمۡ إِنۡ أَتَىٰكُمۡ عَذَابُ ٱللَّهِ أَوۡ أَتَتۡكُمُ ٱلسَّاعَةُ أَغَيۡرَ ٱللَّهِ تَدۡعُونَ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
ان سے کہو، ذرا غور کر کے بتاؤ، اگر کبھی تم پر اللہ کی طرف سے کوئی بڑی مصیبت آ جاتی ہے یا آخری گھڑی آ پہنچتی ہے تو کیا اس وقت تم اللہ کے سوا کسی اور کو پکارتے ہو؟ بولو اگر تم سچے ہو
English (Sahih International)
Say, “Have you considered: if there came to you the punishment of Allah or there came to you the Hour - is it other than Allah you would invoke, if you should be truthful
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
This commentary covers ayaat 40 and 41.
آیت 40 قُلْ اَرَءَ یْتَکُمْ اِنْ اَتٰٹکُمْ عَذَاب اللّٰہِ اَوْ اَتَتْکُمُ السَّاعَۃُ اَغَیْرَ اللّٰہِ تَدْعُوْنَج اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ یہ بھی متجسسانہ searching انداز میں ان سے سوال کیا جا رہا ہے۔ یہ ان کا معمول بھی تھا اور مشاہدہ بھی ‘ کہ جب بھی کبھی کوئی مصیبت آتی ‘ سمندر میں سفر کے دوران کبھی طوفان آجاتا ‘ موت سامنے نظر آنے لگتی تو پھر لات ‘ منات ‘ عزیٰ ‘ ہُبل وغیرہ میں سے کوئی بھی دوسراخدا انہیں یاد نہ رہتا۔ ایسے مشکل وقت میں وہ صرف اللہ ہی کو پکارتے تھے۔ چناچہ خود ان سے سوال کیا جا رہا ہے کہ ہر شخص ذرا اپنے دل سے پوچھے ‘ کہ آخر مصیبت کے وقت ہمیں ایک اللہ ہی کیوں یاد آتا ہے ؟ گویا ایک اللہ کو ماننا اور اس پر ایمان رکھنا انسان کی فطرت کا تقاضا ہے۔ کسی شخص میں شرافت کی کچھ بھی رمق موجود ہو تو اس طرح کے سوالات کے جواب میں اس کا دل ضرور گواہی دیتا ہے کہ ہاں بات تو ٹھیک ہے ‘ ایسے مواقع پر ہماری اندرونی کیفیت بالکل ایسی ہی ہوتی ہے اور بےاختیار اللہ ہی کا نام زبان پر آتا ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 40 and 41.
ابو جہل کے لڑکے عکرمہ اسلام کے سخت دشمن تھے۔ وہ فتح مکہ تک اسلام کے مخالف بنے رہے۔ فتح مکہ کے دن انھوں نے ایک مسلمان کو تیر مار کر ہلاک کردیا تھا۔ عکرمہ ان اشخاص میں تھے جن کے متعلق فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا تھا کہ وه جہاں ملیں قتل کرديے جائیں۔
مکہ جب فتح ہوگیا تو عکرمہ مکہ چھوڑ کر جدہ کی طرف بھاگے۔ انھوں نے چاہا کہ کشتی کے ذریعہ بحر قلزم پار کرکے حبش پہنچ جائیں۔ مگر وہ کشتی میں سوار ہو کر سمندر میں پہنچے تھے کہ تند ہواؤں نے کشتی کو گھیر لیا۔ کشتی خطرہ میں پڑ گئی۔ کشتی کے مسافر سب مشرک لوگ تھے۔انھوں نے لات اور عزی وغیرہ اپنے بتوں کو مدد کے لیے پکارنا شروع کیا۔ مگر طوفان کی شدت بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ مسافروں کو یقین ہوگیا کہ اب کشتی ڈوب جائے گی۔ اب کشتی والوں نے کہا کہ اس وقت لات وعزی کچھ کام نہ دیں گے۔ اب صرف ایک خدا کو پکارو، وہی تم کو بچا سکتا ہے۔ چنانچہ سب ایک خدا کو پکارنے لگے۔ اب طوفان تھم گیااور کشتی واپس اپنے ساحل پر آگئی۔ عکرمہ پر اس واقعہ کا بہت اثر ہوا۔ انھوںنے کہا خدا کی قسم، دريا ميں اگر كوئي چيز خدا كے سوا كام نهيں آسكتي تو يقيناً خشكي ميں بھي خدا كے سوا كوئي دوسري چيز كام نهيں آسكتي۔ خدایا میں تجھ سے وعدہ کرتاہوں کہ اگر تو نے مجھ کو اس سے نجات دے دی جس میںاس وقت میں پھنسا ہوا ہوں تو میں ضرور محمد کے یہاں جاؤں گااور اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے دوں گا اور مجھے یقین ہے کہ میں ان کو معاف کرنے والا درگزر کرنے والا اور مہربان پاؤں گا (اللَّهمّ إنّ لك عليّ عهدا إن عافيتني مما أنا فيه أن آتي محمدا حتى أضع يدي في يده، فلا أجدنّه إلا عفوّا كريما( الإصابۃ فی تمييز الصحابہ لابن حجر العسقلانی، جلد4، صفحہ
444
ساری تاریخ کا یہ مشاہدہ ہے کہ انسان نازک لمحات میں خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ حتی کہ وہ شخص بھی جو عام زندگی میں خدا کے سوا دوسروں پر بھروسہ کیے ہو یا سرے سے خدا کو مانتا نہ ہو۔ یہ خدا کے وجود اور اس کے قادر مطلق ہونے کی فطری شہادت ہے۔ غیر معمولی حالات میں جب ظاہری پردے ہٹ جاتے ہیں اور آدمی تمام مصنوعی خیالات کو بھول چکا ہوتا ہے اس وقت آدمی کو خداکے سوا کوئی چیز یاد نہیں آتی۔ بالفاظ دیگر، مجبوری کے نقطہ پر پہنچ کر ہر آدمی خدا کا اقرار کرلیتاہے، قرآن کا مطالبہ یہ ہے کہ یہی اقرار اور اطاعت آدمی اس وقت کرنے لگے جب کہ بظاہر مجبور کرنے والی کوئی چیز اس کے سامنے موجود نہ ہو۔
بقیہ حیوانات اپنی جبلّت کے تحت حقیقت پسندانہ زندگی گزار رہے ہیں۔ مگر انسان کو جو چیز حقیقت پسندی اور اعتراف کی سطح پر لاتی ہے وہ خوف کی نفسیات ہے۔ حیوانات کی دنیا میں جو کام جبلت کرتی ہے، انسان کی دنیا میں وہی کام تقویٰ انجام دیتا ہے۔