Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَهُوَ ٱلَّذِي جَعَلَكُمۡ خَلَـٰٓئِفَ ٱلۡأَرۡضِ وَرَفَعَ بَعۡضَكُمۡ فَوۡقَ بَعۡضٖ دَرَجَٰتٖ لِّيَبۡلُوَكُمۡ فِي مَآ ءَاتَىٰكُمۡۗ إِنَّ رَبَّكَ سَرِيعُ ٱلۡعِقَابِ وَإِنَّهُۥ لَغَفُورٞ رَّحِيمُۢ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
وہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا، اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلہ میں زیادہ بلند درجے دیے، تاکہ جو کچھ تم کو دیا ہے اسی میں تمہاری آزمائش کرے بے شک تمہارا رب سزا دینے میں بھی بہت تیز ہے اور بہت درگزر کرنے اور رحم فرمانے والا بھی ہے
English (Sahih International)
And it is He who has made you successors upon the earth and has raised some of you above others in degrees [of rank] that He may try you through what He has given you. Indeed, your Lord is swift in penalty; but indeed, He is Forgiving and Merciful
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 165 وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلٰٓءِفَ الْاَرْضِ خلیفہ بنانا ایک تو اس مفہوم میں ہے کہ جو خلافت حضرت آدم علیہ السلام کو دی گئی تھی اس کا حصہ بالقوۃ potentially تمام انسانوں کو ملا ہے ‘ اور جو بھی شخص اللہ کا مطیع اور فرماں بردار ہو کر اللہ کو اپنا حاکم اور بادشاہ مان لے تو وہ گویا اس کی خلافت کا حقدار ہوگیا۔ خَلآءِفَ الْاَرْضِکا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ تمہیں زمین میں ایک دوسرے کا جانشین بنایا۔ ایک نسل کے بعد دوسری نسل اور ایک قوم کے بعد دوسری قوم آتی ہے اور انسانی وراثت نسل در نسل اور قوم در قوم منتقل ہوتی جاتی ہے۔ یہی فلسفہ اس سورة کی آیت 133 میں بھی بیان ہوا ہے۔ وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ اس دنیوی زندگی میں اللہ نے اپنی مشیت کے مطابق کسی کو علم دیا ہے ‘ کسی کو حکمت دی ہے ‘ کسی کو ذہانت میں فضیلت دی ہے ‘ کسی کو جسمانی طاقت میں برتری دی ہے ‘ کسی کو صحت جسمانی بہتر دی ہے اور کسی کو حسن جسمانی میں دوسروں پر فوقیت دی ہے۔ یعنی مختلف انداز میں اس نے ہر ایک کو اپنے فضل سے نوازا ہے اور مختلف انسانوں کے درجات و مراتب میں اپنی حکمت کے تحت فرق و تفاوت بھی برقرار رکھا ہے۔لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَآ اٰتٰٹکُمْ ط۔یعنی دنیا کی تمام نعمتیں انسان کو بطور آزمائش دی جاتی ہیں۔ بَلَا ‘ یَبْلُوْ کے معنی ہیں آزمانا اور جانچنا۔ ابتلاء بمعنی امتحان اور آزمائش اسی سے باب افتعال ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 6:161.
Connections
- Previous: 6_164
- Next: (End of Surah)
- Thematic: (add links here)