Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 6:142 Prev 6:140


Arabic

۞وَهُوَ ٱلَّذِيٓ أَنشَأَ جَنَّـٰتٖ مَّعۡرُوشَٰتٖ وَغَيۡرَ مَعۡرُوشَٰتٖ وَٱلنَّخۡلَ وَٱلزَّرۡعَ مُخۡتَلِفًا أُكُلُهُۥ وَٱلزَّيۡتُونَ وَٱلرُّمَّانَ مُتَشَٰبِهٗا وَغَيۡرَ مُتَشَٰبِهٖۚ كُلُواْ مِن ثَمَرِهِۦٓ إِذَآ أَثۡمَرَ وَءَاتُواْ حَقَّهُۥ يَوۡمَ حَصَادِهِۦۖ وَلَا تُسۡرِفُوٓاْۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلۡمُسۡرِفِينَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

وہ اللہ ہی ہے جس نے طرح طرح کے باغ اور تاکستان اور نخلستان پیدا کیے، کھیتیاں اگائیں جن سے قسم قسم کے ماکولات حاصل ہوتے ہیں، زیتون اور انار کے درخت پیدا کیے جن کے پھل صورت میں مشابہ اور مزے میں مختلف ہوتے ہیں کھاؤ ان کی پیداوار جب کہ یہ پھلیں، اور اللہ کا حق ادا کرو جب اس کی فصل کاٹو، اور حد سے نہ گزرو کہ اللہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا


English (Sahih International)

And He it is who causes gardens to grow, [both] trellised and untrellised, and palm trees and crops of different [kinds of] food and olives and pomegranates, similar and dissimilar. Eat of [each of] its fruit when it yields and give its due [zakah] on the day of its harvest. And be not excessive. Indeed, He does not like those who commit excess


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 141 وَہُوَ الَّذِیْٓ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّغَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ ’ ’ معروشات کے زمرے میں بیل نما پودے آتے ہیں ‘ جن کا اپنا تنا نہیں ہوتا جس پر خود وہ کھڑے ہوسکیں۔ اس لیے ایسے پودوں کو سہارا دے کر کھڑا کرنا پڑتا ہے ‘ جیسے انگور کی بیل وغیرہ۔ دوسری طرف غیرمعروشات میں عام درخت شامل ہیں جو خود اپنے مضبوط تنے پر کھڑے ہوتے ہیں ‘ جیسے انار یا آم کا درخت ہے۔ وَّالنَّخْلَ وَالزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُکُلُہٗ وَالزَّیْتُوْنَ وَالرُّمَّانَ مُتَشَابِہًا وَّغَیْرَمُتَشَابِہٍ ط۔یہ اللہ تعالیٰ کی صناعی کی مثالیں ہیں کہ اس نے مختلف النوع درخت ‘ کھیتیاں اور پھل پیدا کیے ‘ جو آپس میں ملتے جلتے بھی ہیں اور مختلف بھی۔ جیسے Citrus Family کے پھلوں میں کینو ‘ فروٹر اور مالٹا وغیرہ شامل ہیں۔ بنیادی طور پر یہ سب ایک ہی قسم یا خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور شکل ‘ ذائقہ وغیرہ میں ایک دوسرے کے مشابہ ہونے کے باوجود سب کی اپنی اپنی الگ پہچان ہے۔ کُلُوْا مِنْ ثَمَرِہٖٓ اِذَا اَثْمَرَ وَاٰتُوْا حَقَّہٗ یَوْمَ حَصَادِہٖ یعنی جیسے زمین کی پیداوار میں سے عشرکا ادا کرنا فرض ہے ‘ ایسے ہی ان پھلوں پر بھی زکوٰۃ دینے کا حکم ہے۔ لہٰذا کھیتی اور پھلوں کی پیدوار میں سے اللہ تعالیٰ کا حق نکال دیا کرو۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 141 and 142.

خدا نے انسان کے ليے طرح طرح کی غذائیں پیدا کی ہیں۔ کچھ چیزیں وہ ہیں جو زمین میں پھیلتی ہیں۔ مثلاً خربوزے، سبزیاں وغیرہ۔ کچھ چیزیں وہ ہیں جو ٹٹیوں پر چڑھائی جاتی ہیں۔ مثلاً انگور وغیرہ۔ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو اپنے تنا پر کھڑی رہتی ہیں۔ مثلاً کھجور، آم وغیرہ۔ اسی طرح آدمی کی ضرورت کے لیے مختلف قسم کے چھوٹے بڑے جانور پیدا كيے۔ مثلاً اونٹ گھوڑے اور بھیڑ بکریاں۔

آدمی ایک علیٰحدہ مخلوق ہے اور بقیہ چیزیں علیٰحدہ مخلوق۔ دونوں ایک دوسرے سے الگ الگ پیدا ہوئے ہیں۔ مگر انسان دیکھتا ہے کہ دونوں میں زبردست ہم آہنگی ہے۔ آدمی کے جسم کو اگر غذائیت درکار ہے تو اس کے باہر ہرے بھرے درختوں میں حیرت انگیز قسم کے غذائی پیکٹ لٹک رہے ہیں۔ اگر اس کی زبان میں مزه كا احساس پايا جاتا هے تو پھلوں كے اندر اس كي تسكين كا اعليٰ سامان موجود هے۔ اگر اس كي آنكھوں ميں حسنِ نظر کا ذوق ہے تو قدرت کا پورا کارخانہ حسن اور دل کشی کا مرقع بنا ہوا ہے۔ اگر اس کو سواری اور بار برداری کے ذرائع درکار ہیں تو یہاں ایسے جانور موجود ہیں جو اس کے ليے نقل وحمل کا ذریعہ بھی بنیں اور اسی کے ساتھ اس کے ليے قیمتی غذا بھی فراہم کریں۔ اس طرح کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ توحید کا اعلان بن گئی ہے۔ کیوں کہ کائنات کے مختلف مظاہر میں یہ وحدت اس کے بغیر ممکن نہیں کہ اس کا خالق ومالک ایک ہو۔

آدمی جب دیکھتا ہے کہ اتنا عظیم کائناتی اہتمام اس کے کسی ذاتی استحقاق کے بغیر ہورہا ہے تو اس یک طرفہ انعام پر اس کا دل شکر کے جذبے سے بھر جاتا ہے۔ پھر اسی کے ساتھ یہ سارا معاملہ آدمی کے لیے تقویٰ کی غذا بن جاتاہے۔ انسانی فطرت کا یہ تقاضا ہے کہ ہر عنایت (privilege) کے ساتھ ذمہ داری (responsibility) ہو۔ یہ چیز آدمی کو جزا وسزا کی یاددلاتی ہے اور اس کو آمادہ کرتی ہے کہ وہ دنیا میں اس احساس کے ساتھ رہے کہ ایک دن اس کو خدا کے سامنے حساب کے ليے کھڑا ہونا ہے۔ یہ احساسات اگر حقیقی طورپر آدمی کے اندر جاگ اٹھیں تو لازمی طورپر اس کے اندر دو باتیں پیدا ہوں گی۔ ایک یہ کہ اس کو جو کچھ ملے گا اس میں وہ اپنے مالک کا حق بھی سمجھے گا۔ دوسرے یہ کہ وہ صرف واقعی ضرورت کے بقدر خرچ کرے گا، نہ کہ فضول ا ور بے موقع خرچ کرنے لگے۔ مگر شیطان یہ کرتا ہے کہ اصل رخ سے آدمی کا ذہن موڑ کر اس کو دوسری غیر متعلق باتوں میں الجھا دیتاہے۔


Connections

  • Previous: 6_140
  • Next: 6_142
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes