Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَجَعَلُواْ لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ ٱلۡحَرۡثِ وَٱلۡأَنۡعَٰمِ نَصِيبٗا فَقَالُواْ هَٰذَا لِلَّهِ بِزَعۡمِهِمۡ وَهَٰذَا لِشُرَكَآئِنَاۖ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمۡ فَلَا يَصِلُ إِلَى ٱللَّهِۖ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَىٰ شُرَكَآئِهِمۡۗ سَآءَ مَا يَحۡكُمُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اِن لوگوں نے اللہ کے لیے خود اُسی کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور مویشیوں میں سے ایک حصہ مقرر کیا ہے اور کہتے ہیں یہ اللہ کے لیے ہے، بزعم خود، اور یہ ہمارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کے لیے پھر جو حصہ ان کے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کے لیے ہے وہ تو اللہ کو نہیں پہنچتا مگر جو اللہ کے لیے ہے وہ ان کے شریکوں کو پہنچ جاتا ہے کیسے برے فیصلے کرتے ہیں یہ لوگ
English (Sahih International)
And the polytheists assign to Allah from that which He created of crops and livestock a share and say, “This is for Allah,” by their claim, “and this is for our partners [associated with Him].” But what is for their “partners” does not reach Allah, while what is for Allah - this reaches their “partners.” Evil is that which they rule
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 136 وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِیْبًا ایک بڑے خدا کو مان کر چھوٹے خداؤں کو اس کی الوہیت میں شریک کردینا ہی در اصل شرک ہے۔ اس میں بڑے خدا کا انکار نہیں ہوتا۔ جیسے ہندوؤں میں مہا دیو تو ایک ہی ہے جب کہ چھوٹی سطح پر دیوی دیوتا بیشمار ہیں۔ اسی طرح انگریزی میں بھی بڑے G سے لکھے جانے والا God ہمیشہ ایک ہی رہا ہے۔ وہ Omnipotent ہے ‘ Omniscient ہے ‘ Omnipresent ہے ‘ وہ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ہے ‘ وہ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ ہے ‘ وہ ہر جگہ موجود ہے۔ یہ اس کی صفات ہیں ‘ یہ اس کے Attributes ہیں۔ لہٰذا اس کے لیے تو G بڑا capital ہی آئے گا ‘ لیکن چھوٹے g سے لکھے جانے والے gods اور goddesses بیشمار ہیں۔ اسی طرح اہل عرب کا عقیدہ تھا کہ اللہ تو ایک ہی ہے ‘ کائنات کا خالق بھی وہی ہے ‘ لیکن یہ جو دیویاں اور دیوتا ہیں ‘ ان کا بھی اس کی خدائی میں کچھ دخل اور اختیار ہے ‘ یہ اللہ کے ہاں سفارش کرتے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے اختیارات میں سے کچھ حصہ ان کو بھی سونپ رکھا ہے ‘ لہٰذا اگر ان کی کوئی ڈنڈوت کی جائے ‘ نذرانے دیے جائیں ‘ انہیں خوش کیا جائے ‘ تو اس سے دنیا کے کام چلتے رہتے ہیں۔ اہل عرب کے معروف ذرائع معاش دو ہی تھے۔ وہ بکریاں پالتے تھے یا کھیتی باڑی کرتے تھے۔ اپنے عقیدے کے مطابق ان کا طریقہ یہ تھا کہ مویشیوں اور فصل میں سے وہ اللہ کے نام کا ایک حصہ نکال کر صدقہ کرتے تھے جب کہ ایک حصہ الگ نکال کر بتوں کے نام پر دیتے تھے۔ یہاں تک تو وہ اپنے تئیں انصاف سے کام لیتے تھے کہ کھیتیوں کی پیداوار اور مال مویشیوں میں سے اللہ کے لیے بھی حصہ نکال لیا اور اپنے چھوٹے خداؤں کے لیے بھی۔ اب اس کے بعد کیا تماشا ہوتا تھا وہ آگے دیکھئے :فَقَالُوْا ہٰذَا لِلّٰہِ بِزَعْمِہِمْ وَہٰذَا لِشُرَکَآءِنَاج فَمَا کَانَ لِشُرَکَآءِہِمْ فَلاَ یَصِلُ اِلَی اللّٰہِج وَمَا کَانَ لِلّٰہِ فَہُوَ یَصِلُ اِلٰی شُرَکَآءِہِمْ ط اب اگر کہیں کسی وقت کوئی دقت آگئی ‘ کوئی ضرورت پڑگئی تو اللہ کے حصے میں سے کچھ نکال کر کام چلا لیتے تھے مگر اپنے بتوں کے حصے کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے۔ گویا بت تو ہر وقت ان کے سروں پر کھڑے ہوتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر یہ بت ناراض ہوگئے تو فوراً ان کی شامت آجائے گی ‘ لیکن اللہ تو معاذ اللہ ذرا دور تھا ‘ اس لیے اس کے حصے کو اپنے استعمال میں لایا جاسکتا تھا۔ ان کی اس سوچ کو اس مثال سے سمجھا جاسکتا ہے کہ ہمارے ہاں دیہات میں ایک عام دیہاتی پٹواری کو ڈی سی کے مقابلے میں زیادہ اہم سمجھتا ہے۔ اس لیے کہ پٹواری سے اسے براہ راست سابقہ پڑتا ہے ‘ جب کہ ڈی سی کی حیثیت کا اسے کچھ اندازہ نہیں ہوتا۔ بہر حال یہ تھی وہ صورت حال جس میں ان کے شریکوں کے لیے مختص کیا گیا حصہ اللہ کو نہیں پہنچ سکتا تھا ‘ جب کہ اللہ کا حصہ ان کے شریکوں تک پہنچ جاتا تھا۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 136 and 137.
مشرکین میں یہ رواج تھا کہ وہ فصل اور مویشی میں سے اللہ کا اور بتوں کا حصہ نکالتے۔ اگر وہ دیکھتے کہ خدا کے حصہ کا جانور یا غلہ اچھا ہے تو ا س کو بدل کر بتوں کی طرف کردیتے۔ مگر بتوں کا اچھا ہوتا تو اس کو خدا کی طرف نہ کرتے۔پیداوار کی تقسیم کے وقت بتوں کے نام کا کچھ حصہ اتفاقاً اللہ کے حصہ میں مل جاتا تو اس کو الگ کرکے بتوں کی طرف لوٹا دیتے۔ اور اللہ کے نام کا کچھ حصہ بتوں کی طرف چلا جاتا تو اس کو نہ لوٹاتے۔ اسی طرح اگر کبھی نذر ونیاز کا غلہ خود استعمال کرنے کی ضرورت پیش آجاتی تو خدا کا حصہ لے لیتے مگر بتوں کے حصہ کو نہ چھوتے۔ وہ ڈرتے تھے کہ کہیں کوئی بلا نازل ہوجائے۔ کہنے کے ليے وہ خدا کو مانتے تھے مگر ان کا اصل یقین اپنے بتوں کے اوپر تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی محسوس بتوں کو اسی ليے گھڑتا ہے کہ اس کو غیر محسوس خدا پر پورا بھروسہ نہیں ہوتا۔
یہی حال ہر اس شخص کا ہوتا ہے جو زبان سے تو اللہ کو مانتا ہومگر اس کا دل اللہ کے سوا کہیں اور اٹکا ہوا ہو۔ جو لوگ کسی زندہ یا مردہ ہستی کو اپنی عقیدتوں کا مرکز بنالیں ان کا حال بھی یہی ہوتا ہے کہ جو وقت ان کے یہاں خدا کی یاد کا ہے اس میں تو وہ اپنے ’’شریک‘‘ کی یاد کو شامل کرلیتے ہیں۔ مگر جو وقت ان کے نزدیک اپنے شریک کی یاد کا ہے اس میں خدا کا تذکرہ انھیں گوارا نہیں ہوتا۔ شیفتگی اور وارفتگی کا جو حصہ خدا کے لیے ہونا چاہیے اس کا کوئی جزء وہ بآسانی اپنے شریکوں کو دے دیں گے۔ مگر اپنے شریک کے ليے وہ جس شیفتگی اور وارفتگی کو ضروری سمجھتے ہیں اس کا کوئی حصہ کبھی خدا کو نہیں پہنچے گا۔ جو مجلس خدا کی عظمت وکبریائی بیان کرنے کے ليے منعقد کی جائے اس میں ان کے شریکوں کی عظمت وکبریائی کا بیان تو کسی نہ کسی طرح داخل ہوجائے گا۔ مگر جو مجلس اپنے شریکوں کی عظمت و کبریائی کا چرچا کرنے کے ليے ہو وہاں خدا کی عظمت وکبریائی کا کوئی گزر نہ ہوگا۔
ان شریکوں کی اہمیت کبھی ذہن پر اتنا زیادہ غالب آتی ہے کہ آدمی اپنی اولاد تک کو اس کے ليے نثار کردیتا ہے۔ اپنی اولاد کو خدا کے ليے پیش کرنا ہو تو وہ پیش نہیں کرے گا مگر اپنے شریکوں کی خدمت میں انھیں دینا ہو تو وہ بخوشی اس کے ليے آمادہ ہوجاتا ہے۔
اس قسم کی تمام چیزیں خدا کے دین کے نام پر کی جاتی ہیں مگر حقیقۃً وہ افترا ہیں۔ کیوں کہ وہ ایک ایسی چیز کو خدا کی طرف منسوب کرنا ہے جس كا حكم خدا نے نهيں ديا۔