Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 6:129 Prev 6:127


Arabic

وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيعٗا يَٰمَعۡشَرَ ٱلۡجِنِّ قَدِ ٱسۡتَكۡثَرۡتُم مِّنَ ٱلۡإِنسِۖ وَقَالَ أَوۡلِيَآؤُهُم مِّنَ ٱلۡإِنسِ رَبَّنَا ٱسۡتَمۡتَعَ بَعۡضُنَا بِبَعۡضٖ وَبَلَغۡنَآ أَجَلَنَا ٱلَّذِيٓ أَجَّلۡتَ لَنَاۚ قَالَ ٱلنَّارُ مَثۡوَىٰكُمۡ خَٰلِدِينَ فِيهَآ إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُۚ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٞ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

جس روز اللہ ان سب لوگوں کو گھیر کر جمع کرے گا، اس روز وہ جنوں سے خطاب کر کے فرمائے گا کہ “ا ے گروہ جن! تم نے نوع انسانی پر خوب ہاتھ صاف کیا” انسانوں میں سے جو اُن کے رفیق تھے وہ عرض کریں گے “پروردگار! ہم میں سے ہر ایک نے دوسرے کو خو ب استعمال کیا ہے، اور اب ہم اُس وقت پر آ پہنچے ہیں جو تو نے ہمارے لیے مقرر کر دیا تھا” اللہ فرمائے گا “اچھا اب آگ تمہارا ٹھکانا ہے، اس میں تم ہمیشہ رہو گے” ا”س سے بچیں گے صرف وہی جنہیں اللہ بچانا چاہے گا، بے شک تمہارا رب دانا اور علیم ہے


English (Sahih International)

And [mention, O Muhammad], the Day when He will gather them together [and say], “O company of jinn, you have [misled] many of mankind.” And their allies among mankind will say, “Our Lord, some of us made use of others, and we have [now] reached our term, which you appointed for us.” He will say, “The Fire is your residence, wherein you will abide eternally, except for what Allah wills. Indeed, your Lord is Wise and Knowing


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

This commentary covers ayaat 128 and 129.

آیت 128 وَیَوْمَ یَحْشُرُہُمْ جَمِیْعًاج یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَکْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ ج وہ جو تمہارے بڑے جن عزازیل نے کہا تھا : وَلاَ تَجِدُ اَکْثَرَہُمْ شٰکِرِیْنَ الاعراف اور تو ان کی اکثریت کو شکر کرنے والا نہیں پائے گا۔ تو واقعی بہت سے انسانوں کو تم نے ہتھیا لیا ہے۔ یہ گویا ایک طرح کی شاباش ہوگی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو دی جائے گی۔وَقَالَ اَوْلِیٰٓءُہُمْ مِّنَ الْاِنْسِ اس پر جنوں کے ساتھی انسانوں کی غیرت ذرا جاگے گی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کیا کہہ دیا ہے کہ جنات نے ہمیں ہتھیا لیا ہے ‘ شکار کرلیا ہے۔ اس پر وہ بول اٹھیں گے : رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ ہم ان سے اپنے کام نکلواتے رہے اور یہ ہم سے مفادات حاصل کرتے رہے۔ ہم نے جنات کو اپنا مؤکل بنایا ‘ ان کے ذریعے سے غیب کی خبریں حاصل کیں اور کہانت کی دکانیں چمکائیں۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 128 to 131.

کسی کے گمراہ کرنے سے جب کوئی شخص گمراہ ہوتا ہے تو یہ يک طرفہ معاملہ نہیں ہوتا۔ دونوں اپنی اپنی جگہ یہی سمجھتے ہیں کہ وہ اپنا مقصد پورا کررہے ہیں۔ شیطان جب آدمی کو سبز باغ دکھا کر اپنی طرف لے جاتا ہے تو وہ اپنے اس چیلنج کو صحیح ثابت کرنا چاہتاہے، جو اس نے آغاز تخلیق میں خدا کو دیا تھا کہ میں تیری مخلوق کے بڑے حصہ کو اپنا ہم نوا بنالوں گا(بنی اسرائیل،

17:61

) دوسری طرف جو لوگ اپنے آپ کو شیطان کے حوالے کرتے ہیں ان کے سامنے بھی واضح مفادات ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ جنوں کے نام پر اپنے سحر کے کاروبار کو فروغ دیتے ہیں یا اپنی شاعری اور کہانت کا رشتہ کسی جنّی استاد سے جوڑ کر عوام کے اوپر اپنی برتری قائم کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ تمام تحریکیں جو شیطانی ترغیبات کے تحت اٹھتی ہیں، ان کا ساتھ دینے والے بھی اسی ليے ان کا ساتھ دیتے ہیں کہ ان کو امید ہوتی ہے کہ اس طرح عوام کے اوپر آسانی کے ساتھ وہ اپنی قیادت قائم کرسکتے ہیں۔ کیوں کہ خدائی پکار کے مقابلہ میں شیطانی نعرے ہمیشہ عوام کی بھیڑ کے لیے زیادہ پرکشش ثابت ہوئے ہیں۔

قیامت میں جب حقیقتوں سے پردہ اٹھایا جائے گا تو یہ بات کھل جائے گی کہ جو لوگ بے راہ ہوئے یا جنھوں نے دوسروں کو بے راہ کیا انھوںنے کسی غلط فہمی کی بنا پر ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ حق کو نظر انداز کرنا تھا، نہ کہ حق سے بے خبر رہنا۔ وہ دنیوی تماشوں سے اوپر نہ اٹھ سکے، وہ وقتی فائدوں کو قربان نہ کرسکے۔ ورنہ خدا نے اپنے خاص بندوں کے ذریعہ جو ہدایت کھولی تھی وہ اتنی واضح تھی کہ کوئی شخص حقیقتِ حال سے بے خبر نہیں رہ سکتا تھا۔ مگر ان کی دنیا پرستی ان کی آنکھوں کا پردہ بن گئی۔ جاننے کے باوجود انھوں نے نہ جانا۔ سننے کے باوجود انھوں نے نہ سنا۔

آخرت میں وہ مصنوعی سہارے ان سے چھن جائیں گے جن کے بل پر وہ حقیقت سے بے پروا بنے ہوئے تھے۔ اس وقت ان کو نظر آجائے گا کہ کس طرح ایسا ہوا کہ حق ان کے سامنے آیا مگر انھوں نے جھوٹے الفاظ بول کر اس کو رد کردیا۔ کس طرح ان کی غلطی ان پر واضح کی گئی مگر خوبصورت تاویل کرکے انھوں نے سمجھا کہ اپنے آپ کو حق بجانب ثابت کرنے میں وہ کامیاب ہوگئے ہیں۔


Connections

  • Previous: 6_127
  • Next: 6_129
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes