Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 6:115 Prev 6:113


Arabic

أَفَغَيۡرَ ٱللَّهِ أَبۡتَغِي حَكَمٗا وَهُوَ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ إِلَيۡكُمُ ٱلۡكِتَٰبَ مُفَصَّلٗاۚ وَٱلَّذِينَ ءَاتَيۡنَٰهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ يَعۡلَمُونَ أَنَّهُۥ مُنَزَّلٞ مِّن رَّبِّكَ بِٱلۡحَقِّۖ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡمُمۡتَرِينَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

پھر جب حال یہ ہے تو کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور فیصلہ کرنے والا تلاش کروں، حالانکہ اس نے پوری تفصیل کے ساتھ تمہاری طرف کتاب نازل کر دی ہے؟ اور جن لوگوں کو ہم نے (تم سے پہلے) کتاب دی تھی وہ جانتے ہیں کہ یہ کتاب تمہارے رب ہی کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوئی ہے لہٰذا تم شک کرنے والوں میں شامل نہ ہو


English (Sahih International)

[Say], “Then is it other than Allah I should seek as judge while it is He who has revealed to you the Book explained in detail?” And those to whom We [previously] gave the Scripture know that it is sent down from your Lord in truth, so never be among the doubters


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 114 اَفَغَیْرَ اللّٰہِ اَبْتَغِیْ حَکَمًا اب پھر یہ متجسسانہ سوال searching question اسی پس منظر میں کیا گیا ہے کہ مشرکین مکہ اللہ کو مانتے تھے۔ چناچہ ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ وہ اللہ جس کو تم مانتے ہو ‘ میں نے بھی اسی کو اپنا رب مانا ہے۔ تو کیا اب تم چاہتے ہو کہ میں اس معبود حقیقی کو چھوڑ کر کسی اور کو اپنا حکم تسلیم کرلوں ‘ اور وہ بھی ان میں سے جن کو تم لوگوں نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے ‘ جن کے بارے میں اللہ نے کوئی سند یا دلیل نازل نہیں کی ہے۔ سورة الزخرف میں اسی نکتہ کو اس انداز میں پیش کیا گیا ہے : قُلْ اِنْ کَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌق فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ آپ ﷺ کہیے کہ اگر اللہ کا کوئی بیٹا ہوتا تو سب سے پہلے اس کو میں پوجتا۔ یعنی جب میں اللہ کی پرستش کرتا ہوں تو اگر اللہ کا کوئی بیٹا ہوتاتو کیا میں اس کی پرستش نہ کرتا ؟ چناچہ میں جو اللہ کو اپنا معبود سمجھتا ہوں اور کسی کو اس کا بیٹا نہیں مانتاتو جان لیں کہ اس کا کوئی بیٹا ہے ہی نہیں۔ سمجھانے کا یہ انداز جو قرآن میں اختیار کیا گیا ہے بڑا فطری ہے۔ اس میں منطق کے بجائے جذبات سے براہ راست اپیل ہے۔ دروں بینی introspection کی طرف دعوت ہے کہ اپنے دل میں جھانکو ‘ گریبان میں منہ ڈالو اور سوچو ‘ حقیقت تمہیں خود ہی نظر آجائے گی۔ وَّہُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ اِلَیْکُمُ الْکِتٰبَ مُفَصَّلاً ط۔ وَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰہُمُ الْکِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّہٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّکَ بالْحَقِّ فَلاَ تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ۔ ۔اہل کتاب زبان سے اقرار کریں نہ کریں ‘ اپنے دلوں میں ضروریقین رکھتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 114 to 117.

قرآن میں ذبیحہ کے احکام اترے اور یہ کہا گیا کہ مردہ جانور نہ کھاؤ، ذبح کیا ہوا کھاؤ تو کچھ لوگوں نے کہا مسلمانوں کا مذہب بھی عجیب ہے۔ وہ اپنے ہاتھ کا مارا ہوا جانور حلال سمجھتے ہیں اور جس کو اللہ نے مارا ہوا اس کو حرام بتاتے ہیں۔اس جملہ میں لفظی تک بندی کے سوا اور کوئی دلیل نہیں ہے۔ مگر بہت سے لوگ اس کو سن کر دھوکے میں آگئے اور اسلام کو شبہ کی نظر سے دیکھنے لگے۔ ایسا ہی ہمیشہ ہوتا ہے۔ ہر زمانہ میں ایسے لوگ کم ہوتے ہیں جو باتوںکو ان کی اصل حقیقت کے اعتبار سے سمجھتے ہوں۔ بیشتر لوگ الفاظ کے گورکھ دھندے میں گم رہتے ہیں۔ وہ خیالی باتوں کو حقیقی سمجھ لیتے ہیں، صرف اس لیے کہ ان کو خوبصورت الفاظ میں بیان کردیا گیا ہے۔

مگر یہ دنیا ایسی دنیا ہے جہاں تمام بنیادی حقیقتوں کے بارے میں خدا کے واضح بیانات آچکے ہیں۔ اس لیے یہاں کسی کے لیے اس قسم کی بے راہی میں پڑناقابل معافی نہیں ہوسکتا۔ خدا کا کلام ایک کھلی ہوئی کسوٹی ہے جس پر جانچ کر ہر آدمی معلوم کرسکتا ہے کہ اس کی بات محض ایک لفظی شعبدہ ہے یا کوئی واقعی حقیقت ہے۔ خدا نے ماضی، حال اور مستقبل کے تمام ضروری امور کی بابت سچا بیان دے دیا ہے۔ اس نے انسانی تعلقات کے تمام پہلوؤں کے بارے میں کامل انصاف کی راہ بتا دی ہے۔ آدمی اگر فی الواقع سنجیدہ ہو تو ا س کے لیے یہ جاننا کچھ بھی مشکل نہیں کہ حق کیا ہے اور نا حق کیا۔ اب اس کے بعد شبہ میں وہی پڑے گا جس کا حال یہ ہو کہ اس کی سوچ خدا کے کلام کے سوا دوسری چیزوں کے زیر اثر کام کرتی ہو۔ جو شخص اپنی سوچ کو خدائی حقیقتوں کے موافق بنا لے اس کے لیے یہاں فکری بے راہ روی کا کوئی امکان نہیں۔

اس خدائی وضاحت کے بعد بھی اگر آدمی بھٹکتا ہے تو خدا کو اس کا حال اچھی طرح معلوم ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ وہ کون ہے جس نے اپنی بڑائی قائم رکھنے کی خاطر اپنے سے باہر ظاہر ہونے والی سچائی کو کوئی اہمیت نہ دی۔ کون ہے جس کے تعصب نے اس کو اس قابل نہ رکھا کہ وہ بات کو سمجھ سکے۔ کس نے سستی نمائش میں اپنی رغبت کی وجہ سے سچائی کی آواز پر دھیان نہیں دیا۔ کون ہے جو حسد کی نفسیات میں مبتلا ہونے کی وجہ سے حق سے نا آشنا رہا۔


Connections

  • Previous: 6_113
  • Next: 6_115
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes