Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
ٱتَّبِعۡ مَآ أُوحِيَ إِلَيۡكَ مِن رَّبِّكَۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ وَأَعۡرِضۡ عَنِ ٱلۡمُشۡرِكِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اے محمدؐ! اُس وحی کی پیروی کیے جاؤ جو تم پر تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوئی ہے کیونکہ اُس ایک رب کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے اور ان مشرکین کے پیچھے نہ پڑو
English (Sahih International)
Follow, [O Muhammad], what has been revealed to you from your Lord - there is no deity except Him - and turn away from those who associate others with Allah
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 106 اِتَّبِعْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ج۔اس سورة میں آپ دیکھ رہے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو بار بار مخاطب کیا جا رہا ہے۔ لیکن جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے یہ خطاب دراصل حضور ﷺ کی وساطت سے امت کے لیے بھی ہے۔ مکی سورتوں دو تہائی قرآن میں مسلمانوں سے براہ راست خطاب بہت کم ملتا ہے۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ مکی دور میں مسلمان باقاعدہ ایک امت نہیں تھے۔ امت کی تشکیل تو تحویل قبلہ کے بعد ہوئی۔ اسی لیے تحویل قبلہ کے حکم کے فوراً بعد یہ آیت نازل ہوئی ہے : وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا ط البقرۃ : 143 اب جبکہ مسلمانوں کو باقاعدہ امت کا درجہ دے دیا گیا تو پھر ان سے خطاب بھی براہ راست ہونے لگا۔ چناچہ سورة الحجرات جو 18 آیات پر مشتمل مدنی سورة ہے ‘ اس میں پانچ دفعہ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ سے اہل ایمان کو براہ راست مخاطب فرمایا گیا ہے۔ لیکن دوسری طرف مکی سورتوں میں اہل ایمان سے جو بھی کہا گیا ہے وہ حضور ﷺ کو مخاطب کر کے واحد کے صیغے میں کہا گیا ہے۔ چناچہ آیت زیر نظر میں یہ جو فرمایا گیا ہے کہ پیروی کرو اس کی جو آپ ﷺ پر وحی کیا جا رہا ہے آپ ﷺ کے رب کی طرف سے ‘ تو یہ حکم صرف حضور ﷺ کے لیے ہی نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کے لیے بھی ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 6:105.