Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
بَدِيعُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُۥ وَلَدٞ وَلَمۡ تَكُن لَّهُۥ صَٰحِبَةٞۖ وَخَلَقَ كُلَّ شَيۡءٖۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٞ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
وہ تو آسمانوں اور زمین کا موجد ہے اس کا کوئی بیٹا کیسے ہوسکتا ہے جبکہ کوئی اس کی شریک زندگی ہی نہیں ہے اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے
English (Sahih International)
[He is] Originator of the heavens and the earth. How could He have a son when He does not have a companion and He created all things? And He is, of all things, Knowing
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 101 بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط یہ لفظ بدیع سورة البقرۃ کی آیت 117 میں بھی آچکا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے اور اس کے معنی ہیں عدم محض سے کسی چیز کی تخلیق کرنے والا۔اَنّٰی یَکُوْنُ لَہٗ وَلَدٌ وَّلَمْ تَکُنْ لَّہٗ صَاحِبَۃٌط وَخَلَقَ کُلَّ شَیْءٍج وَہُوَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ اللہ تعالیٰ کی اولاد بتانے والے یہ بھی نہیں سوچتے کہ جب اس کی کوئی شریک حیات ہی نہیں ہے تو اولاد کیسے ہوگی ؟ در اصل کائنات اور اس کے اندر ہرچیز کا تعلق اللہ کے ساتھ صرف یہ ہے کہ وہ ایک خالق ہے اور باقی سب مخلوق ہیں۔ اور وہ ایسی علیم اور خبیر ہستی ہے کہ اس کی مخلوقات میں سے کوئی شے اس کی نگاہوں سے ایک لمحے کے لیے بھی اوجھل نہیں ہو پاتی۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 6:100.