Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
فَكَانَ عَٰقِبَتَهُمَآ أَنَّهُمَا فِي ٱلنَّارِ خَٰلِدَيۡنِ فِيهَاۚ وَذَٰلِكَ جَزَـٰٓؤُاْ ٱلظَّـٰلِمِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
پھر دونوں کا انجام یہ ہونا ہے کہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں جائیں، اور ظالموں کی یہی جزا ہے
English (Sahih International)
So the outcome for both of them is that they will be in the Fire, abiding eternally therein. And that is the recompense of the wrong-doers
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 17{ فَکَانَ عَاقِبَتَہُمَآ اَنَّہُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْہَا } ”تو ان دونوں کا انجام یہ ہے کہ وہ آگ میں رہیں گے ہمیشہ ہمیش۔“ { وَذٰلِکَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ۔ } ”اور یہی ہے بدلہ ظالموں کا۔“ انسان اور شیطان کی اس ”جوڑی“ کا ذکر سورة ق میں ہم پڑھ چکے ہیں۔ کسی کافر ‘ مشرک اور گنہگار کا جو قرین ساتھی شیطان ہوگا وہ اس کے بارے میں کہے گا : { وَقَالَ قَرِیْنُـہٗ ہٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌ۔ } ”اور اس کا ساتھی کہے گا : اے پروردگار ! یہ جو میری تحویل میں تھا ‘ حاضر ہے !“ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتوں کو حکم ملے گا : { اَلْقِیَا فِیْ جَہَنَّمَ کُلَّ کَفَّارٍ عَنِیْدٍ۔ } ”جھونک دو جہنم میں ہر ناشکرے سرکش کو“۔ اس کے بعد کی دو آیات میں اس جہنمی کی مزید صفات بیان کی گئی ہیں۔ وہ شیطان پھر کہے گا : { رَبَّـنَا مَآ اَطْغَیْتُہٗ وَلٰــکِنْ کَانَ فِیْ ضَلٰلٍم بَعِیْدٍ۔ } ”پروردگار ! میں نے اس کو گمراہ نہیں کیا ‘ بلکہ یہ خود ہی بہت بڑی گمراہی میں مبتلا تھا“۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : { لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَقَدْ قَدَّمْتُ اِلَـیْکُمْ بِالْوَعِیْدِ - مَا یُـبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَمَآ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۔ } ”اب میرے سامنے جھگڑو مت ‘ جبکہ میں پہلے ہی تمہارے پاس وعید بھیج چکا ہوں۔ میرے حضور میں بات تبدیل نہیں کی جاسکتی اور میں اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہوں۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 59:15.