Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 59:12 Prev 59:10


Arabic

۞أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ نَافَقُواْ يَقُولُونَ لِإِخۡوَٰنِهِمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ لَئِنۡ أُخۡرِجۡتُمۡ لَنَخۡرُجَنَّ مَعَكُمۡ وَلَا نُطِيعُ فِيكُمۡ أَحَدًا أَبَدٗا وَإِن قُوتِلۡتُمۡ لَنَنصُرَنَّكُمۡ وَٱللَّهُ يَشۡهَدُ إِنَّهُمۡ لَكَٰذِبُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

تم نے دیکھا نہیں اُن لوگوں کو جنہوں نے منافقت کی روش اختیار کی ہے؟ یہ اپنے کافر اہل کتاب بھائیوں سے کہتے ہیں “اگر تمہیں نکالا گیا تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے، اور تمہارے معاملہ میں ہم کسی کی بات ہرگز نہ مانیں گے، اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے” مگر اللہ گواہ ہے کہ یہ لوگ قطعی جھوٹے ہیں


English (Sahih International)

Have you not considered those who practice hypocrisy, saying to their brothers who have disbelieved among the People of the Scripture, “If you are expelled, we will surely leave with you, and we will not obey, in regard to you, anyone - ever; and if you are fought, we will surely aid you.” But Allah testifies that they are liars


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 1 1{ اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ نَافَقُوْا } ”کیا تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جو نفاق میں مبتلا ہیں“ { یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِہِمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ } ”وہ کہتے ہیں اپنے ان بھائیوں سے جنہوں نے اہل کتاب میں سے کفر کیا ہے“ { لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَکُمْ } ”کہ اگر تم لوگوں کو کبھی مدینہ سے نکالا گیا تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے“ یہودیوں کے ساتھ ان منافقین کے حلیفانہ تعلقات تھے۔ ان تعلقات اور روابط کی بنیاد پر منافقین وقتاً فوقتاً انہیں یقین دلاتے رہتے تھے کہ ہم آخری دم تک تمہارا ساتھ دیں گے اور اگر تم لوگوں کو کبھی مدینہ سے بےدخل کرنے کی کوشش کی گئی تو ایسی مشکل گھڑی میں ہم شانہ بشانہ تمہارے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ { وَلَا نُطِیْعُ فِیْکُمْ اَحَدًا اَبَدًالا } ”اور تمہارے معاملے میں ہم کسی کی بھی اطاعت نہیں کریں گے“ { وَّاِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّکُمْ } ”اور اگر تمہارے ساتھ جنگ کی گئی تو ہم لازماً تمہاری مدد کریں گے۔“ منافقین انہیں یقین دلاتے رہتے تھے کہ ہم محض وقتی طور پر بعض مصلحتوں کی وجہ سے مسلمانوں میں شامل ہوئے ہیں اور یہ کہ اس وجہ سے تمہارے ساتھ ہمارے پرانے دوستانہ تعلقات بالکل متاثر نہیں ہوں گے۔ چناچہ تمہارے ساتھ حق دوستی نبھانے میں کوئی مصلحت بھی ہمارے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ ہم بعض معاملات میں رسول اللہ ﷺ کا حکم مانتے بھی ہیں ‘ لیکن تمہارے معاملے میں ہم ان کے حکم کو بھی کوئی اہمیت نہیں دیں گے۔ اگر مسلمانوں نے کبھی تمہارے خلاف کوئی اقدام کرنے کی کوشش کی تو ہم ان کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے تمہارا ساتھ دیں گے۔ { وَاللّٰہُ یَشْہَدُ اِنَّہُمْ لَـکٰذِبُوْنَ } ”اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ بالکل جھوٹے ہیں۔“


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

The commentary on this ayah is given with ayah 59:9.


Connections

  • Previous: 59_10
  • Next: 59_12
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes