Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا تَنَٰجَيۡتُمۡ فَلَا تَتَنَٰجَوۡاْ بِٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِ وَمَعۡصِيَتِ ٱلرَّسُولِ وَتَنَٰجَوۡاْ بِٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ ٱلَّذِيٓ إِلَيۡهِ تُحۡشَرُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم آپس میں پوشیدہ بات کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی باتیں نہیں بلکہ نیکی اور تقویٰ کی باتیں کرو اور اُس خدا سے ڈرتے رہو جس کے حضور تمہیں حشر میں پیش ہونا ہے
English (Sahih International)
O you who have believed, when you converse privately, do not converse about sin and aggression and disobedience to the Messenger but converse about righteousness and piety. And fear Allah, to whom you will be gathered
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 9{ یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ } ”اے اہل ایمان ! اگر تمہیں کوئی سرگوشی کرنی ہو“ { فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ } ”تو گناہ ‘ زیادتی اور رسول ﷺ کی نافرمانی کی باتوں سے متعلق ہرگز سرگوشی نہ کرو“ اگر تم میں سے چند لوگوں کا علیحدہ بیٹھ کر کوئی گفتگو یا منصوبہ بندی کرنا ناگزیر ہو تو یاد رکھو ‘ تمہاری اس خفیہ بات چیت یا سرگوشی کا موضوع ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے جس سے گناہ ‘ کسی پر زیادتی یا اللہ کے رسول ﷺ کی نافرمانی کا کوئی پہلو نکلتاہو۔ { وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوٰی } ”ہاں تم نیکی اور تقویٰ کے بارے میں سرگوشی کرسکتے ہو۔“ کسی کو علیحدگی میں لے جا کر کوئی اچھا مشورہ دینا ہو ‘ نیکی کے کسی کام کا بتانا ہو ‘ یا صدقہ و خیرات کی تلقین کرنی ہو تو ایسی سرگوشیوں میں کوئی مضائقہ نہیں۔ { وَاتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْٓ اِلَـیْہِ تُحْشَرُوْنَ۔ } ”اور اللہ سے ڈرتے رہو جس کی طرف تمہیں جمع کیا جائے گا۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 9 to 11.
مجلس کے آداب کے تحت کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کو پیچھے کرکے دوسرے شخص کو آگے بٹھایا جاتا ہے۔ اسی طرح کبھی ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کی امید کے خلاف کہہ دیا جاتا ہے کہ اب آپ لوگ تشریف لے جائیں۔ ایسی باتوں کو عزت کا سوال بنانا شعوری پستی کا ثبوت ہے۔ اور جو شخص ان باتوں کو عزت کا سوال نہ بنائے اس نے یہ ثبوت دیا کہ شعوری اعتبار سے وہ بلند درجہ کو پہنچا ہوا ہے۔