Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۖ مَا يَكُونُ مِن نَّجۡوَىٰ ثَلَٰثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمۡ وَلَا خَمۡسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمۡ وَلَآ أَدۡنَىٰ مِن ذَٰلِكَ وَلَآ أَكۡثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمۡ أَيۡنَ مَا كَانُواْۖ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُواْ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٌ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
کیا تم کو خبر نہیں ہے کہ زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا اللہ کو علم ہے؟ کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ تین آدمیوں میں کوئی سرگوشی ہو اور ان کے درمیان چوتھا اللہ نہ ہو، یا پانچ آدمیوں میں سرگوشی ہو اور ان کے اندر چھٹا اللہ نہ ہو خفیہ بات کرنے والا خواہ اِس سے کم ہوں یا زیادہ، جہاں کہیں بھی وہ ہوں، اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے پھر قیامت کے روز وہ ان کو بتا دے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے
English (Sahih International)
Have you not considered that Allah knows what is in the heavens and what is on the earth? There is in no private conversation three but that He is the fourth of them, nor are there five but that He is the sixth of them - and no less than that and no more except that He is with them [in knowledge] wherever they are. Then He will inform them of what they did, on the Day of Resurrection. Indeed Allah is, of all things, Knowing
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 7{ اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ } ”کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ جانتا ہے اس سب کچھ کے بارے میں جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے ؟“ { مَا یَکُوْنُ مِنْ نَّجْوٰی ثَلٰـثَۃٍ اِلَّا ہُوَ رَابِعُہُمْ } ”نہیں ہوتے کبھی بھی تین آدمی سرگوشیاں کرتے ہوئے مگر ان کا چوتھا وہ اللہ ہوتا ہے“ { وَلَا خَمْسَۃٍ اِلَّا ہُوَ سَادِسُہُمْ } ”اور نہیں سرگوشی کر رہے ہوتے کوئی پانچ افراد مگر ان کا چھٹا وہ اللہ ہوتا ہے“ خفیہ انداز میں سرگوشیاں کرنے کو ”نجویٰ“ کہا جاتا ہے۔ اس حوالے سے یہاں پر ضمنی طور پر یہ بھی سمجھ لیں کہ کسی تنظیم یا جماعت کے اندر نجویٰ کا رجحان یا رواج گروہ بندیوں اور فتنوں کا باعث بنتا ہے۔ کسی بھی اجتماعیت کے افراد میں باہم اختلافِ رائے کا پایا جانا تو بالکل ایک فطری تقاضا ہے ‘ جہاں اجتماعیت ہوگی وہاں لوگ ایک دوسرے کی آراء سے اختلاف بھی کریں گے۔ لیکن ایسے اختلافات کا اظہار اجتماعیت کے قواعد و ضوابط کے مطابق متعلقہ فورم پر کیا جانا چاہیے۔ اس کے برعکس عام طور پر یوں ہوتا ہے کہ تخریبی ذہنیت کے حامل کچھ ارکان اپنے اپنے اختلاف کا اظہار نجویٰ کی صورت میں دوسرے ساتھیوں سے کرنا شروع کردیتے ہیں۔ بات آگے بڑھتی ہے تو چند افراد پر مشتمل ایک مخصوص لابی بن جاتی ہے اور یوں تنظیم یا جماعت کے اندر باقاعدہ گروہ بندی کی بنیاد رکھ دی جاتی ہے۔ اگر اختلافات کا اظہار مناسب فورم پر ہو تو کھلی اور تعمیری بحث کا نتیجہ ہمیشہ مثبت رہتا ہے۔ اس سے غلط فہمیاں ختم ہوجاتی ہیں ‘ ابہام دور ہوجاتا ہے اور اصل حقیقت واضح ہو کر سامنے آجاتی ہے۔ بہرحال نجویٰ سرگوشیوں کی حیثیت اجتماعیت کے لیے سم ِقاتل کی سی ہے اور اگر یہ زہر کسی جماعت کی صفوں میں سرایت کر جائے تو اس کا اتحاد پارہ پارہ ہو کر رہ جاتا ہے۔ { وَلَآ اَدْنٰی مِنْ ذٰلِکَ وَلَآ اَکْثَرَ اِلَّا ہُوَ مَعَہُمْ اَیْنَ مَا کَانُوْا } ”اور نہیں ہوتے وہ اس سے کم یعنی دو افراد سرگوشی میں مصروف اور نہ اس سے زیادہ مگر یہ کہ وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جہاں کہیں بھی وہ ہوں۔“ سورة الحدید کی آیت 4 میں یہی مضمون ان الفاظ میں بیان ہوا ہے : { وَہُوَ مَعَکُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْج } ”اور تم جہاں کہیں بھی ہوتے ہو وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے۔“ { ثُمَّ یُنَبِّئُہُمْ بِمَا عَمِلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ۔ } ”پھر وہ ان کو جتلا دے گا قیامت کے دن جو کچھ بھی انہوں نے عمل کیا تھا ‘ یقینا اللہ ہرچیز کا علم رکھنے والا ہے۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 7 and 8.
کائنات اپنے انتہائی پیچیدہ نظام کے ساتھ یہ گواہی دے رہی ہے کہ وہ ہر آن کسی بالاتر طاقت کی نگرانی میں ہے۔ کائنات میں نگرانی کی شہادت یہ ثابت کرتی ہے کہ انسان بھی مسلسل طور پر اپنے خالق کی نگرانی میں ہے۔ ایسی حالت میں حق کے خلاف خفیہ سرگرمیاں دکھانا صرف ایسے اندھے لوگوں کا کام ہوسکتا ہے جو خدا کی صفتوں کو نہ براہ راست طور پر ملفوظ قرآن میں پڑھ سکیں اور نہ بالواسطہ طور پر غیر ملفوظ کائنات میں۔
بعض یہود اور منافقین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں آتے تو وہ السلام علیکم (آپ پر سلامتی ہو) کہنے کے بجائے السام علیکم (آپ پر موت آئے) کہتے۔ یہ ہمیشہ سے سطحی انسانوں کا طریقہ رہا ہے۔ سطحی لوگ ایک سچے انسان کو بے قدر کرکے اپنے ذہن میں خوش ہوتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ ساری پھیلی ہوئی خدائی عین اس وقت بھی اس سچے انسان کا اعتراف کر رہی ہوتی ہے جب کہ اپنے محدود ذہن کے مطابق وہ اس کی تحقیر و تردید کے لیے اپنا آخری لفظ استعمال کرچکے ہوں۔