Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
ٱلَّذِينَ يُظَٰهِرُونَ مِنكُم مِّن نِّسَآئِهِم مَّا هُنَّ أُمَّهَٰتِهِمۡۖ إِنۡ أُمَّهَٰتُهُمۡ إِلَّا ٱلَّـٰٓـِٔي وَلَدۡنَهُمۡۚ وَإِنَّهُمۡ لَيَقُولُونَ مُنكَرٗا مِّنَ ٱلۡقَوۡلِ وَزُورٗاۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٞ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں ان کی بیویاں ان کی مائیں نہیں ہیں، ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے یہ لوگ ایک سخت ناپسندیدہ اور جھوٹی بات کہتے ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے
English (Sahih International)
Those who pronounce thihar among you [to separate] from their wives - they are not [consequently] their mothers. Their mothers are none but those who gave birth to them. And indeed, they are saying an objectionable statement and a falsehood. But indeed, Allah is Pardoning and Forgiving
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 2 { اَلَّذِیْنَ یُظٰہِرُوْنَ مِنْکُمْ مِّنْ نِّسَآئِہِمْ مَّا ہُنَّ اُمَّہٰتِہِمْ } ”اے مسلمانو ! تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں کو مائیں کہہ بیٹھتے ہیں ‘ وہ ان کی مائیں نہیں بن جاتی ہیں۔“ جس طرح کسی کو کوئی بیٹا کہہ دے تو وہ اس کا بیٹا نہیں بن جاتا اور جس طرح منہ بولے بیٹے کی کوئی قانونی و شرعی حیثیت نہیں اسی طرح زبان سے اگر کوئی اپنی بیوی کو اپنی ماں کہہ دے تو ایسے کسی دعوے یا جملے کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔ { اِنْ اُمَّہٰتُہُمْ اِلَّا اللّٰٓئِیْ وَلَدْنَہُمْ } ”ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے انہیں جنا ہے۔“ { وَاِنَّہُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْکَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُوْرًا } ”البتہ یہ لوگ ایک نہایت ناپسندیدہ اور جھوٹی بات کہتے ہیں۔“ یہ لوگ اپنی بیویوں کو اپنی مائیں کہہ کر ایک نہایت بےہودہ ‘ شرمناک اور نامعقول بات منہ سے نکالتے ہیں۔ پھر یہ بات جھوٹی بھی ہے کہ ان کی بیویاں ان کے لیے اب مائیں ہوگئی ہیں۔ { وَاِنَّ اللّٰہَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ۔ } ”اور یقینا اللہ بہت معاف فرمانے والا ‘ بہت بخشنے والا ہے۔“ ان الفاظ میں یہ اشارہ دے دیا گیا کہ ظہار سے متعلق چونکہ ابھی تک کوئی قانون نازل نہیں ہوا تھا ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ مذکورہ صحابی رض کو اس معاملے میں معاف فرما دے گا ‘ بلکہ اس سے پہلے جس کسی سے بھی یہ حرکت سرزد ہوئی ‘ اللہ تعالیٰ اس سے درگزر فرمائے گا۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 2 to 4.
اسلام میں صورت اور حقیقت کے درمیان فرق کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اس قدیم رواج کو تسلیم نہیں کیا کہ جو عورت حقیقی ماں نہ ہو وہ محض ماں کا لفظ بول دینے سے کسی کی ماں بن جائے۔ اس قسم کا فعل ایک لغوبات تو ضرور ہے مگر اس کی وجہ سے فطرت کے قوانین بدل نہیں سکتے۔
قرآن میں بتایا گیا کہ محض ظہار سے کسی آدمی کی بیوی پر طلاق نہیں پڑے گی۔ البتہ اس آدمی پر لازم کیا گیا کہ وہ پہلے کفارہ ادا کرے۔ اس کے بعد وہ دوبارہ اپنی بیوی کے پاس جائے۔ کسی غلطی کے بعد جب آدمی اس طرح کفارہ ادا کرتا ہے تو وہ دوبارہ اپنے یقین کو زندہ کرتا ہے۔ وہ اس اصول میں اپنے عقیدہ کو از سرِ نو مستحکم بناتا ہے جس کو وہ غفلت یا نادانی سے چھوڑ بیٹھا تھا۔