Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
۞أَلَمۡ يَأۡنِ لِلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَن تَخۡشَعَ قُلُوبُهُمۡ لِذِكۡرِ ٱللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ ٱلۡحَقِّ وَلَا يَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلُ فَطَالَ عَلَيۡهِمُ ٱلۡأَمَدُ فَقَسَتۡ قُلُوبُهُمۡۖ وَكَثِيرٞ مِّنۡهُمۡ فَٰسِقُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اُن کے دل اللہ کے ذکر سے پگھلیں اور اُس کے نازل کردہ حق کے آگے جھکیں اور وہ اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ایک لمبی مدت اُن پر گزر گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے اور آج ان میں سے اکثر فاسق بنے ہوئے ہیں؟
English (Sahih International)
Has the time not come for those who have believed that their hearts should become humbly submissive at the remembrance of Allah and what has come down of the truth? And let them not be like those who were given the Scripture before, and a long period passed over them, so their hearts hardened; and many of them are defiantly disobedient
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
اب اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ ہر اس شخص سے سوال کر رہے ہیں جس نے اب تک کی یہ سب باتیں پڑھ کر یا سن کر اپنے دل میں اتار لی ہیں۔ سوال و خطاب کا یہ بہت جذباتی انداز ہے :آیت 16{ اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُھُمْ لِذِکْرِ اللّٰہِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ } ”کیا ابھی وقت نہیں آیا ہے اہل ایمان کے لیے کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کی یاد کے لیے اور اس قرآن کے آگے کہ جو حق میں سے نازل ہوچکا ہے ؟“ یہاں قرآن کے بارے میں فرمایا گیا : { وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ } یہی بات سورة بنی اسرائیل میں زیادہ ُ پرزور انداز میں فرمائی گئی ہے : { وَبِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰـہُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ } آیت 105 ”اور ہم نے اس کو نازل کیا ہے حق کے ساتھ اور یہ نازل ہوا ہے حق کے ساتھ۔“ دین یا نیکی کے معاملے میں فیصلہ کرتے ہوئے انسان ہمیشہ تاخیر و تعویق سے کام لیتا ہے کہ یہ کرلوں ‘ وہ کرلوں ‘ بس اس کے بعد اپناطرزِ زندگی درست کرلوں گا ! ابھی ذرا بچیوں کے ہاتھ پیلے کرلوں ! بس ذرا یہ بچوں کی تعلیم مکمل ہو لے وغیرہ وغیرہ۔ اور دیکھا جائے تو بچوں کی تعلیم ہے کیا ؟ صرف دنیا بنانے اور دنیا کمانے کے علم و فن کی تحصیل ! گویا جس کوئے ملامت کے طواف میں خود ساری عمر برباد کردی انہی راستوں پر اپنی اولاد کو گامزن کرنے کے خواب دیکھے جا رہے ہیں ! پھر یوں بھی ہوتا ہے کہ بچوں کے کیریئرز بنانے کے جنون میں انہیں کچی عمر میں برطانیہ اور امریکہ بھیجنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا۔ وہاں جا کر بچے جب ”ترقی“ کی منازل طے کرتے کرتے اس ”مقام“ پر پہنچ جاتے ہیں کہ مذہب و اخلاق سے اپنے تعلق کو باعث عار سمجھنے لگتے ہیں تو پھر یہ لوگ بیٹھ کر روتے ہیں اور لادینی تہذیب و تمدن کو کو ستے ہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کے اس سوال پر لازم ہے کہ ہم سب اپنے اپنے ضمیر کی عدالت میں پیش ہو کر خود سے پوچھیں کہ کیا ہماری زندگیوں میں وہ وقت ابھی نہیں آیا کہ ہم اللہ اور قرآن کے احکام کے سامنے جھک جائیں ؟ { وَلَا یَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلُ } ”اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جنہیں پہلے کتاب دی گئی تھی“ { فَطَالَ عَلَیْھِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُھُمْ } ”تو جب ان پر ایک طویل مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہوگئے۔“ یہاں پر { فَقَسَتْ قُلُوْبُھُمْ } کے یہ الفاظ پڑھتے ہوئے سورة البقرۃ کی آیت 74 کا وہ حصہ بھی ذہن میں تازہ کرلیں جس میں بنی اسرائیل کو مخاطب کرکے فرمایا گیا : { ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُـکُمْ مِّنْم بَعْدِ ذٰلِکَ فَہِیَ کَالْحِجَارَۃِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَۃً } ”پھر تمہارے دل سخت ہوگئے اس سب کچھ کے بعد ‘ پس اب تو وہ پتھروں کی مانند ہیں ‘ بلکہ سختی میں ان سے بھی زیادہ شدید ہیں۔“ { وَکَثِیْرٌ مِّنْھُمْ فٰسِقُوْنَ۔ } ”اور ان کی اکثریت اب فاسقوں پر مشتمل ہے۔“ آیت زیر مطالعہ کے الفاظ { وَلَا یَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَـبْلُ } میں واضح طور پر بتادیا گیا کہ بنی اسرائیل بھی تمہاری طرح اپنے زمانے کی امت ِمسلمہ تھے۔ ان کی روش کو بھی تم جانتے ہو اور ان کے انجام سے بھی تم آگاہ ہو۔ دیکھ لو ! اگر تم نے اب بھی توبہ نہ کی اور اپنی روش تبدیل نہ کی تو یہ مت بھولو کہ ان کی طرح تمہیں بھی نشان عبرت بنایا جاسکتا ہے۔ اس ڈانٹ کے بعد اب اگلی آیت میں ہمت افزائی کی جا رہی ہے کہ دیکھو ! اگر تم سمجھتے ہو کہ تمہارے دل کی ”زمین“ ایمان کی فصل کے قابل نہیں رہی ‘ تو بھی تمہیں گھبرانے یا مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 16 and 17.
یہ آیتیں جس وقت نازل ہوئیں اس وقت اسلام اگرچہ مادی قوت نہیں بنا تھا۔ مگر دلائل اور تنبیہات کا زور اس وقت بھی پوری طرح اس کی پشت پر موجود تھا۔ ایسی حالت میں جو شخص دلائل کا زور محسوس نہ کرے اور خدائی تنبیہات جس کو ہلانے والی نہ بن سکیں وہ اپنے اس عمل سے صرف یہ ثبوت دے رہا ہے کہ وہ بے حسی کے مرض میں مبتلا ہے۔ مٹی میں پانی ملنے کے بعد تروتازگی پیدا ہوجاتی ہے۔ پھر انسان اگر کھلے کھلے دلائل کو سن کر بھی نہ جاگے تو یہ کیسی عجیب بات ہوگی۔