Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
فَلَوۡلَآ إِذَا بَلَغَتِ ٱلۡحُلۡقُومَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
تو جب مرنے والے کی جان حلق تک پہنچ چکی ہوتی ہے
English (Sahih International)
Then why, when the soul at death reaches the throat
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
جیسا کہ قبل ازیں بھی بار بار ذکر ہوا ہے کہ سورة الرحمن اور سورة الواقعہ باہم جوڑا ہیں اور ان کے مضامین بھی باہم مشابہ و مربوط ہیں۔ البتہ زیر مطالعہ آیات کا مضمون صرف اسی سورت میں آیا ہے۔ اس کے مقابل سورة الرحمن میں ایسا کوئی مضمون نہیں ہے۔ گویا یہ مضمون اس سورة کی اضافی شان ہے۔آیت 83{ فَلَوْلَآ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَ۔ } ”تو کیوں نہیں ‘ جب جان حلق میں آ کر پھنس جاتی ہے۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 83 to 96.
موت کا واقعہ اس بات کا آخری ثبوت ہے کہ انسان خدائی طاقتوں کے آگے بالکل بے بس ہے۔ ہر آدمی لازماً ایک مقررہ وقت پر مر جائے گا، اور کوئی نہیں جو اس کو موت کے فرشتے سے بچا سکے۔ایسی حالت میں آدمی کو سب سے زیادہ موت کے بعد کے مسئلہ کے بارے میں فکر مند ہو نا چاہيے۔ موت سے پہلے کی زندگی میں جن لوگوں نے جنت والے اعمال کيے ہیں ان کو موت کے بعد کی زندگی میں جنت ملے گی۔ اس کے برعکس، جولوگ دنیا میں خدا سے دور تھے وہ آخرت میں بھی خدا کی رحمتوں سے دور رکھے جائیں گے۔ ان کی ضیافت کے ليے وہاں گرم پانی ہے اور ان کے رہنے کے ليے وہاں آگ کی دنیا۔