Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 55:32 Prev 55:30


Arabic

سَنَفۡرُغُ لَكُمۡ أَيُّهَ ٱلثَّقَلَانِ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اے زمین کے بوجھو، عنقریب ہم تم سے باز پرس کرنے کے لیے فارغ ہوئے جاتے ہیں


English (Sahih International)

We will attend to you, O prominent beings


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 31{ سَنَفْرُغُ لَـکُمْ اَیُّـہَ الثَّقَلٰنِ۔ } ”ہم جلد ہی فارغ ہوجائیں گے تمہارے لیے ‘ اے دو بھاری قافلو !“ اس آیت میں اشارۃً اور آگے آیت 33 میں باقاعدہ نام لے کر تثنیہ تُکَذِّبٰن کے صیغے کی وضاحت کردی گئی کہ اے جن وانس کے قافلوں کے افراد ! ہم تم سے مخاطب ہیں۔ یاد رکھو ! تم دونوں گروہ اپنے اعمال کے لیے ہمارے سامنے جواب دہ ہو۔ یاد رکھو ! ہم اس کائنات کو ”مہلت“ کے اصول پر چلا رہے ہیں۔ اس کے لیے ہم نے کائنات کی ایک عمر { اِلٰی اَجَلٍ مُّسَمًّی } مقرر کر رکھی ہے ‘ اسی اصول کے تحت ہر قوم کو بھی ہم ایک وقت معین تک مہلت دیتے ہیں : { لِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌج } الاعراف : 34 اور ہر فرد کو بھی۔ چناچہ ہماری عطا کردہ مہلت سے تم یہ مت سمجھو کہ تمہارا احتساب نہیں ہوگا ‘ بلکہ ہم عنقریب تم سب لوگوں کو اپنے حضور حاضر کرنے والے ہیں ‘ جہاں تمہیں اپنے ایک ایک عمل کا حساب دینا ہوگا۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 31 to 36.

موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ جب تک امتحان کی مدت ختم نہیں ہوتی ہر شخص سرکشی کرنے کے لیے آزاد ہے۔ مگر کامل آزادی کے باوجود کوئی جن و انس اس پر قادر نہیں کہ وہ کائنات کی حدود سے باہر چلا جائے۔ یہی واقعہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ انسان پوری طرح خدا کی گرفت میں ہے امتحان کی مدت ختم ہونے پر جب وہ لوگوں کو پکڑے گا تو کسی کے لیے ممکن نہ ہوگا کہ اس سے اپنے آپ کو بچا سکے۔


Connections

  • Previous: 55_30
  • Next: 55_32
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes