Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
۞كَذَّبَتۡ قَبۡلَهُمۡ قَوۡمُ نُوحٖ فَكَذَّبُواْ عَبۡدَنَا وَقَالُواْ مَجۡنُونٞ وَٱزۡدُجِرَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اِن سے پہلے نوحؑ کی قوم جھٹلا چکی ہے اُنہوں نے ہمارے بندے کو جھوٹا قرار دیا اور کہا کہ یہ دیوانہ ہے، اور وہ بری طرح جھڑکا گیا
English (Sahih International)
The people of Noah denied before them, and they denied Our servant and said, “A madman,” and he was repelled
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 9 { کَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نُوْحٍ } ”جھٹلایا تھا ان سے پہلے نوح کی قوم نے“ اب یہاں سے اس سورت میں انباء الرسل کا تذکرہ شروع ہو رہا ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے ‘ سورة النجم اور سورة القمر کا آپس میں جوڑے کا تعلق ہے۔ چناچہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ سورة النجم میں ”تذکیر بآلاء اللہ“ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور نعمتوں کے ذریعے تذکیر کا انداز تھا ‘ جبکہ اس سورت میں ”تذکیر بایام اللہ“ اور انباء الرسل کا تذکرہ ہے۔ بالکل یہی تقسیم اور یہی انداز اس سے پہلے ہم سورة الانعام اور سورة الاعراف کے مطالعے کے دوران بھی دیکھ چکے ہیں۔ سورة الانعام میں آلاء اللہ کے ذریعے تذکیر کی گئی ہے ‘ جبکہ سورة الاعراف میں انباء الرسل کا انداز ہے۔ اسی طرح یہ دونوں سورتیں بھی مل کر تذکیر و انذار کے دونوں پہلوئوں کی تکمیل کرتی ہیں۔ { فَـکَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَقَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّازْدُجِرَ۔ } ”تو انہوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا اور کہا کہ یہ تو مجنون ہے اور اسے جھڑک دیا گیا۔“ اس بدبخت قوم نے ہمارے جلیل القدر رسول علیہ السلام کو نہ صرف جھٹلا دیا بلکہ اس کے ساتھ اہانت آمیز سلوک روا رکھا۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 9 to 22.
قوم عاد جب خدا کے عذاب کی مستحق ہوگئی تو خدا نے ان پر ایسی تیز آندھی بھیجی جس میں لوگوں کا زمین پر ٹھہرنا مشکل ہوگیا۔ آندھی انہیں اس طرح اٹھا اٹھا کر پھینک رہی تھی کہ کوئی دیوار سے جا کر ٹکراتا تھا اور کوئی درخت سے۔ کسی کی چھت اس کے سر پر گر پڑی۔ یہ اس بات کا مظاہرہ تھا کہ انسان بالکل بے بس ہے، خدا کے مقابلہ میں اس کو کسی قسم کا اختیار حاصل نہیں۔