Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 54:47 Prev 54:45


Arabic

بَلِ ٱلسَّاعَةُ مَوۡعِدُهُمۡ وَٱلسَّاعَةُ أَدۡهَىٰ وَأَمَرُّ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

بلکہ اِن سے نمٹنے کے لیے اصل وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور وہ بڑی آفت اور زیادہ تلخ ساعت ہے


English (Sahih International)

But the Hour is their appointment [for due punishment], and the Hour is more disastrous and more bitter


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 46{ بَلِ السَّاعَۃُ مَوْعِدُہُمْ وَالسَّاعَۃُ اَدْہٰی وَاَمَرُّ۔ } ”بلکہ ان کے اصل وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور قیامت بہت بڑی آفت ہے اور بہت زیادہ کڑوی ہے۔“ عربی میں کڑوی چیز کو مُـرٌّ کہتے ہیں اور اَمَرُّ کے معنی ہیں بہت ہی زیادہ کڑوی۔ سیاقِ مضمون میں اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ حق و باطل کی اس کشمکش میں پے درپے شکست مشرکین عرب کا مقدر ہے۔ عنقریب 9 ہجری میں ان پر ایک ایسا وقت بھی آنے والا ہے جب جزیرہ نمائے عرب کی سرزمین ان پر تنگ ہوجائے گی۔ اس وقت ان کے پاس اسلام قبول کرنے یا حدود عرب سے باہر چلے جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ ایک مضبوط جمعیت اور اعلیٰ پائے کی جنگی صلاحیت کے باوجود ان کی یہ ہزیمتیں ‘ نقصانِ مال و جان اور ذلت و رسوائی اللہ کے عذاب ہی کی مختلف صورتیں ہیں۔ لیکن یہ تو چھوٹے چھوٹے عذاب ہیں اور دنیا کی زندگی کی حد تک عارضی نوعیت کی تکالیف ہیں۔ جبکہ انہیں بہت بڑے اور دائمی عذاب کا سامنا تو آخرت میں کرنا پڑے گا۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

The commentary on this ayah is given with ayah 54:43.


Connections

  • Previous: 54_45
  • Next: 54_47
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes