Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا كُلِّهَا فَأَخَذۡنَٰهُمۡ أَخۡذَ عَزِيزٖ مُّقۡتَدِرٍ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
مگر انہوں نے ہماری ساری نشانیوں کو جھٹلا دیا آخر کو ہم نے انہیں پکڑا جس طرح کوئی زبردست قدرت والا پکڑتا ہے
English (Sahih International)
They denied Our signs, all of them, so We seized them with a seizure of one Exalted in Might and Perfect in Ability
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 42 { کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا کُلِّہَا } ”انہوں نے ہماری تمام نشانیوں کو جھٹلا دیا“ سورة بنی اسرائیل کی آیت 101 میں ان نشانیوں کی تعداد نو 9 بتائی گئی ہے : { وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰی تِسْعَ اٰیٰتٍم بَـیِّنٰتٍ } ”اور ہم نے موسیٰ کو نو کھلی نشانیاں دیں“۔ ان میں دو نشانیاں تو آپ علیہ السلام کو ابتدا میں عطا ہوئی تھیں یعنی عصا کا اژدھا بن جانا اور ہاتھ کا چمکدار ہوجانا۔ جبکہ سات نشانیاں وہ تھیں جن کا ذکر سورة الاعراف کے سولہویں رکوع میں آیا ہے۔ یہ نشانیاں قوم فرعون پر وقتاً فوقتاً عذاب کی صورت میں نازل ہوتی رہیں۔ { فَاَخَذْنٰــہُمْ اَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ۔ } ”پھر ہم نے انہیں پکڑا ‘ ایک زبردست ‘ صاحب قدرت کا پکڑنا۔“ یعنی یہ کوئی معمولی اور کمزور پکڑ نہیں تھی کہ اس سے کوئی نکل بھاگتا ‘ بلکہ اس اللہ کی پکڑ تھی جو زبردست طاقت کا مالک ہے اور کائنات کے ہر معاملے میں اسے پوری قدرت حاصل ہے۔ ان پیغمبروں اور ان کی نافرمان قوموں کے انجام کا ذکر کرنے کے بعد اب روئے سخن حضور ﷺ اور کفارِ مکہ کی طرف پھیرا جا رہا ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 54:41.